آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’ مشرقِ وسطیٰ کے دو سب سے متحرّک معاشروں اور جدید معیشتوں کے درمیان براہِ راست تعلقات قائم ہونے سے معاشی ترقّی ہوگی۔ٹیکنالوجی میں نت نئی ایجادات ہوں گی اور عوام کے ایک دوسرے سے تعلقات بہتر ہوں گے، جس سے خطّے میں ترقّی ہوگی۔‘‘یہاں جن دو معاشروں اور جدید معیشتوں کا ذکر ہے، وہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ہیں۔13 اگست کو یو اے ای، اسرائیل اور امریکا کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ دونوں مُلکوں میں سفارتی تعلقات قائم کیے جارہے ہیں۔اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ معیشت، مالیات، سائنس، ٹیکنالوجی اور سیّاحت کے شعبوں میں شراکت داری بھی شروع کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے، یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔ایک دھماکا ہے، اس سے بھی بڑا، جو بیروت میں ہوا۔ 

اس اعلان نے مِڈل ایسٹ ہی نہیں، دنیا کی سیاست اور سفارت کاری میں بہت سی نئی جہتوں کی بنیادیں رکھ دیں، جن کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوں گے۔دنیا نے مجموعی طور پر اس معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ تاہم، فلسطین نے، جو براہِ راست متاثرہ فریق ہے، اس پر شدید تحفّظات کا اظہار کیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن ،ایران کے صدر روحانی نے اسے فلسطین کے ساتھ غدّاری قرار دیا، جب کہ تُرکی نے بھی اس کی شدید مذمّت کی۔یو اے ای نے ان سب کا مختصر جواب یہ دیا کہ’’ اس نے ایک خود مختار مُلک کی حیثیت سے وہی کیا، جو اس کے مفادات کا تقاضا تھا۔‘‘سعودی عرب نے، جو یو اے ای کا سب سے قریبی حلیف ہے، کہا کہ’’ اسرائیل کو اُس وقت تک تسیلم نہیں کیا جاسکتا، جب تک اس کا فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ نہیں ہوجاتا۔‘‘

سب سے پہلے تو یہ دیکھ لیا جائے کہ متحدہ عرب امارات کی عربوں اور باقی دنیا میں کیا پوزیشن ہے؟ متحدہ عرب امارات آئینی طور پر ایک بادشاہت ہے،جو سات ریاستوں پر مشتمل ایک فیڈریشن ہے۔ان میں دبئی، راس الخیمہ، عجمان اور شارجہ، ابو ظبی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بحرِ عرب اور پرشین گلف کے سِروں پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں مشرق میں اومان، جنوب اور مغرب میں سعودی عرب سے ملتی ہیں، جب کہ سمندری سرحدیں قطر اور ایران کے ساتھ منسلک ہیں۔عرب امارات کی آبادی تقریباً ایک کروڑ نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے بارہ سے چودہ لاکھ مقامی، جب کہ 86لاکھ تارکینِ وطن ہیں اور ان میں سے60 فی صد کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔ان میں 38 فی صد بھارتی،28 فی صد پاکستانی اور 13فی صد بنگلا دیشی ہیں۔مصر، فلپائن اور سری لنکا کے باشندے بھی بڑی تعداد میں وہاں مقیم ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 14 لاکھ پاکستانی وہاں ملازمت کرتے ہیں۔ 

ہماری کسی بھی خارجہ پالیسی میں اُن کا خیال رکھنا سب سے مقدّم ہوگا۔2020 ء کے اعدادو شمار کے مطابق، یواے ای کا جی ڈی پی تقریباً ایک ہزار بلین ڈالرز ہے۔متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے اور اس کے ذخائر دنیا میں چھٹے نمبر پر ہیں، جب کہ اس کے گیس کے ذخائر دنیا میں ساتویں نمبر پر ہیں۔ اس کا سب سے بڑا شہر، دبئی ایک گلوبل شہر ہے۔اس کی ائیر لائن انڈسٹری، ٹورازم اور خاص طور پر تجارتی شعبے بہت فعال ہیں۔گو کہ کورونا نے اسے بھی دھچکا پہنچایا، تاہم اس کی معیشت میں دوبارہ کھڑے ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق، اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی اقتصادیات کا تیل پر انحصار مزید کم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے پاس ٹیکنالوجی کے وہ وسائل ہیں، جو کسی بھی مسلم یا عرب مُلک کے پاس نہیں۔متحدہ عرب امارات کا یہ شہر ایک انٹرنیشنل پورٹ اور بین الاقوامی ہوائی اڈّا ہے۔

دنیا یہاں سے رابطے میں آتی ہے۔ مشرق اور مغرب یہیں پر ملتے ہیں۔تیل کی گرتی قیمتیں متحدہ عرب امارت کو زبردست دبائو میں لے آئیں۔ اس کی ترقّی کا انحصار تارکینِ وطن پر ہے۔ان 76 فی صد ملازمین کو سہولتوں اور اچھی تن خواہوں کی ضرورت ہے۔دوسرے الفاظ میں یہاں کا غیرمُلکی ملازم اپنا، اپنے گھر اور اپنے مُلک کا کفیل ہے۔اس تہری ذمّے داری کے لیے متحدہ عراب امارات کو سرمائے کی ضرورت ہے، جو پہلے تیل سے بخوبی پوری ہو رہی تھی۔

سب خوش تھے اور ہر طرف یہی شور تھا کہ’’ چلو، چلو، دبئی چلو۔‘‘ تو کیا جب تیل کی قیمتیں گریں اور وہاں کی معیشت دباؤ میں آئی، تو کیا مناسب ہوگا کہ اُس پر اس طرح تنقید کی جائے؟کیا یہی دوستی ہے؟ کورونا کی وبا آئی، تو اس پر مزید دبائو بڑھا،لہٰذا وہ معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنے پر مجبور ہوا۔ کون اس کی مدد کرتا؟ کون اس کے بینکس میں اربوں ڈالرز کے ڈیپازٹس رکھواتا؟ ایران کی معیشت بدترین دَور سے گزر رہی ہے۔تُرکی کی معاشی صُورتِ حال بھی اچھی نہیں۔ سعودی عرب کی معیشت تیل کی قیمتوں کی وجہ سے نت نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔غالباً دبئی کے حکم رانوں اور معاشی مینجرز نے فوری طور پر مِڈل ایسٹ کی سب سے ترقّی یافتہ اور مستحکم معیشت سے تعاون کا فیصلہ کیا، گو اسے معلوم تھا کہ مسلم جذبات اس پر سخت موقف رکھتے ہیں اور اسے کچھ حلقوں سے زبردست تنقید کا سامنا ہوگا، اس لیے یہ آسان فیصلہ نہیں تھا۔

یہ تو دبئی کا اقتصای پس منظر ہے، لیکن سیاسی طور پر جس اندیشے کا اظہار ناقدین گزشتہ برسوں میں کرتے رہے ہیں، وہ اب حقیقت بن کر سامنے آگیا ہے۔یعنی ایران کی فارورڈ پالیسیز اور برتری کے خوف نے ان عرب ممالک کو اسرائیل سے قریب کردیا ہے، جو ایران کے 2017 ء کی نیوکلیر ڈیل کے بعد سے سخت شاکی اور بداعتمادی کی فضا میں چلے گئے تھے۔ مسلم اُمّہ کا نعرہ بلند کرنے اور ثالثی کا شوق رکھنے والوں نے ایران سے عرب دنیا کی بداعتمادی ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہ کیا۔نیوکلیر ڈیل کے بعد ہر طرف یہی شور تھا کہ بس اب ایران مِڈل ایسٹ پر حاوی ہونے کو ہے۔ صدر روحانی کی امریکا سے بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی ہے۔ ظریف اور جان کیری قریبی دوست بن چُکے ہیں۔ کیا ایران میں امریکا سے اس ڈیل کا جشن نہیں منایا گیا؟ ایران کو اوباما نے چالیس ارب ڈالرز پَلک جھپکتے واپس کردیے۔یورپی ممالک سے اربوں ڈالرز کے معاہدے ہوئے۔

اس پر بھی بس نہیں، صدر اوباما نے روس اور ایران کو شام میں فوجی کارروائی کی کُھلی چُھٹی دی ۔اوباما کی اجازت سے روس روز نہتّے شامی شہریوں پر بم باری کرتا رہا۔ شامی اپوزیشن کے ہاتھوں ہارتے صدر اسد، اچانک ایک سال میں تین چوتھائی مُلک پر قابض ہوگئے ۔شہر کے شہر کھنڈر بن گئے، لیکن’’ داعش، داعش‘‘ کے شور میں کسی نے شامی شہریوں کے قتلِ عام کی پروا نہ کی، جو اقوامِ متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق پانچ لاکھ ہوچُکی ہیں۔ نیز، چالیس لاکھ سے زیادہ شہری در بدر ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا’’ پیس روڈ میپ‘‘ جس کی بنیاد پر شام میں غیر جانب دارانہ انتخابات ہونے تھے، ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ تُرکی نے، جو 2011 ء کے بعد سے شامی اپوزیشن کا سب سے بڑا حامی تھا، 2018 ء کے بعد یوٹرن لے کر صدر اسد کو تسلیم کرلیا۔روس جو اس کا سب سے بڑا دشمن تھا، اس کا دوست بن گیا۔سعودی عرب اور عرب ممالک جو شامی اپوزیشن میں تُرکی کے ساتھ کھڑے رہے، اچانک تنہا ہوگئے ۔شامی پسپائی خلیج اور عرب دنیا کے لیے ایک ناقابلِ برداشت زخم تھا۔ اس وقت ناقدین کہتے تھے کہ صدر اسد کو دِلوائی گئی فتح کا انجام اچھا نہ ہوگا، اس کا دیر پا حل بہتر ہوتا، لیکن روس کی فوجی طاقت غالب آئی۔ اسرائیل نیوکلیر ڈیل کا بھی مخالف تھا اور شام کا بھی۔ روس اور ایران کے بڑھتے قدموں نے عربوں کو اسرائیل کے قریب کرنا شروع کردیا، جس کا پہلا حصّہ یواے ای اور اسرائیل کے تعلقات کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

گزشتہ سال جب صدر ٹرمپ نے بیت المقدِس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا، تو 157 ممالک نے امریکی اقدام کی مخالفت کی، لیکن جب یو اے ای، اسرائیل تعلقات معمول پر آنے کا اعلان کیا گیا، تو صرف دو ممالک نے اس کی مخالفت کی۔اس بات میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ فلسطینوں کے حقوق کا تحفّظ اور اُن کے لیے ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ جائز ہی نہیں، بلکہ اُن کا حق ہے۔اسی کے لیے چار عرب، اسرائیل جنگیں ہوچُکی ہیں۔بدقسمتی سے ان سب میں عرب ناکام رہے۔عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک نے تیل کا ہتھیار بھی امریکا اور یورپ کے خلاف استعمال کیا، لیکن معاملہ بہت کم آگے بڑھا۔ فلسطینیوں نے خود بھی جہازوں کے اغوا اور ان کو بم سے اُڑانے کے انتہائی قدم اٹھا کر دیکھ لیے، لیکن پھر خود ان کے حق میں نعرہ بلند کرنے والوں نے لبنان میں ان کے ساتھ کیا کیا؟یہ حقیقت بھی نہیں بھولنی چاہے۔ موجودہ فلسطینی اتھارٹی کا قیام فلسطین کی آزادی کے سب سے مشہور لیڈر، یاسر عرفات کی سربراہی میں دوسرے کیمپ ڈیوڈ امن مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ فلسطین کے بڑے سیاسی دھڑے حماس اور محاذِ آزادی فلسطین دونوں ہی اس پر حکم رانی کر چُکے ہیں۔اکیس ویں صدی کے موجودہ عشرے کے شروع تک فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل میں براہِ راست مذاکرات ہوتے رہے۔

یہ کیمپ ڈیوڈ کی طرح امریکا کی سربراہی میں ہوتے اور اُنہیں اقوامِ متحدہ اور دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کی سرپرستی ملی۔آج کل فلسطین، اسرائیل مذاکرات تعطّل کا شکار ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اسرائیل کی غربِ اردن میں غیر قانونی بستیاں ہیں، جس کی سب ہی مذمّت کرتے ہیں۔یہ مذاکرات دو ریاستی حل کے فارمولے پر ہو رہے تھے، جس پر کم و بیش دنیا بھر میں اتفاق پایا جاتا ہے۔یواے ای اور اسرائیل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ’’ یواے ای فلسطین کی حمایت کے موقف پر قائم ہے اور اس سفارت کے ساتھ توقّع ہے کہ غربِ اردن میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر بند ہوجائے گی اور مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔‘‘ اسرائیل پہلی بات پر فی الحال راضی ہے۔ بظاہر دوسری بات فوری ممکن نہیں۔

کسی بھی تحریکِ آزادی کو کام یاب کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ جنگ کر کے دشمن کو قابض علاقوں سے بھگا دیا جائے، جیسے ویت نام نے کیا۔ یا پھر مذاکرات، جس میں’’ کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کا فارمولا کام کرتا ہے۔یاسر عرفات نے اسی بنیاد پر کیمپ ڈیوڈ میں چھے سالہ مذاکرات کے بعد فلسطینی اتھارٹی حاصل کی تھی۔مشکل یہ ہے کہ اس کے بعد سے آج تک فلسطین پر عرب، ایران اور مسلم سیاست تو بہت ہوئی، لیکن کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہ آسکا۔ فلسطینیوں کی ترقّی کے لیے ایک پیسا بھی نہیں دیا گیا۔فلسطین کا زیادہ تر فنڈ امریکا اور یورپ سے آتا ہے اور کچھ سعودی عرب اور خلیج کے مُلک دیتے ہیں، کیوں کہ فلسطینی اسٹیٹ ابھی تک کوئی قابلِ ذکر معیشت قائم نہیں کر سکی۔ ایران گزشتہ چار عشروں سے اسرائیل کو مٹانے کی باتیں کرتا رہا ہے، لیکن جب اس کی معیشت برباد ہونے لگی اور روحانی صدر بنے، تو وہ خود اپنے مفادات کو اوّلیت دیتا ہوا امریکا اور یورپ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر چلا گیا۔

امریکا سے 2013ء سے 2018ء کے درمیان اس کے تعلقات بہتر ہونے کے قصّے ابھی تک تازہ ہیں۔اس نے ان مذاکرات کے ذریعے اپنے چالیس ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کروائے۔یورپ سے تجارت شروع کی اور شام میں صدر اسد کو فتح دلوائی۔اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر نہ بنتے، تو تاریخ کیا ہوتی؟ اس کا تو علم نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ ایران اپنی تمام تر امریکا، اسرائیل دشمنی کے باوجود واپس دنیا میں آنے کو تیار ہوچُکا تھا۔فلسطین اُس وقت شاید بہت پیچھے چلا گیا تھا اور ہر طرف شام کی بھیانک خون ریزی کے قصّے گونج رہے تھے یا پھر نیوکلیر ڈیل کی گونج۔تُرکی کے صدر طیب اردوان بھی فلسطین کے معاملے میں بہت فعال رہے ہیں۔اُن کے آخری وزارتِ عظمیٰ کے دَور میں اسرائیل کے ساتھ مسلسل تعلقات خراب ہوتے چلے گئے۔سفیر تک واپس بلا لیا گیا، لیکن اب بھی انقرہ اور تل ابیب میں سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ جب تُرکی کی وزارتِ خارجہ کا تنقیدی بیان آیا، تو یو اے ای کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ’’ اسرئیل اور تُرکی کی سیّاحت اب بھی سالانہ دو ارب ڈالرز سے زاید ہے۔‘‘خود تُرکی اچھے حالات سے نہیں گزر رہا، تاہم اردوان نے عربوں خاص طور پر سعودی عرب اور مِصر سے بہترین تعلقات قائم کیے تھے، لیکن اب وہ سعودی عرب کے شدید ناقد اور مخالف بن چُکے ہیں، بلکہ مدّمقابل ہیں۔

کیا یہ فلسطین اور مسلم دنیا کے لیے کوئی خوش کن بات ہے؟ زبانی دعووں سے قطع نظر مسلم دنیا میں آج کوئی ایسا قابلِ ذکر مُلک نہیں، جو واقعی اپنی معیشت کو ماڈل کے طور پر پیش کرسکے،جب کہ دنیا صرف اقتصادی برتری کی پجاری ہے اور اس کا تجربہ ہم سے زیادہ کسے ہوسکتا ہے۔ علاقائی تنازعات اور برتری کی جنگوں نے لگتا ہے، مسلم دنیا کو ایک صدی پیچھے دھکیل دیا ہے۔اب ترانوں اور ڈراموں پر گزارہ ہو رہا ہے۔افسوس تو یہ ہے کہ بیروت کی حالیہ تباہی پر کوئی مشترکہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔کوئی مسلم سربراہ وہاں نہیں گیا۔57 مسلم ممالک کے سربراہ بیروت کے انسانی المیے پر بھی ایک دوسرے سے اختلافات نہ بُھلا سکے۔ناقدین پوچھتے ہیں کہ پھر اسلامو فوبیا کے خلاف کیسے متحد ہوں گے؟

اطلاعات ہیں کہ یو اے ای کے بعد کچھ اور عرب ریاستیں بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرسکتی ہیں۔سوڈان، جو رقبے اور آبادی کے لحاظ سے افریقا کا بڑا مسلم مُلک ہے، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دست خط کر رہا ہے۔اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہوائیں کس رُخ پر چل رہی ہیں، لیکن اب بھی بعض ماہرین اسے صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم سے جوڑے رکھنے پر مُصر ہیں۔یہ ایک وجہ ہوسکتی ہے، لیکن سب کچھ نہیں۔ویسے بھی یو اے ای، اسرائیل اعلان عربوں اور اسرائیل کے درمیان تیسرا امن معاہدہ ہے۔پہلا مصر، اسرائیل تعلقات اور دوسرا فلسطین اسٹیٹ کا قیام تھا۔ شاید یو اے ای کے تعلقات کوئی بڑا واقعہ نہیں، تاہم دبئی پر تنقید اور اس کو ہدایت دے کر اپنی مرضی کے مطابق چلانے والے مُلکوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ نوبت نہ آجائے، جب یہ عرب مُلک اسرائیل کی طرف فوجی اور دفاعی امور میں تعاون کے لیے دیکھنے لگیں۔یہ کچھ اتنا غیر متوقّع بھی نہیں، کیوں کہ جب روس اور چین جیسے بڑے مُلک ،جو امریکا کے کُھلے دشمن اور مخالف ہیں، بڑی فراخ دلی سے اسرائیل سے اربوں ڈالرز کا فوجی ساز وسامان خریدتے اور ٹیکنالوجی بھی درآمد کرتے ہیں، تو پھر عرب ممالک کا تو شمار ہی کیا۔ جب 1971 ء میں بنگلا دیش کا قیام عمل میں آیا، تو جو مُلک اُسے تسلیم کرتا، اسلام آباد اُس سے تعلقات توڑ لیتا۔

پھر کچھ عرصے تک جب کوئی بنگلا دیش کو تسلیم کرتا، تو صرف سفیر واپس بلا لیا جاتا۔ پھر نوبت صرف مذمّت تک آگئی، گلے شکوے ہونے لگے، لیکن بات اُس وقت انجام کو پہنچی، جب لاہور میں او آئی سی کا سربراہی اجلاس ہوا۔شیخ مجیب لاہور آئے اور خود پاکستان نے بنگلا دیش کو تسلیم کرلیا۔کچھ باتیں بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں۔زخم نہیں بھرتے، ٹیسیں اٹھتی رہتی ہیں۔بھول نہیں پاتے، لیکن حقیقت اور حالات کا جبر بڑا ظالم ہے۔فلسطین کے مسئلے کا حل تین باتوں میں مضمر ہے۔اوّل فلسطینیوں کی اپنی کوششیں، مذاکرات یا جدوجہد۔ دوم، اِس وقت اُن مسلم مُمالک کی یک جہتی کی ضرورت ہے، جو کسی بھی قسم کی جنگوں میں مصروف ہیں اور سوم یہ کہ مسلم ممالک کو اپنی اقتصادی مضبوطی پر بھرپور توجّہ دینی ہوگی۔