آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دہشت گردی کی نئی لہر پولیس اہلکار نشانے پر

اس بات سے تو کوئی ذی شعور انکاری نہیں ہو سکتاہے کہ شہر کی روشنیوں کی بحالی اور امن کے قیام میں پاکستان رینجرز اور پولیس نے اپنی جانوں کےنذرانے دے کر کلیدی کردار اداکیا ہے ۔دہشت گردوں اور علیحدگی پسند عناصر ملک خصوصاً کراچی میں امن و امان کی فضا مکدر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے۔ اس سلسلے میں شہر میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔ شہر میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے میں مصروف پولیس اہل کار ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ گزشتہ دنوں دہشت گردوں نے کئی مقامات پرنہ صرف رینجرز کے جوانوں بلکہ ان کی چوکیوں پر بھی دستی بم حملے کیے ،لیکن وہ اپنےمذموم مقاصد میں ناکام رہے ۔

5اگست کوانہوں نے گلشن ا قبال یونیورسٹی روڈپر بیت المکرم مسجد کے قریب جماعت اسلامی کی’’ یوم استحصال کشمیر ریلی‘‘ میں دستی بم حملہ کیا۔ اس حملے میں ریلی میں شریک 35 ا فراد زخمی ہوگئے ۔بعد ازاں جماعت اسلامی قائدآباد کے ناظم 55سالہ رفیق تنولی زخموں کی تاب نہ لاکر 6اگست کو شہید ہوگئے ۔ ابھی ریلی پر کریکر حملے کی بازگزشت جاری تھی کہ ملک دشمن عناصرنے گلشن حدید فیز ون میں جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف افرادکو نشانہ بنایا۔ 

پاکستانی پرچم اور جھنڈیوں کے اسٹال پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کریکر پھینک کر فرار ہوگئےجو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔کریکر حملے کے نتیجے میں خاتون سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ دونوں کریکر حملوں سے واضح ہو گیا ہے کہ یہ ملک دشمن سازش اور بیرونی ایجنڈ ے پر کام ہو رہاہے ۔ جبکہ تفتیشی ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ گلشن اقبال میں یوم استحصال کشمیر ریلی اور گلشن حدید میں جشن آزادی منانے والوں پر حملے سے واضح ہو گیا ہے کہ شہر میں تواتر کے ساتھ ہونے والے کریکر حملوں میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔ 

گلشن حدید کےرہائشیوں کا کہنا ہے کہ جس مقام پر یہ واقعہ ہوا ہے وہاں ماضی میں ایک قوم پرست تنظیم کا اثر و رسوخ تھا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 14اگست سے قبل رینجرز ،پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اعلی حکام کی جانب سے مرتب کی گئی حکمت عملی کے باعث غیر ملکی ایجنٹوں اور ملک دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے اور پا کستانی قوم نے پہلے سے زیادہ ملی جوش و جذبے کے ساتھ تادیر جشن آزادی منا کر تاریخ رقم کردی ہے ۔

دوسری جانب رواں ماہ میں رونما ہونے والے چند دلخراش واقعات کا ذکر کر نا بھی ازحد ضروری ہے ؕ۔ اب ایک مرتبہ پھرپولیس دہشت گردوں کے نشانے پر آگئی ہے۔ 13اگست کی شب فیڈرل بی ایریا کریم آبادفلائی اوور کے نیچے ٹریفک پولیس اہلکا ر کو نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا اور،فرار ہوگئے ۔ 2 ماہ کے دوران پولیس اہلکاروںکی ٹارگٹ کلنگ کا یہ پانچواں واقعہ ہے ۔ دہشت گردوں کا نشانہ بننے والا ہیڈکانسٹیبل 45سالہ محمد علی ولد سید علی رضوی کریم آباد فلائی اوور کے نیچے قائم عزیزآباد ٹریفک چوکی میں تعینات تھا اواس وقت نائٹ ڈیوٹی پر آیا ہی تھا کہ موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ کرد ی۔

دو گولیاں اس کے سینے پر لگیں جس کی تاب نہ لاکر وہ شہید ہوگیا۔ ٹارگٹ کلرز کی پلاننگ کا اندزہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے واردات کی تکمیل کےایسے دن اور وقت ایسا منتخب کیا جب عوام سمیت کراچی پولیس 14اگست کے حوالے جمعرات کو ہو نے والے پروگراموں اور ریلیوں کی سیکیورٹی میں مصروف تھے۔

گزشتہ دنوں گلشن حدید فیز ون میں واقع گھر میں خاتون سمیت 3 معصوم بچوں کی مبینہ ہلاکت کے واقعہ میں مقتو لہ خاتون کے شوہر بینک افسر عابد علی سومرو کو اسٹیل ٹاون تفتیشی پولیس نے گرفتار کر کے سرکار کی مدعیت میں مقدمہ مقدمہ درج کرکےگرفتا ر کر لیا۔ملزم نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ وقوعہ والےروز میں شہر سے باہر تھا اور میرے رشتہ داروں نے ان کی ہلاکت کی خبر دی تھی ۔ قبل ازیں میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی تھی کہ عاصمہ نامی خاتون نے 3 معصوم بچوں 8 سالہ جویریہ، 5 سالہ علیشا اور3 سالہ باقر کو ز ہریلی دوا پلانے کے بعد خود بھی گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی ہے۔

لیکن جب پولیس کے تفتیش کاروں نے با اس واقعے کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو اصل حقائق سامنے آئے جس پر مقتولہ کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ۔ بلوچ کالونی میں واقع عمارت کی دوسری منزل سے نوزائیدہ بچی کو پھینکنے کا واقعہ بھی رونما ہو، لیکن بچی معجزانہ طور پر بچ گئی،پولیس نے ایک خاتون اور اس کے والد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس مکان کی دوسری منزل سے بچی کو پھینکا گیا مذکورہ خاتون اور اس کا باپ اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق بچی کو جنم دینے والی خاتون غیر شادی شدہ ہے۔

آ ئی آئی چندیگر روڈ پر پولیس نےڈاکو سمجھ کر شہری پر فائرنگ کردی جس سے ایک شخص جاں بحق اور دوسرا زخمی ہو گیا ۔۔وزیر اعلی سندھ نے واقعہ کا نوٹس لے کر فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق میٹھا در تھانے کی حدود آئی آئی چندر یگرروڈ ٹیکنو سٹی کے مقابل15میٹھادر پولیس نے شہری کو ڈاکو سمجھ کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 48 سالہ محمد اسلم ولد جمال الدین جاں بحق اور موٹرسائیکل سوار 26 سالہ وقار ولد محمد یونس زخمی ہوگیا ۔

زخمی وقار کے دوست نعمان کا کہنا تھا کہ ہم موٹرسائیکل پر گزر رہے تھے، اور وقار موٹرسائیکل چلا رہا تھا اسی دوران میرے موبائل پر کال آئی، میں نے کال اٹینڈہی کی تھی کہ پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر دی،گولی لگنے سے میرا دوست زخمی ہو گیا، جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہ گیر جاں بحق ہو گیا۔میں نے پولیس والوں کے سامنے ہاتھ بلند کر کے شور کیا کہ ہم ڈاکو نہیں ہیں ۔لیکن انھوں نے ایک نہیں سنی۔ عوام کے جمع ہونے پر پولیس اہلکار موبائل چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ڈی آئی جی سائوتھ جاوید اکبر ریاض کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار سمجھے کہ لوٹ مار کی واردات ہورہی ہے۔ جس پر انہوں نے فائرنگ کردی۔ 

واقعہ میں ملوث تینوں اہلکار، موبائل ڈرائیور عمران حبیب، عمران اور سرفراز کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا ۔ علاوہ ازیںڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈایمرجنسی سروسز نے مذکورہ فائرنگ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی مددگار15عبداللہ میمن سے پولیس اقدامات پر مشتمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس فائرنگ سے بے قصور شہری کی ہلاکت کا یہ پہلاواقعہ نہیں ہے ۔قبل ازیں ا یسے متعدد واقعات ہو چکے ہیں اور پولیس کی گولی کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں ۔ایسے واقعات کی بڑی وجہ سفارش کلچر اور غیر تربیت یافتہ اہلکاروں کی پبلک پلیسز پر تعیناتی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید