آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سعودی عرب اس مرتبہ کورونا وائرس کی وَبا کے تناظر اور غیر معمولی حالات میں حج کے کامیاب انعقاد کے بعد اب سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ عمرے کی اجازت دینے پر بھی غور کررہا ہے۔سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ کے انڈر سیکریٹری ڈاکٹر حسین الشریف نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ آیندہ دو ہفتوں کے دوران میں تمام حج انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔عازمینِ حج کے لیے کووِڈ-19 کی وبا کے دوران میں حفظان صحت،ان کے قیام وطعام اور نقل وحرکت کے لیے کیے گئے انتظامات سے حاصل شدہ اسباق کو مرتب کیا جائے گا،حرمین شریفین کے امور کی ذمے دار پریذیڈینسی کے صدر الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے حج سیزن کو کامیاب قراردیا ہے اور کہا کہ حکام نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عازمینِ حج کی صحت کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں۔

دریں اثناء سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے یہ اعلان کیا ہے کہ کسی حاجی کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا ہے نیزسکیورٹی فورسزنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کسی بھی غیر قانونی شخص کو ایّام حج کے دوران میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔سعودی عرب نے اس مرتبہ کورونا وائرس کی وَبا کے پیش نظرحج کو محدود کردیا تھا اور صرف دس ہزار خوش نصیبوں نے فریضۂ حج ادا کیا۔ سعودی حکومت نے ان عازمینِ حج کا انتخاب ایک خودکار طریقے سے کیا تھا اور منتخب حاجیوں میں سعودی عرب میں مقیم مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی تعداد 70 فی صد تھی اور 30 فی صد سعودی شہری تھے۔ اس سال خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔ 

تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔وائرس کی وَبا کے پیش نظر اس مرتبہ حج کے ایّام میں بعض بڑے نادر اور منفرد واقعات پیش آئے ہیں جن کا عام حالات میں تصور بھی ممکن نہیں۔ایسے واقعات میں تازہ اضافہ ایک تنہا مسلم خاتون کی کعبۃ اللہ کے سامنے عبادت وریاضت ہے اور ان کے ساتھ مطاف میں کوئی دوسرا فرد نظر نہیں آرہا ہے۔اس خاتون کی کعبۃ اللہ کے سامنے دعا کرتے ہوئے ایک تصویر منظرعام پر آئی ہے۔ایسے منفرد واقعات حضرت آدم علیہ السلام کے روئے زمین پر آنے کے بعد شاذ ہی رونما ہوئے ہیں کہ کسی مومن نے تنہا کعبۃ اللہ کا طواف کیا ہوگا اور اس کے سائے میں اس طرح تنہائی میں عبادت کی ہوگی۔

آج کے دور میں عام حالات میں تو ایسا ممکن نہیں کہ ایک خاتون کو اس طرح تنہا بیت اللہ کے طواف اور وہاں عبادت وریاضت کا موقع مل جائے کیونکہ حج کے ایّام میں بالعموم بیس لاکھ سے زیادہ فرزندانِ اسلام مکہ مکرمہ میں ہوتے ہیں اور دن رات ہزاروں افراد بیت اللہ کے طواف میں مصروف ہوتے ہیں یا وہاں نمازیں ادا کررہے ہوتے ہیں لیکن اس مرتبہ تعداد اتنی نہیں تھی۔کعبۃ اللہ میں تنہا خاتون کی تصویر سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے کے بعد بہت سی خواتین نے اس حسرت کا اظہار کیا ہے کہ کاش انھیں بھی ایسا کوئی موقع مل جائے کہ وہ مطاف میں بیت اللہ کے سائے میں ہوں اور وہاں کوئی دوسرا نہ ہو۔

سعودی عرب کی 17 ہزار سے زاید جامع مساجد میں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی گئی۔ عید کے لیے مقرر کردہ مقامات، عید گاہوں، مساجد اور دیگر کھلے مقامات پر کورونا وائرس سے بچائو کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ تمام مساجد میں عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے سعوی وزارت مذہبی امور اور وزارت صحت کے وضع کردہ پروٹوکول پر مکمل عمل درآمد کرایا گیا۔

نماز سے قبل علما نے اپنے خطبات میں شہریوں کو کورونا وبا کے پیش نظر حفاظتی انتظامات اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنےکی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حجاج کرام کو فریضہ حج کی ادائی کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی کوششوں کی تحسین کی۔خطاب میں علما نے ایام تسشریق کے فضائل، حجاج اور غیر حجاج کے لیے عید کے موقعے پر شرعی احکامات پر روشنی ڈالنے کے ساتھ کثرت کے ساتھ دعائوں اور نوافل کے اہتمام کی تلقین کی۔

’’محدود حج‘‘، کامیاب تجربہ
جدہ:’’یوم استحصال کشمیر‘‘کے موقعے پر سیمینار کا منظر

سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم استحصال کشمیر پر ’ویبینار‘ کا انعقاد ہوا،جس کا مقصدمسئلہ کشمیرکے مختلف پہلووں، انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور وہاں ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنا تھا۔پاکستان نے کشمیر کاز اور کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا ۔ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کے تحت منعقدہ ’ویبینار‘ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف،سابق مشیر قومی سلاتمی لیفٹینٹ جنرل ناصر جنجوعہ، انڈیا میں پاکستان کےسابق سفیر عبدالباسط خان ،پاکستان میں سابق سعودی سفیرعلی عواض العسیری، سابق سعودی سفارتکارعلی الغامدی، سابق ہائی کمشنر اور تجزیہ نگار اکبر ایس احمد ، کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعل ملک، فلسطینی نمائندے، پاکستانی، کشمیری اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے ویبینار کے شرکا کو آگاہ کیا کہ’ حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کےحل لیے جارحانہ سیاسی اور سفارتی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کشمیریوں کی حالت زار پر بین الاقوامی برادری بھی بیدار ہوئی ہے۔ نیویارک میں ٹائمز اسکوائر سمیت د نیا کے بڑے دارالحکومتوں میں جاری نمائشیں، عالمی اخبارات اور جرائد میں آرٹیکلز اور تصاویر اس کی گواہی دے رہے ہیں‘۔سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز نے کہا کہ ’کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کئی قراردادوں کے ذریعے اس کی توثیق کی ہے۔

پاکستان قونصلیٹ جدہ میں ’یوم استحصال کشمیر‘ پر تقریب میں انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر میں مظالم سے متعلق مختصر دستاویزی فلم پیش کی گئی۔صدر ، وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پیغاما ت پڑھ کر سنائے گئے۔ اس موقع پر پاکستان کا نیا نقشہ بھی اسکرین پر دکھایا گیا۔قونصل جنرل خالد مجید نے اپنے خطاب میں گزشتہ سال 5 اگست کو انڈیا کی غیرقانونی اور یکطرفہ کارروائیوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کو پنجرے میں تبدیل کرنے کے باوجود انڈیا آزادی پسند کشمیری عوام کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔تقریب کا اختتام کشمیریوں کے جائز حق خود ارادیت کی کامیابی کے لیے دعا پر ہوا۔ ایک اور تقریب کشمیر کمیونٹی اوورسیز نے منعقد کی، جس میں زور دے کر کہاگیا کہ بھارت ظلم و جبر کا سلسلہ بند کرے اور کشمیر میں محاصرے کو ختم کرے۔ 

کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انکا حق رائے دہی دیا جائے۔ آن لائن تقریب کی صدارت چیئرمین جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز سردار اشفاق نے کی مہمان خصوصی قونصل جنرل جدہ خالد مجید اور او آئی سی میں مستقل مندوب رضوان سعید شیخ تھے۔ میزبانی کے فرائض سردار وقاص عنایت اللہ نے سرانجام دیئے۔انھوں نے کہا کہ بھارت اوچھے ہتھکنڈوں اور ظلم و بربریت کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کرنے کا جو خواب دیکھ رہا ہے وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔تقریب میں دیگر جن مقررین نے خطاب کیا ان میں عارف مغل، راجہ شمروز، سردار مہتاب، چوہدری معروف حسین، سردار ابرار، امیر محمد خان، سردار اقبال، مسعود پوری شامل ہیں۔

ہندستان کے جابرانہ تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے اور بعد ازاں پیدا ہونے والی صورتحال اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے آن لائن ویبمینار ترتیب دیا گیا جس میں پاکستانی کمیونٹی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے سرکردہ افراد نے شرکت کی۔ شرکت کرنے والے خصوصی مہمانوں میں جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کے امیر جناب علامہ سعید یوسف اور کونسل جنرل جدہ خالد مجید شامل تھے۔جمعیت علماء اسلام سعودی عرب کی طرف سے انجینئر محمد عبدالصبور نے ویبمنار کے انعقاد کا مقصد بیان کیا اور تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

بلادی سے مزید