آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وہ ہدایت کار جن کی پہلی ہی فلم ’’گولڈن جوبلی‘‘ قرار پائی

شیخ لیاقت علی

پاکستان فلم انڈسٹری کا ماضی بہت روشن رہا ہے،ایک سے بڑھ کر ایک شاہ کار فلمیں پروڈیوس کی جاتی تھیں۔فلم بینوں کے شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک فلم کو کئی مرتبہ دیکھتے تھے۔ایک ہی فلم طویل عرصے تک سنیما گھروں کی زینت بنی رہتی تھی اور باکس آفس پر ریکارڈ بزنس کرتی تھی۔ آج ہم چند ایسی فلموں کے بارے میں بات کریں گے، جو کسی ہدایت کار کی پہلی گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کرنے میں کام یاب ثابت ہوئیں۔ 

پاکستانی فلمی دُنیا کی جانی پہچانی شخصیت سید عطاءاللہ شاہ ہاشمی کی بہ طور فلم ساز و ہدایت کار پہلی فلم ’’نوکر‘‘ 24مئی 1955ء کو عیدالفطر پر نمائش پذیر ہوئی اور اس فلم نے کراچی سرکٹ میں گولڈن جوبلی منائی۔ ’’نوکر‘‘ سے قبل کراچی سرکٹ میں گولڈن جوبلی فلم جو قرار پائی، وہ ہدایت کار دائود چاند کی ’’سسی‘‘ تھی، جسے 03جون 1954ء کہ عیدالفطر پر ریلیز ہوئی، مگر ’’سسی‘‘ دائود چاند کی بہ طور ہدایت کار چوتھی فلم تھی۔ اس سے قبل وہ ’’تیری یاد‘‘، ’’ہچکولے‘‘ اور ’’مُندری‘‘ بناچکے تھے۔ لہٰذا سید عطاء اللہ شاہ ہاشمی بجا طور پر ایسے ہدایت کاروں کی صف میں سرفہرست نظر آتے ہیں کہ جن کی پہلی ہی فلم گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی۔ بعدازاں اس فہرست میں دیگر ہدایت کاروں جو شامل ہوئے، اُن میں ایس ایم یوسف جن کی پاکستان میں پہلی ہی فلم ’’سہیلی‘‘ (ریلیز 23دسمبر 1960ء) کراچی سرکٹ میں گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی۔ سید سلیمان جو تقسیم ہند سے قبل بھی اور تقسیم ہند کے بعد بھی کچھ فلموں میں بہ طور چائلڈ اسٹار کام کرچکے تھے۔ انہوں نے پاکستان میں بہ حیثیت ہدایت کار پہلی فلم ’’گلفام‘‘ بنائی، جو اُن کے بڑے بھائی سید عشرت عباس المعروف درپن نے اپنے فلم ساز ادارے درپن پروڈکشنز کے بینر تلے پروڈیوس کی اور وہ ہی اس فلم میں ’’گلفام‘‘ بھی بنے۔ 

اس فلم میں اداکارہ مسرت نذیر کے سید سلیمان نے بھی اس فلم میں اداکاری کی۔ یہ فلم بھی ’’نوکر‘‘ اور ’’سہیلی‘‘ کی طرح کراچی سرکٹ میں گولڈن جوبلی کا اعزاز اپنے نام کر گئی۔ برصغیر پاک و ہند کے معروف کریکٹر ایکٹر ’’کمار‘‘ (اصل نام سید علی حسن زیدی) کے صاحب زادے ایس اے حافظ کی بہ طور ہدایت کار پہلی ہی فلم ’’توبہ‘‘ (ریلیز 15فروری 1964ء) بھی کراچی میں شان دار گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی۔ ’’توبہ‘‘ بھی عیدالفطر پر ریلیز ہوئی۔ کمار صاحب نے اس فلم میں غیر معمولی اداکاری کی تھی۔ نامور ہدایت کار پرویز ملک کی بہ طور ہدایت کار پہلی فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ (ریلیز 11دسمبر 1964ء) بھی کراچی میں گولڈن جوبلی کے اعزاز سے نوازی گئی۔ کراچی کے فلمی اسٹوڈیوز میں عکس بندی کے مراحل طے کرنے والی فلم ساز و اداکار وحید مراد کی یہ اولین فلم تھی، جسے گولڈن جوبلی منانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 

اس فلم سے قبل کراچی میں مکمل طور پر عکس بند کسی فلم نے بھی گولڈن جوبلی نہیں منائی تھی۔ 2جنوری 1968ء کی عیدالفطر پر ظفر شباب کی بہ طور ہدایت کار پہلی فلم ’’سنگدل‘‘ نے بھی کراچی میں گولڈن جوبلی منائی۔ معروف موسیقار ایم اشرف نے اسی فلم سے بہ طور سولو موسیقار نئی اننگز کا آغاز کیا۔ اس سے قبل وہ منظور کے ساتھ مل کر موسیقار منظور اشرف کے نام سے موسیقی دیا کرتے تھے۔ ’’سنگدل‘‘ ہی سے معروف اداکار مسعود اختر بھی متعارف ہوئے۔ فلمی دنیا کی نامور اداکارہ و ہدایت کار شمیم آرا نے بہ طور فلم ساز پہلی فلم ’’صاعقہ‘‘ پروڈیوس کی ،ہدایات کے لیے انہوں نے لئیق اختر کا انتخاب کیا۔ ہدایت کار کی حیثیت سے لئیق اختر کی یہ پہلی ہی فلم کراچی میں گولڈن جوبلی منا گئی۔ 

رضیہ بٹ کے ناول ’’صاعقہ‘‘ سے ماخوذ اس فلم نے مختلف شعبوں میں 9نگار ایوارڈز حاصل کیے۔ صاعقہ 20ستمبر 1968ء کو ریلیز ہوئی۔ نامور مزاحیہ اداکار رنگیلا نے بطور ہدایت کار پہلی فلم ’’دیا اور طوفان‘‘ بنائی۔ یہ فلم بھی کراچی میں گولڈن جوبلی سے ہمکنار ہوئی۔ برصغیر پاک و ہند کی معروف فلمی شخصیت شیون رضوی کہ جن کی وجہ شہرت، ان کی فلمی گیت نگاری رہی ہے۔ انہوں نے جب بہ طور ہدایت کار اپنی پہلی فلم ’’میری زندگی ہے نغمہ‘‘ بنائی تو باکس آفس پر شان دار بزنس کیا ۔ اس فلم نے بھی کراچی میں گولڈن جوبلی منائی۔ 

یہ فلم 30جون 1972ء کو ریلیز ہوئی۔ برصغیر پاک و ہند کی ایک اور معروف فلمی شخصیت ایم صادق کی بہ طور ہدایت کار پہلی فلم ’’بہاروں پھول برسائو‘‘ نے بھی کراچی سرکٹ میں شان دار گولڈن جوبلی منائی۔ اس کی تاریخ نمائش اٹھارہ اگست 1972ء تھی۔ فلمی صنعت کے معروف کہانی نویس، مکالمہ نویس اور فلم ساز علی سفیان آفاقی کی بہ طور ہدایت کار پہلی فلم ’’آس‘‘ دس اگست 1973ء کو ریلیز ہوئی اور اسے بھی کراچی سرکٹ میں گولڈن جوبلی بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ’’آس‘‘ کو مختلف شعبوں میں 8نگار ایوارڈ دیے گئے۔

ماضی کی معروف کریکٹر ایکٹریس زینت نے بہ طور ہدایت کارہ پہلی فلم ’’بن بادل برسات‘‘ بنائی اور ان کی بہ طور ہدایت کارہ پہلی ہی فلم کراچی میں گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی۔ یہ فلم 7مارچ 1975ء کو ریلیز ہوئی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے زاہد شاہ نے ہدایت کار کی حیثیت سے اپنی پہلی فلم ’’کرن اور کلی‘‘ بنائی، جو چار ستمبر 1981ء کو ریلیز ہوئی۔ یہ فلم بھی کراچی سرکٹ میں گولڈن جوبلی بنانے کا اعزاز حاصل کر گئی۔ نامور مزاحیہ اداکار عمر شریف کی بہ طور ہدایت کار پہلی فلم ’’مسٹر 420‘‘ بارہ جون 1992ء کو عیدالاضحی کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ ان کی بہ طور ہدایتکار پہلی ہی فلم کراچی میں شان دار گولڈن جوبلی سے ہم کنارہوئی۔ 

اس فلم نے مختلف شعبوں میں 9نگار ایوارڈز حاصل کیے۔ اس فہرست میں اب تک جو نام تادم تحریر موجود ہے، وہ ثمینہ پیرزادہ کا ہے۔ ان کی بہ طور ہدایت کارہ پہلی فلم ’’انتہا‘‘ 26فروری 1999ء کو ریلیز ہوئی اور اس نے کراچی سرکٹ میں شان دار گولڈن جوبلی منائی۔ سابقہ مرکزی سنیما ’’نشاط‘‘ پر ’’انتہا‘‘ 22ہفتے خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنی رہی اور مجموعی طور پر کل 61ہفتے نمائش پذیر رہی۔ مذکورہ بالا 15ہدایت کاران اور اُن کی پہلی فلم کا تذکرہ ہم نے کیا۔ ماضی میں فلموں کی مقبولیت کا اندازہ ان فلموں سے لگایا جاسکتا ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید