آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک معاشرے کی خُوبی، دوسرے کی خامی بن جاتی ہے۔ البتہ چند بنیادی باتوں کا سب ہی حالات میں اطلاق ہوتا ہے۔ ان میں اہم ترین تدبیر، محنت اور مستقل مزاجی ہیں۔ تدبیر کے رُخ پر مستقل مزاجی سے محنت کی جاتی ہے۔ تدبیر کے حوالے سے حضرت علی ؓ کا واقعہ ہے۔ حضرت علی ؓ کے دَور میں ایک بچّہ بغیر منڈیر کے کنویں کے پاس چلا گیا۔ ماں جب بچّے کےقریب جاتی تو وہ کنویں کی جانب لپکتا۔ ماں کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ بچّہ کنویں میں گرکرہلاک ہوجائےگا۔ بہت سےلوگ وہاں اکٹھے ہوگئے۔ کسی کے پاس اس مسئلے کا حل نہیں تھا۔ ایک روایت کے مطابق جب بچّے کی جانب بڑھاجاتا تو وہ کنویں کے کنارے پر چلنا شروع کردیتا۔ ماں اور باقی لوگ یہ معاملہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت علی ؓ نے بچّے کی عُمر معلوم کی اور حاضرین سے پوچھا کہ کیا کسی کے ہاں اِس عُمر کا بچّہ ہے؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے بتایا کہ اُس کابچّہ اِسی عُمرکاہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ وہ اِس بچّے کو کنویں پر لے جائیں، اس عورت کابچّہ اپنےہم عمرکودیکھ کر اُس کی کشش میں خود ہی اس کی جانب چلاآئے گا۔ 

جب یہ تدبیر آزمائی گئی تو عورت کا بچّہ اپنے ہم عُمر کو دیکھ کر اس کی جانب بھاگا چلا آیا۔ یوں وہ کنویں میں گرنے سے بچ گیا۔ اس واقعے میں تدبیر کے علاوہ مواصلت یعنی کمیونی کیشن کا عُمدہ سبق بھی موجود ہے۔ جدید دَور میں نفسیات دانوں نے یہ حقیقت دریافت کی ہے کہ ایک بچّے کی پرورش اور شخصیت کی نشوونما میں دیگر عوامل کے علاوہ اہم ترین کردار اُس کے ہم عُمر حلقۂ احباب کا بھی ہوتا ہے، بعض اوقات گھر کے ماحول سے بھی زیادہ۔

عورت میں تدبیر کی صلاحیت بعض اوقات مرد سے کتنی زیادہ ہوتی ہے، اس پر ایک حقیقی واقعہ ہے۔ رالف والڈو ایمرسن ایک ممتاز امریکی فلسفی اور شاعر تھا۔ ایک مرتبہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک گائے کے چھوٹے سے ضدی بچھڑے کو باڑے میں لے جانے کی کوشش کررہا تھا۔ ایمرسن اُسے پیچھے سے دھکیلتا تھا اور بیٹا اُسے آگے کھینچ رہا تھا۔ مگر وہ بچھڑا کسی طور بھی سرسبز چراگاہ کو چھوڑنے کو تیار نہ تھا۔ اُس نے اپنی ٹانگیں اکڑا لی تھیں اور پیر جمائے ہوئے تھے۔ اتفاقاً وہاں اُن کی آئرش ملازمہ آنکلی۔ وہ ایک ماں تھی، اُس نے سوچا کہ اس وقت گائے کے بچّے کو کس شے کی خواہش ہوسکتی ہے۔ کچھ دیر سوچ کر اُس نے بچّے کے منہ میں بہت پیار سے اپنا انگوٹھا ڈال دیا۔ بچّے نے وہ انگوٹھا چُوسنا شروع کردیا۔ 

ملازمہ بہت پیار سے اُسے اسی طرح باڑے میں لے گئی، جس طرح ممتا بَھری ماں اپنے شیرخوار بچّے کے بے دانت منہ میں اپنی انگلی ڈال دیتی ہے۔ ایک پرانی چلی آتی اطالوی حکایت ہے۔ سیکڑوں برس پہلے ایک اطالوی قصبے میں ایک چھوٹے کاروباری شخص نے ایک ساہوکار کا خاطر خواہ قرض واپس کرنا تھا۔ ساہوکار ایک بوڑھا بدصُورت شخص تھا، جس نے کاروباری آدمی کی بیٹی پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ ساہوکار نے کاروباری آدمی کو پیش کش کی کہ وہ اس کا سارا قرض معاف کردے گا، اگر وہ اُس سے اپنی بیٹی کی شادی کردے۔ ساہوکارنے پیش کش کی کہ وہ ایک تھیلے میں دو کنکریاں ڈالے گا، ایک سفید اوردوسری سیاہ۔ بیٹی کو ایک کنکری نکالنا ہوگی۔ اگر وہ سیاہ ہوئی تو کاروباری شخص کا قرض معاف ہوجائے گا، پر بیٹی کو اس سے شادی کرنا ہوگی۔ اگر وہ سفید ہوئی تو بھی کاروباری آدمی کا قرض معاف ہوجائے گا اور بیٹی کو بھی بیاہ نہ کرنا پڑے گا۔ کاروباری شخص کےگھر کےکنکریوں بَھرے رستے پہ کھڑے ہوکر ساہوکار نے دھوکے سے دو سیاہ کنکریاں اٹھالیں اور انھیں تھیلے میں ڈال لیا۔ 

کاروباری شخص کی بیٹی نے ساہوکار کی حرکت دیکھ لی مگر یوں ظاہر کیا جیسے وہ لاعلم ہو۔ کاروباری نے بیٹی کو ایک کنکری تھیلے سے نکالنے کا کہا۔ اب بیٹی کے پاس تین رستے تھے، کنکری نکالنے سےانکار کردے، دونوں کنکریاں نکال کر ساہوکار کے دھوکے کو بےنقاب کردے یا یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ اس میں سیاہ کنکریاں ہیں، کنکری نکال کر قربانی دے دے اور ساہوکار سے شادی کرلے۔ پہلی دو صُورتوں میں ساہوکار کے طیش میں آجانے کا اندیشہ تھا۔ اُس نے ہاتھ ڈال کر تھیلے سےکنکری نکالی اوراُسے دیکھنے سے پہلے جانتے بوجھتے ہوئے ’’غلطی‘‘ سے رستے میں بکھری کنکریوں میں گرادیا اور بولی ’’میری کتنی نادانی ہےکہ میں نے ایسی لاپروائی کی۔ 

اگر آپ تھیلے سے واحد بچی ہوئی کنکری نکال لیں گے تو آپ کو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ مَیں نے کس رنگ کی کنکری نکالی تھی۔‘‘ یقیناً تھیلے میں سیاہ کنکری ہی موجود تھی۔ اپنے دھوکے کے بے نقاب ہونے کی شرمندگی سے بچنے کے لیے اُسے ظاہر کرنا پڑا کہ تھیلے میں سیاہ کنکری تھی۔ اس سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا تھا کہ بیٹی نے جو کنکری نکالی تھی، وہ یقیناً سفید تھی۔ یوں کاروباری کاقرض بھی معاف ہوگیا اور اسے بیٹی کو ساہوکار سے بیاہنا بھی نہ پڑا۔ بچّی کی تدبیر نے مسئلہ حل کردیا۔ تدبیر کے رُخ پر محنت کی جاتی ہے اورتدبیر کے لیے میسر عقل کا بھرپور استعمال ضروری ہے۔ 

عالمی شہرت یافتہ مدبّر، فلسفی نطشے نے کہا تھا ’’ایک شخص جس کے لیے ’’کیوں‘‘موجود ہو، وہ ’’کیسے‘‘ کا رستہ نکال لیتا ہے‘‘ اُس نے کیا نکتہ خیز اوردانش مندانہ بات کہی تھی ’’حال پر جتنا ماضی اثر انداز ہوتا ہے، اُتنا ہی مستقبل بھی ہوتا ہے‘‘یعنی ماضی ہمارے مزاج، ارادوں اور خواہشات پر اپنی پرچھائیاں ڈالتا ہے تو اَن دیکھے مستقبل کے امکانات، خوف اور اُمیدیں ہمارے حال کی شکل تشکیل دیتی ہیں۔ وہ رستے کے انتخاب کے حوالے سے کیا خُوب کہتا ہے ’’زیادہ لوگ اپنے منتخب کردہ رستے پر ہٹ دھرم ہوتے ہیں، کم لوگ مقصد کے حصول پر۔‘‘ ہٹ دھرمی کے حوالے ہی سے وہ کہتا ہے ’’دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو معلوم کرنا چاہتے ہیں، دوسرے وہ جو یقین کرنا چاہتے ہیں‘‘ معلوم کرنے کے لیے استعمال شدہ رستے سے ہٹنا پڑتا ہے اور روایت سے نکل کرآزاد، انفرادی سوچ تشکیل دینا پڑتی ہے۔ انسانی دماغ ہر اُس شے کو آسانی سے قبول کرلیتا ہے، جس میں اُس کی کم توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ممتاز نفسیات دان، کارل یونگ کہتا ہے، ’’سوچنا مشکل کام ہے، اس لیے بیش تر لوگ رائے قائم کرلیتے ہیں۔‘‘ اس نے رائے قائم کرنے کے لیے لفظ Judge (جج) استعمال کیا ہے۔ عمل کے حوالے سے وہ لکھتا ہے ’’تم وہ ہو،جو تم کرتے ہو، نہ کہ وہ، جو تم کہتے ہو کہ تم کرو گے۔‘‘

شکیل عادل زادہ ’’سب رنگ‘‘ ڈائجسٹ کے مدیر اور معروف ناول ’’بازی گر‘‘ کے مصنّف ہیں۔ قارئین کو اعلیٰ ادب اور عُمدہ اردو زبان سے متعارف کروانے کا سہرا اُن ہی کےجاتا ہے۔ دل چسپ بات تو یہ ہے کہ انھوں نے میٹرک ہندی زبان میں کیا تھا اور جب وہ 1957 میں پاکستان آئے تو اردو پر دست رس نہ رکھتے تھے۔ بعد میں اردو پر اُن کی قدرت کا یہ عالم ہوگیا کہ اُن کی لکھی زبان کو حوالہ جاتی حیثیت حاصل ہوگئی۔ زبان پر مہارت حاصل کرنے میں اُن کی فطری صلاحیت کے علاوہ اہم ترین کردار ’’محنت‘‘ کا ہے۔ یہ محنت ہی تو ہے، جس نےسینٹ پیٹرز برگ روس میں، جہاں روسی زبان لکھی، پڑھی اوربولی جاتی ہے، پیدا ہونے والے عالمی شہرت یافتہ ادیب، ’’لولیٹا‘‘ ناول کے خالق، ولادیمیرنوبوکوف کو انگریزی کا ایسا صاحبِ طرز ادیب بنادیا، جس کی انگریزی زبان میں لکھی گئی تحریریں یونی ورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ 

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بانیوں میں سے ایک، ٹامس جیفرسن حد درجہ محنتی شخص تھا۔ اُس نے محنت کے حوالے سے نکتہ آرائی کی تھی ’’مَیں نے دیکھاہے کہ میں جتنی زیادہ محنت کرتا ہوں، اتنا زیادہ خوش قسمت ہوتا چلا جاتا ہوں۔‘‘ ویسے تو ذہانت کا بہترین متبادل محنت ہے اور کسی جسمانی کمی کو بھی محنت سے خوبی میں بدلا جاسکتا ہے۔ ایک امریکی لڑکے کا واقعہ ہے، جسے ہمّت بندھانے والی کئی کتب میں رقم کیا گیا ہے۔ ایک لڑکے کا بایاں بازو ایک حادثے میں ضائع ہوگیا تھا ۔ اس کے باوجود وہ جوڈوکراٹے سیکھنا چاہتا تھا۔

اُس نے ایک جاپانی استاد سے جوڈوکراٹے کی تربیت لینی شروع کی۔ استاد اُسے تین ماہ تک ایک ہی داؤ سکھاتا رہا۔ بالآخر شاگرد نے استاد سے پوچھا ’’اے محترم استاد! کیا مجھے دیگر داؤ نہیں سیکھنے چاہئیں۔‘‘ استاد نےاُسے شفقت سے کہا کہ وہ اسی ایک داؤ کی اتنی مشق کرے اور اس پر اتنی محنت کرے کہ مہارت حاصل کرلے۔ چند ماہ بعد جو ڈوکراٹے کا ایک بڑا مقابلہ تھا۔ اُس میں لڑکے کا نام داخل کردیا گیا۔ اُس کا مقابلہ پچھلے برس کےفاتح سے ٹھیرا۔ اگر وہ اُسے ہرا دیتا، تو چیمپیئن قرا ر پاتا۔ بالآخر میچ کا دن آن پہنچا۔ اُس کا مقابل بھاری بھرکم، مضبوط اور تجربہ کار تھا۔ لڑکا اپنے مقابل کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ ایسے میں استاد نےاس کی ہمّت بندھائی اور مردِ میدان بننے کے لیے اس کی پیٹھ ٹھونکی۔ 

مقابلہ شروع ہوا تو تھوڑی ہی دیر میں یوں لگنے لگا، جیسے مقابل، لڑکے پر حاوی ہوجائے گا۔ میچ کے ریفری نے لڑکے کی معذوری اور مقابل کی جسامت اورطاقت دیکھ کر وقفے کی سیٹی بجانے کا ارادہ کیا، مبادا لڑکا زخمی ہوجائے ۔ سیٹی کو منہ تک لاتا دیکھ کر استاد نے ریفری کو سیٹی بجانے سے یہ کہہ کر منع کردیا ’’ابھی میچ چلنے دیں‘‘ جلد ہی مقابل نے ایک فاش غلطی کی، اُس کی توجّہ بھٹک گئی اور وہ اپنا دفاعی مقام اور حربہ چھوڑ بیٹھا۔ آناً فاناً لڑکے نے اپنا مشق کردہ وہ داؤ آزمایا جس میں اُسے مہارت حاصل تھی اور مقابل کو زیرکرلیا۔ یوں وہ مقابلہ جیت گیا۔ واپسی کے سفرمیں جاپانی استاد لڑکے کی مقابلے کے دوران تمام حرکات کا تجزیہ کرتا جارہا تھا۔ تب لڑکے نے ہمّت کی اور اپنے استاد سے پوچھا۔ ’’اے محترم استاد، یہ کس طرح سے ممکن ہوا کہ مَیں فقط ایک داؤ کے سہارے مقابلہ جیت گیا؟‘‘استاد نے جواب دیا ’’تم دو وجوہ کی بنیاد پر جیتے۔ پہلی یہ کہ تم نے جوڈوکراٹے کے مشکل ترین داؤ پر مہارت حاصل کرلی اوردوسری یہ کہ اس کا واحد دفاع یہ تھا کہ مخالف کا بایاں بازو جکڑ لیا جائے۔‘‘ یاد رہے لڑکے کا بایاں بازو حادثے کی وجہ سے موجود ہی نہ تھا۔ تدبر سے منزل اور اس کا رستہ طے کرکے مستقل مزاجی سے محنت ہی میں اطمینان بخش کام یابی ملتی ہے۔

مستقل مزاجی سے بظاہر ناممکن منزل پائی جاسکتی ہے اور حقیقتاً وہ کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے، جس کا ایک سُست اور کم زور ارادے والا شخص فقط تصوّرکرسکتا ہے۔ سفر کی مشکلات یا طوالت سے گھبرا کر لوٹ آنے والا یا رستے میں بیٹھ جانے والا شخص منزل کو نہیں پہنچ پاتا۔ ایک مرتبہ ایک شخص ہاتھیوں کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہ یہ دیکھ کر تذبذب کا شکار ہوگیا کہ قوی الجثّہ ہاتھیوں کے اگلے پاؤں کو چھوٹی سی رسّی سے باندھ دیا گیا تھا اور وہ اس رسّی کو توڑ کر آزاد ہونے کی کوشش بھی نہیں کررہے تھے۔ نہ تو وہ کسی پنجرے میں تھے اور نہ ہی وہاں کوئی زنجیریں نظر آرہی تھیں۔ اُس نے ہاتھیوں کو سنبھالنے اور انھیں سدھانے والے مہاوت سے سے پوچھا کہ یہ تمام ہاتھی اپنی چھوٹی چھوٹی رسیاں توڑ کر آزاد ہونے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ مہاوت نے جواب دیا’’جب یہ چھوٹے بچّے تھے تو ہم انھیں اِن ہی چھوٹی رسیوں سے باندھا کرتے تھے اور یہ رسیاں ان کے لیے کافی تھیں۔ جب یہ بڑے ہوگئے تو ان کابچپن کاتاثرقائم رہا کہ یہ رسیاں نہیں توڑ سکتے۔ 

سو، یہ انھیں توڑنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ ہاتھی اپنے تاثر کے غلام تھے۔ مَیں نے شمالی علاقہ جات کی سیاحت کے دوران دیکھا کہ اگر خچروں کے لیے رسیاں کم پڑ جائیں تو ان کا نگران، ان کی ٹانگوں کے گرد یوں خالی ہاتھ پھیر دیتا ہے، جیسے وہ رسّی باندھ رہا ہو، جب کہ وہاں کوئی رسّی موجود ہی نہیں ہوتی۔ خچر ساری رات اُس مقام پر یہ سمجھ کر گزار دیتے ہیں جیسے وہ رسّی سے بندھے ہوں اور وہاں سے ہلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔ یہ رسیاں وہ ابتدائی مشکلات ہیں، جو ہمیں اپنی جدوجہد کے دوران پیش آتی ہیں۔ اکثر لوگ ان مشکلات کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھ لیتےہیں۔ کم ہی لوگ سعئی پیہم کرتے ہیں۔ اگر مستقل مزاجی سے، مشکلات سےگھبرائے بغیر، کوشش جاری رکھی جائے تو اپنے ہدف کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔ امریکا میں اسی نوعیت کا ایک تجربہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ تصوراتی رکاوٹ کس طرح جستجو کا جذبہ چھین لیتی ہے۔ آبی ماہرین حیاتیات نے پانی کے ایک بڑے ٹینک میں شارک مچھلی چھوڑدی۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بطور خوراک اسی ٹینک میں چھوڑیں۔ شارک جلد ہی ان مچھلیوں کو نگل گئی۔ 

بعد ازاں ماہرین نے اس ٹینک میں فائبر گلاس کی شفّاف دیوار کھڑی کر کے اُسے دو حصّوں میں تقسیم کر دیا۔ انھوں نے شارک کو ایک خانے میں ڈالا اور چھوٹی مچھلیوں کو دوسرے خانے میں۔ شارک ان چھوٹی مچھلیوں پر حملہ آور ہوئی، مگر شفّاف دیوار سے ٹکرا کر رُک گئی۔ اُس نے کوشش جاری رکھی۔ ایک گھنٹے بعداُس نے مایوس ہوکر کوشش چھوڑ دی۔ یہ تجربہ اگلے چند ہفتوں میں درجنوں بار دہرایا گیا۔ آہستہ آہستہ شارک میں جذبہ گھٹتا گیا۔ یہاں تک کہ ایک وقت آگیا کہ اُس نے سمجھ لیا کہ وہ ان مچھلیوں تک نہیں پہنچ سکتی اور اس نے کوشش کرنا چھوڑ دی۔ تب ماہرین نے فائبر گلاس کی دیوار بیچ سے ہٹا دی۔ چھوٹی مچھلیاں آس پاس تیرتی رہیں مگر شارک ان پر حملہ آور نہ ہوئی۔ 

اس نے تصوّر کرلیا تھا کہ ان کے بیچ نہ نظر آنے والی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح کی رکاوٹیں ہمارے دماغوں میں بھی ہوتی ہیں، جن کا حقیقت میں وجود نہیں ہوتا۔ پیہم کوشش کے حوالے سے ادب کی دل چسپ اور رنگا رنگ دنیا کی جانب دیکھا جائے تو خورخے لوئس بورخیس کا نام ذہن میں آتا ہے۔ ارجنٹائن کے رجحان ساز ادیب کو بی بی سی نے بیسویں صدی کا اہم ترین ادیب قرار دیا۔ 

بورخیس نے ادیبوں اور قارئین کی کئی نسلوں کو متاثر کیا اور بین الاقوامی ادب پر اَن مِٹ اثرات مرتب کیے۔ 1932میں اُن کی کتاب ’’دوام کی تاریخ‘‘ شائع ہوئی تو اس کے کُل37 نسخے فروخت ہوئے۔ بہت بعد میں ’’دی پیرس ریویو‘‘ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا ’’مَیں چاہتا تھا کہ اس کتاب کے ہر خریدار کو تلاش کروں تاکہ کتاب کے لیے معذرت اور پھر اسے خریدنے کا شکریہ ادا کروں۔ اگرآپ اُن سینتیس آدمیوں کا خیال کریں تو یہ سچ مچ کے لوگ تھے۔ اُن میں سے ہر فرد ایک چہرے کامالک تھا، اُس کا اپناخاندان تھا اور معینہ سڑک پر اپنا گھر۔ اگر آپ کتاب کے دو ہزار نسخے فروخت کریں تو یہ ایسا ہی ہے، جیسے ایک کاپی بھی فروخت نہیں کی کیوں کہ دو ہزار بڑی تعداد ہے۔میرامطلب ہے،تخیّل کی گرفت میں نہیں آسکتی‘‘ (جاری ہے)