آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم کی مصروفیات

اسلامی جمہوریہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلسل جدوجہد اور قانونی جنگ کا ثمر تھا۔ انھوں نے اپنی سیاسی و قانونی بصیرت کا مظاہرہ کرکے برِصغیر کے نقشے پر ایک آزاد مملکت پاکستان کا قیام ممکن کردکھایا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں پانچ اہم امور سے روشناس کرایا۔ ایک متفق آئین، دوسرافوج میں اتحاد و یگانگت، تیسرا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح( جس کے بعد اپنی کرنسی چھاپنے کی راہ کھلی)، چوتھا مہاجرین کی بحالی اور پانچواں امن و محبت اور یگانگت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کےفروغ پر مبنی خارجہ پالیسی۔ اس کے علاوہ مملکت چلانے کے تین زریں اصول ’’تنظیم، اتحاد اور ایمان‘‘ مرتب کرتے ہوئے صرف کام،کام اور کام کو اپنانے پر زور دیا۔

بحیثیت گورنر جنرل پاکستان حلف برداری

15اگست1947ء کو قائداعظم نے سفید شیروانی میں ملبوس ہوکر پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب کے بعد انھیں 31 بندوقوں کی سلامی دی گئی۔ اگلے مرحلے میں پاکستان کی پہلی کابینہ نے حلف اٹھایا اور نوابزادہ لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیراعظم مقرر کیے گئے۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر کو صنعت و پیداوار، ملک غلام محمد کو خزانہ، سردار عبدالرب نشتر کو کمیونیکیشن، راجا غضنفر علی خان کو خوراک، زراعت و صحت، جوگندرا ناتھ منڈل کو قانون اور محنت جبکہ میر فضل الرحمٰن کو داخلہ، معلومات و تعلیم کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا۔

پاکستان کی سرکاری زبان اُردو

جب مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ خواجہ ناظم الدین تھے، اس وقت بنگال کے عوام نے مطالبہ کیا کہ ریاست کی قومی زبان اردو نہیں بلکہ بنگالی ہونی چاہیے۔ حالات کو قابو کرنے کے لیے قائداعظم ڈھاکہ تشریف لے گئے اور24مارچ 1948ء کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’عوام کو صوبے کی زبان اپنی مرضی سے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن پورے ملک میں رابطے کی ایک ہی زبان ہونی چاہیے ۔ اُردو کو ہی قومی زبان کا درجہ حاصل ہونا چاہیے کیونکہ ملک کی تمام اکائیاں اردو سے بخوبی واقف ہیں‘‘۔

بینک دولت پاکستان کا افتتاح

یکم جولائی 1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا۔ 30دسمبر1948ء کو برطانوی حکومت نے برصغیر کے ریزرو بینک آف انڈیا کے اثاثوں کا 70فیصد ہندوستان کو دیا جبکہ پاکستان کے حصے میں محض30فیصد آیا۔ اس وقت ریزرو بینک آف انڈیا کی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی ایک نجی بینک تھا۔

نوابی ریاستوں کا پاکستان سے الحاق

پاکستان میں موجود تمام نوابی ریاستوں نے قائد اعظم کی کرشماتی شخصیت اور سیاسی تدبر کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ حیدرآباد دکن، جونا گڑھ اور جموں و کشمیر کی عوام کے پاکستان میں شمولیت کی خواہش کے برعکس بھارت نے وہاں غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ پاکستان میں واقع ریاستوں کے نوابین سے ملاقات کے لیے قائد اعظم نے طوفانی دورے کیے۔ آزادی ہند1947ء قانون کے تحت برطانیہ کی برصغیر سے واپسی پر سینکڑوں نوابی ریاستیں برطانوی راج کے ساتھ کیے گئے معاہدوں سے مکمل آزاد ہو گئیں۔ نو آزاد ریاستیں بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے آزاد تھیں، بصورت دیگر ان کو یہ اختیار بھی تھا کہ وہ دونوں ممالک سے الحاق کے بغیر خود مختار ریاست کے طور پر رہیں۔ 

والی سوات، مینگل عبدالودود اگست 1947ء میں پاکستان سے الحاق کرنے والے پہلے حکمران بنے۔ خاندان کے آخری والی مینگل جہانزیب1969ء تک مکمل حکمرانی کرتے رہے۔ خیرپور کے حکمران عامر علی مراد دوم نے 3اکتوبر 1947ء کو پاکستان سے الحاق کیا۔ اس کے علاوہ 5 اکتوبر 1947ء کو بہاولپور کے نواب، صادق محمد خان پنجم نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا، یوں وہ پاکستان سے الحاق کرنے والے تیسرے حکمران بنے۔ مہتار چترال مظفر الملک نے ویسے تو15اگست 1947ء کو پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا، تاہم رسمی طور پر الحاق 6اکتوبر 1947ء تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔18 نومبر 1947ء کو نگر، جو کشمیر کے شمال میں ایک اور چھوٹی وادی ریاست تھی، جس میں ہنزہ کی زبان اور ثقافت مشترک تھی، نے پاکستان سے الحاق کرلیا۔ 31دسمبر 1947ء کو نواب امب، محمد فرید خان نے پاکستان سے الحاق کر لیا۔ 1969ء تک امب پاکستان کے اندر ایک خود مختار ریاست کے طور پر قائم رہی۔ نواب کی وفات کے بعد اسے شمال مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختونخوا) میں شامل کردیا گیا۔ 

ریاست دیر کے نواب جہان خان نے 1947ء میں پہلی کشمیر جنگ میں پاکستان کی حمایت میں اپنی افواج کو بھیجا تھا، لیکن پاکستان سے الحاق 18فروری 1948ء کو عمل میں آیا۔ امب کے قریب ’پھلرا‘ ایک چھوٹی نوابی ریاست تھی، اسے شمال مغربی سرحدی صوبے میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد خانیت قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ کے حکمرانوں نے اعلان کیا کہ وہ سب پاکستان کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں قائد اعظم کی وجہ سے ہی ممکن ہوئیں۔

خارجہ پالیسی

قائد اعظم ؒ اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے حامی تھے، جس کے لیے 13اگست کو ایک نمائندہ امریکا بھیجا گیا۔ امریکا سے تعلقات استوار کرنے کا کام ابوالحسن اصفہانی کو سونپا گیا کہ وہ امریکا کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں بروئے کار لائیں۔قائد اعظم ؒ نے ایک وفد فلسطین بھی انٹر پارلیمینٹری ورلڈ کانگریس کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ کیا، جس کی سربراہی عبدالرحمٰن صدیقی نے کی۔ 

11 مارچ 1948ء کو سوئٹرزلینڈ کےایک جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئےقائد اعظم ؒ نےبھارت سے دوستانہ روابط پر زور دیتے ہوئے خارجہ تعلقات کی پالیسی امن و رواداری پر مبنی ہونے کی شنید دی۔ اس کے علاوہ برطانیہ، امریکا، افغانستان، برما، سری لنکا، آسٹریلیا، فرانس، ترکی، چین، روس، عرب دنیا، ایران، عراق، یورپ کے تمام اہم ممالک سے خارجہ تعلقات کی بنیاد ’’امن و محبت اور رواداری‘‘ کے رہنما اصولوں پر رکھی۔