آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میرا بچپن کا دوست ادھا پہلوان ٹھنڈی کھوئی والا ان دنوں بہت ’’اوازار‘‘ سا پھرتا ہے۔ ہاتھوں کو بے چینی سے ملتا رہتا ہے۔ انگڑائی نہ بھی آئی ہو تو انگڑائی لینے کے بہانے اپنے دونوں بازو پھیلا دیتا ہے اور پھر یونہی سینہ پھلا کر کھڑا ہو جاتا ہے، اپنی دکان پر کام کرنے والے ’’چھوٹے‘‘ کو بغیر کسی وجہ کے ایک آدھ ہاتھ جھاڑ دیتا ہے، حتیٰ کہ گاہکوں میں سے بھی کوئی اونچی نیچی کرے تو اس سے لڑنے کیلئے اپنی چوکی سے اتر کر نیچے سڑک پر آجاتا ہے، کئی دفعہ بیٹھے بیٹھے خلامیں گھورنے لگتا ہے پھر مٹھیاں بھینچ کر فضا میں بلند کرتا ہے لیکن کچھ سوچ کر مٹھیاں کھول دیتا ہے اور ہاتھ نیچے گرا دیتا ہے، میں کئی روز سے اس کی یہ حرکات و سکنات دیکھ رہا تھا۔ چنانچہ گزشتہ روز مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ یار ادّھے پہلوان ان دنوں تو اتنا بے چین کیوں ہے؟

اس نے یہ سن کر لمبی سی جماہی لی اور پھر برابر میں پڑی ایک لکڑی کو بغیر کسی وجہ کے گھٹنوں پر رکھ کر توڑ دیا اور کہا ’’قاشمی شاب بس ان دنوں جسم ٹوٹتا رہتا ہے۔ کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ مگر سمجھ نہیں آتی کہ کیا کروں؟ ‘‘ میں نے کہا ’’یار بات سمجھ نہیں آئی‘‘ بولا ’’نہ سمجھ آنے والی تو اس میں کوئی بات نہیں، آپ بھی آخر اس ملک میں رہتے ہیں، آپ ہی بتائیں 2018ء کے انتخابات سے پہلے جو گہماگہمی تھی، جو رونقیں تھیں، جو اٹ کھڑکا تھا، وہ اب کہاں رہا ہے۔ صبح صبح اخبار آتا تھا تو دل خوش ہو جاتا تھا۔ مخالفوں نے آدھے آدھے صفحے کے اشتہار میں ایک دوسرے کو للکارا ہوتا تھا، کالم نگار ایک دوسرے کے خلاف صفیں باندھے کھڑے ہوتے تھے، خبروں والے صفحے پر ہر لائن میں ایک بڑھک ماری گئی ہوتی تھی۔ ٹی وی کے خبر ناموں میں ہتھ جوڑی کا مزا علیحدہ تھا۔ اس کے علاوہ جلسے جلوس تھے، فلک شگاف نعرے لگتے تھے تو دل خوش ہو جاتا تھا، کلاشنکوف کے فائر ہوتے تھے، گھروں پر جھنڈے لہرا رہے ہوتے تھے، سڑکوں پر رنگ برنگے بینر نظر آتے تھے،گلیاں اور بازار ساری ساری رات جاگتے تھے، نعرے لگانے والے رات کو میری ہٹی پر آتے اور دو دو سیر دودھ میں آدھ آدھ سیر جلیبیاں ڈال کر پی جاتے تھے، ان دنوں دودھ کی چھ کڑاہیوں کی جگہ بیس کڑاہیاں لگتی تھیں، آپ کہتے ہیں کہ مجھے تمہاری بات ہی سمجھ نہیں آئی!‘‘

میں نے یہ سن کر ادّھے پہلوان ٹھنڈی کھوئی والے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا ’’یار ادّھے پہلوان، یہ تو، تو نے میرے دل کی بات کی ہے۔ خود میں بھی الیکشن کے بعد سے بہت اداس ہوں خصوصاً اس کے نتائج نے تو سارا مزا ہی کرکرا کر دیا تھا۔تیرے مسائل اپنے ہیں میرے مسائل اپنے ہیں۔ الیکشن سے پہلے سیاست دان ڈالیاں لے کر میرے گھر آتے تھے، بچوں کو مٹھائی کیلئے لاکھ دو لاکھ روپے دے جاتے تھے، کوئی اظہار محبت کے طور پر کار کی چابیاں چھوڑ جاتا تھا، کوئی الاٹمنٹ آرڈر دے جاتا تھا، انتخابات کو دو سال ہو گئے ہیں کسی نے پلٹ کر خبر ہی نہیں لی۔ اکثریت والے اپنی اکثریت کے زعم میں ہیں اوراقلیت والے اپنا حوصلہ ہار بیٹھے ہیں کہ انہیں اب اپنی حمایت کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی، کیسا زمانہ آگیا ہے، اہل فن کو کوئی پوچھتاہی نہیں۔‘‘

یہ سن کر ادّھے پہلوان نے گرم جوشی سے میرا ہاتھ تھاما اور کہا ’’قاشمی شاب، خدا کا شکر ہے کہ آپ میری بات سمجھ گئے، آج ایک ایم پی اے بھی میرے پاس آیا تھا وہ میرا پرانا گاہک ہے، وہ بھی اس صورتحال پر پریشان تھا، آپ کچھ کریں۔‘‘

’’تمہی بتاؤ کیا کروں؟‘‘

’’کچھ کریں، بس کھڑکا دھڑکا ہونا چاہئے۔‘‘

میں نے ادّھے پہلوان کو امید بھری نظروں سے دیکھا اور کہا ’’ تمہارے ایم پی اے گاہک کے علاوہ قوم کے اور بھی بہت سے افراد یہ کھڑکا دھڑکا چاہتے تھے، تم بڑے دانا آدمی ہو ذرا ’’سائنس‘‘ لڑاؤ اور بتاؤ کیا کرنا چاہئے‘‘

ادّھا پہلوان میرے اس خراج تحسین پر بہت خوش ہوا اور پھر وہ گہری سوچ میں غرق نظر آنے لگا۔ پھر اس نے گردن اوپر اٹھائی اور چٹکی بجا کر کہا کہ قاشمی شاب ایک ترکیب سوجھی ہے، آپ ابھی اپنے موبائل سے صدر ٹرمپ کو فون کریں۔

میں ادّھے پہلوان کی بات سن کر دل ہی دل میں بہت ہنسا کیونکہ ادّھا پہلوان ہمیشہ سے یہی سمجھتا ہے کہ میں وزیراعظم پاکستان یا صدر امریکہ سے جب چاہے ٹیلی فون پر بات کرسکتا ہوں اور میں نے اس کے خیال کی کبھی تردید بھی نہیں کی۔ چنانچہ اس وقت بھی میں نے اسے اسی مغالطے میں رکھا اور کہا ’’یار! میں ٹرمپ کو فون تو کرتا لیکن اس وقت وہاں رات کے گیارہ بجے ہیں اور مجھے پتہ ہے ٹرمپ اس وقت فلم کا آخری شو دیکھنے گیا ہوگا؟

ادّھے پہلوان نے یہ سن کر سر ہلایا جس کا مطلب تھا اسے میری بات سمجھ آگئی ہے چنانچہ اس نے کہا ’’ٹھیک ہے آپ صبح اس سے بات کرلیں لیکن بات کریں ضرور!

میں نے پوچھا۔ ’’کیا بات کروں‘‘

ادّھے پہلوان نے کہا کہ بس یہی کہ پاکستان میں کچھ ’’گہماگہمی ہونی چاہئے۔‘‘

’’اگر اس نے کہا کہ ابھی امریکہ کو اس گہماگہمی کی ضرورت نہیں ہے تو پھر؟

یہ سن کر ادّھا پہلوان سر کھجانے لگا۔پھر آہستہ سے بولا ’’اس صورت میں ٹرمپ سے کہیں کہ جب تک گہماگہمی شروع نہیں ہوتی۔ وہ مجھ سمیت ان سب ’’ادّھے پہلوانوں‘ ‘ کو امریکہ بلوائے جو زندگی میں پورے پہلوان نہیں بن سکے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی سب ادّھے پہلوانوں کی اسی ملک میں قدر افزائی کا کوئی معقول انتظام کرے اور یہ مطالبہ ہم ٹرمپ ہی سے کرسکتے ہیں کیونکہ پاکستان کے تمام ادّھے پہلوان ایسے مواقع پر ہمیشہ اسی کی طرف دیکھتے ہیں۔