آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

5اگست 2019کے واقعے کو ’یومِ استحصال‘ کے طور پر منانا کشمیر میں رونما ہونے والے حالات و واقعات اور اس سے جڑے تاریخی حقائق کی صحیح ترجمانی ہے، اس سے قطع نظر کہ وادی میں اس سے وابستہ احساسات کی کچھ خاص پذیرائی نہیں ہوئی- شاید اسلئے کہ کشمیریوں کیلئے یہ ان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب زخموں سے چور ان کے جسموں سے تار تار ہوئی قبا بھی زبردستی چھین لی گئی اور انہیں نہ صرف ہرطرح سے بےیارومددگار چھوڑا گیا بلکہ ان کی بیچارگی کا ملکی سطح پر جشن بھی منایا گیا- ایک سال کے مختصر عرصے میں خطے کے مسلم اکثریت کے کردار پر کاری ضرب لگادی گئی اور ہر ممکن طریقے سے مسلمانوں کو ایک اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئےکئی قوانین لاگو کردیے گئے- مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک سال سے مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے- ایک محتاط اندازے کے مطابق محصور کشمیریوں کے کاروبار کو لگ بھگ چھ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جس سے غربت میں کافی اضافہ ہوا ہے- مزید یہ کہ لاکھوں غیرکشمیریوں کو آباد کرنے کے پلان سے لوگ بےانتہا سہمے ہوئے ہیں اور انہیں کہیں سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی- ایسے حالات میں اگر ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کو ’استحصال‘ سے تعبیر کرکے ان کے حق میں ایک منٹ کی سرکاری خاموشی اختیار کی جائے تو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ موت کے محاصرے میں رہ رہے، لوگ اس صورتحال کو استحصال ہی سمجھ رہے ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ گزشتہ سال پانچ اگست کو ہونیوالا فیصلہ ان کی نسل کشی کی ابتدا کا اعلان ہے جس پر بھارتی ریاست کی جانب سے کھلے بندوں اور بڑی ڈھٹائی سے عملدرآمد شروع ہو چکا ہے-

کشمیر کے نام پر پہلے بھی خصوصی دن منائے جاتے رہے ہیں جن میں وہی لمبے لمبے بینر کے ساتھ افراد عوامی شاہراہوں پر نعرے بازی کرکے متوجہ کرتے ہیں- یومِ استحصال کشمیر پر بھی یہی کچھ ہوا۔ مظفر آباد کےایک صحافی نے وہاں پر ہونے والی تقاریب کا حال یوں بیان کیا ہے، سرکاری لوگ سرکار کے احاطے میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں- وزیراعظم اپنے وزراء اور ممبران اسمبلی کیساتھ اقوام متحدہ مبصر مشن تک آئے- پیپلز پارٹی اپنا الگ پروگرام نہ کرسکی تو لیڈروں نے سرکاری ریلی کا بینر پکڑ کر تصویریں اُتروائیں- جماعت اسلامی نے گیلانی چوک میں مودی کا دھواں اڑایا، مسلم کانفرنس کے اکا دکّا لوگ سرکاری دھرنے میں دیکھے گئے- لبریشن فرنٹ کے لوگوں نے پریس کلب کے سامنے تقاریر کیں، بیشتر سرکاری ملازمین نے چھٹی منائی، عام لوگ اس سارے معاملے میں لاتعلق نظر آئے- وزیراعظم عمران خان بھی مظفرآباد پہنچے- مراد سعید نے سرینگر ہائی وے کا افتتاح کیا، وزیراعظم نے پینا فلیکس پر مبنی دیوار مزاحمت کا افتتاح کیا- تصویریں بنیں، کیمرے چلے، بیان دیے گئے اور یوں یومِ استحصال منایا گیا-

اسی دن سہ پہر کو ایک دانش گاہ کی ورچوئل تقریب ہوئی جہاں اپنے آپ کو اکیڈمک کہنے والے ایک صاحب نے کشمیر پر بولنے کے بجائے حکومت کی سفارتی کامیابیوں کی ایک لمبی لسٹ پیش کی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)