آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کے روز بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں غریب عوام کی دسترس میں لانے کے حوالے سے جن اقدامات کی ہدایات دیں، ان سے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ہر اس فرد کی غیر معمولی توقعات وابستہ ہیں جو مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے۔ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں کئے گئے فیصلوں کے باعث معیشت کی زبوں حالی کا عذر ہو یا کورونا جیسی عالمی وبا سے دنیا بھر کا کاروبار ٹھپ ہو جانے کے اثرات۔ اس غریب ملک کے غریب آدمی کی مشکلات ایسے مقام پر پہنچی نظر آرہی ہیں جہاں فوری طور پر بعض اقدامات ضروری ہوچکے ہیں۔ یوں تو عشروں سے لوگوں کو ضروریات زندگی سستے داموں فراہم کرنے کے اعلانات کئے جاتے رہےہیں مگر ان کے باوجود پورے پورے گائوں کے لوگوں کے اپنے گردے فروخت کرنے، بچوں کو فروخت کے لئے بازار میں لانے، سستے آٹے کے حصول کے لئے گھنٹوں قطار میں کھڑے افراد کے جان سے گزرنے اور ماں باپ کی بچوں سمیت خود کشی کی خبریں بھی اخبارات میں چھپتی رہی ہیں ۔ اسی بنا پر 2018ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کےنعرے اور وعدے عام لوگوں کے لئے توجہ اور کشش کا سبب بنے۔ لوگ ایسی تبدیلی چاہتے تھےجس میں انہیں اور ان کے بچوں کو دو وقت کی روٹی مل سکے، جس میں انہیں حصول روزگار کے مواقع میسرآئیں اور دستیاب

وسائل میں زندگی گزارنا آسان ہو جائے۔ مگر دو سال کے دوران ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوششوں اور بعدازاں کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کا کاروبار ٹھپ ہونے کے باعث عام لوگ بھوک پیاس سمیت محرومیوں کے دکھ سہنے کے باوجود صبر ، استقامت اور قناعت کا مظاہرہ کرتے رہے جبکہ معاشی ابتری اور مشکلات کے انہی دنوں میں مختلف اقسام کی مافیائیں عوام کا خون چوستی رہیں جہاں تک حکومت کا تعلق ہے اس کے’’پناہ گاہوں‘‘ اور ’’لنگر خانوں‘‘ جیسے بظاہر معمولی اقدامات، احساس پروگرام، ضعیف العمری کی (ای او بی آئی) پنشن میں اضافے جیسے فیصلوں سے اس کی سوچ اور سمت کا اندازہ تو ہوتا رہا مگر غذائی اشیا سمیت زندگی کی انتہائی اہم ضرورتوں کے لئے ترسنے والے غریب اورمتوسط طبقے ، خصوصاً تیزی سے خطِ غربت سے نیچے جانے والے افراد کے لئے زندگی گزارنا مشکل تر ہوچکا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت کے حامل ملکوں سمیت دنیا بھر میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ معاشی طور پر کمزور طبقے کے افراد کو سرکاری سبسڈی کے ساتھ کھانے پینے کی اشیا ،روزمرہ ضرورت کی ناگزیر چیزیں ، علاج معالجے اور تعلیمی سہولتوں کی ان کے محدود وسائل میں فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وطن عزیز میں عرصہ قبل نامعلوم وجوہ سے ختم کئے گئے راشن ڈپوئوں کا نظام اگرچہ استعماری دور میں قائم ہوا تھا مگر ہر گلی محلے میں کئی لوگوں کو ان ڈپوئوں میں خود روزگاری اور ملازمت کی سہولت حاصل ہوجاتی تھی اور عام لوگوں کو انکے گھروں کے قریب سرکار کی مقررکردہ مقدار میں مقررہ نرخوں پر ضروری اشیا دستیاب رہتی تھیں جبکہ راشن کارڈ اور محکمہ خوراک کے فراہم کردہ رجسٹروں میں ان کے اندراج کے باعث سبسڈی میں خوردبرد کا کوئی امکان بھی نہیں رہتا تھا۔ اب وزیراعظم عمران خان نے 17بنیادی اشیا کی قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ کے دوران روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بہرصورت کم کرنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے ، اس کا قابل عمل اور آسان میکنزم میسر آیا تو لوگ عمران خان کو دعائیں دیں گے۔ یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جانی چاہئے کہ بجلی ، گیس، تعلیم اور علاج معالجے کی سہولتیں آج کے زمانے میں لازمی ضرورتوں کا حصہ ہیں۔ ان سب کے بارےمیں موثر حکمت عملی وضع کی جانی چاہئے۔