آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکا ،لودھراں

واقعۂ معراج

ایک رات حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے اور آپﷺ سے فرمایا’’ میرے ساتھ چلیے۔‘‘اُنھوں نے آپﷺ کو برّاق پر سوار کیا، جو ایک تیز رفتار سواری تھی۔وہاں سے آپﷺ کو مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا، جہاں حضرت جبرائیلؑ نے اذان دی اور آپﷺ نے تمام انبیائے کرامؑ کی امامت فرمائی۔ بعدازاں، آپﷺکو مسجدِ اقصیٰ سے آسمانوں پر لے جایا گیا۔ آپﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک تشریف لے گئے۔اِس دوران آپﷺ کو جنّت اور جہنّم بھی دِکھائی گئیں۔ اللہ ربّ العزّت سے ملاقات کی اور نماز کا تحفہ وصول کر کے واپس ہوئے۔صبح کو جب قریش نے سُنا کہ آپﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے، تو اُنہوں نے خُوب مذاق اُڑایا۔اِس سفرِ معراج کی سب سے پہلے تصدیق حضرت ابوبکرؓ نے کی اور اسی وجہ سے آپؓ کو’’ صدیق‘‘ کا لقب ملا۔

مدینہ منوّرہ میں اسلام کا آغاز

نبی کریمﷺ حج کے موقعے پر مکّہ مکرّمہ آنے والے قبائل کو دعوتِ اسلام دیا کرتے تھے۔ ایسے ہی چند الگ الگ مواقع پر مدینہ منوّرہ سے آنے والوں نے مِنیٰ کی ایک گھاٹی میں آپﷺ سے ملاقات کرکے اسلام قبول کیا اور آپﷺ کا ساتھ دینے کے لیے بیعت کی۔ اسے’’بیعتِ عقبہ اولیٰ‘‘ اور’’ بیعتِ عقبہ ثانی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔بعدازاں، آپﷺ نے اہلِ مدینہ کی درخواست پر نوجوان صحابی، حضرت مصعب بن عمیرؓ کو اُن کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُنھیں اسلام کے احکامات کی تعلیم دے سکیں۔

ہجرتِ مدینہ

رسولِ اکرمﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو مدینے کی طرف کُوچ کا حکم دیا، جس پر صحابہ کرامؓ اپنے جدّی پُشتی گھر اور جائیدادیں چھوڑ کر خالی ہاتھ مدینے کی جانب چل پڑے۔مسلمانوں نے ایک ایک، دو دو کر کے ہجرت کی۔صحابہ کرامؓ کے یوں ہجرت کرنے کو مشرکینِ مکّہ اپنے لیے شدید خطرہ تصّور کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کا بھی اُن کے پاس مدینہ پہنچ جانا تو مشرکین کے لیے ناقابلِ برداشت تھا، لہٰذا کفّارِ مکّہ نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں آپﷺ سے متعلق مشورہ ہوا کہ آپؐ کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اجلاس میں ابلیس بھی ایک بوڑھے کی شکل میں موجود تھا۔شرکاء کی جانب سے مختلف آراء پیش کی گئیں، کسی نے جلاوطنی کا مشورہ دیا، تو کسی نے قید کا۔ ابلیس نے کہا’’ جلا وطنی کے بعد وہ اپنی فوج جمع کر کے تم پر حملہ آور ہو سکتے ہیں اور قید کی صُورت میں اُن کے پیروکار تم پر دھاوا بول سکتے ہیں۔‘‘اِتنے میں ابو جہل نے مشورہ دیا’’ آپﷺ کو (نعوذ باللہ) قتل کردیا جائے اور اس کا طریقہ یہ اختیار کیا جائے کہ ہر قبیلے کا ایک ایک شخص واقعے کے وقت موجود ہو، سب مل کر حملہ کریں تاکہ قصاص میں کسی کو قتل نہ کیا جاسکے، خون بہا دے کر جان چُھڑا لی جائے۔‘‘ابلیس نے بھی اِس مشورے کو سراہا اور پھر یہی حتمی فیصلہ قرار پایا۔

قریش نے آدھی رات کے بعد آپﷺ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔اُدھر آپﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم مل چُکا تھا۔ لہٰذا آپﷺ نے حضرت علیؓ کو امانتیں سپرد کیں اور پھر اُنھیں اپنے بستر پر سُلا کر مکان سے بحفاظت باہر تشریف لے گئے۔ آپﷺ حضرت ابوبکرؓ کے گھر پہنچے اور راتوں رات مکان کی پُشت کی طرف سے ثور پہاڑ کی طرف چل پڑے۔اُس پہاڑ کے ایک غار میں دونوں نے قیام کیا۔جب مشرکین کو علم ہوا کہ آپﷺ تو جا چُکے ہیں اور بسترِ نبویؐ پر حضرت علیؓ محوِ استراحت ہیں، تو مکّے میں کھلبلی مچ گئی اور تمام راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی کہ کوئی باہر نہ جانے پائے۔نیز، آپﷺ کی گرفتاری پر ایک سو اونٹوں کا انعام مقرّر کردیا گیا۔انعام کے لالچ میں کئی ماہر کھوجی آپﷺ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

احوالِ غار

حضرت ابو بکرؓ غار کے اندر داخل ہوئے اور اُس کی صفائی کی۔ غار میں بہت سے سوراخ تھے، جنھیں وہ بند کر چُکے تھے، سوائے ایک سوراخ کے، جسے بند کرنے کے لیے کچھ میّسر نہ تھا، تو حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اپنی ایڑی اُس پر رکھ دی۔آپﷺ، حضرت ابو بکرؓ کی گود میں سَر رکھے آرام فرما تھے کہ حضرت ابوبکرؓ کو کسی چیز نے ڈس لیا۔ درد کی شدّت کی وجہ سے آنسو نکلے، جو آپﷺ کے چہرۂ انور پر گرے، جس پر آپﷺ بیدار ہو گئے۔ آپﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کی ایڑی پر اپنا لعابِ دہن لگایا، تو ساری تکلیف رفو ہو گئی۔اس غار میں تین دن قیام رہا۔ 

ان تین دنوں میں حضرت ابو بکرؓ کے صاحب زادے، عبداللہ رات کو خفیہ طور پر آتے، اہلِ مکّہ کے منصوبے بتاتے اور صبح سے پہلے واپس چلے جاتے۔نیز، بیٹی حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ کھانا لے کر آتیں، تو اُن کے غلام قدموں کے نشان مٹانے کے لیے وہاں بکریاں دوڑا دیتے تاکہ نشان باقی نہ رہیں۔حضرت ابو بکرؓ نے اِس سفر کے لیے دو اونٹنیاں خرید رکھی تھیں۔ قیام کے تیسرے دن اُن کے غلام، عامر دونوں اونٹنیاں لے کر پہنچ گئے، ساتھ میں عبداللہ بن اریقط بھی تھے، جنھیں راستہ دِکھانے کے لیے اجرت پر لیا گیا تھا۔ایک اونٹنی پر آپﷺ تھے اور دوسری پر حضرت ابو بکرؓ اور اُن کے خادم ، جب کہ عبداللہ بن اریقط آگے آگے چل رہے تھے۔ اس طرح چار افراد پر مشتمل قافلہ مدینے کی طرف روانہ ہوا ۔

دورانِ سفر کے اہم واقعات

بہت سے لوگ اونٹوں کے لالچ میں آپﷺ کی تلاش میں تھے۔ اُن میں ایک سراقہ بن مالک بھی تھا۔ وہ گھوڑا دوڑاتا آپﷺ تک پہنچ گیا، لیکن جیسے ہی قریب آیا، اُس کے گھوڑے کے چاروں پاؤں زمین میں دھنس گئے اور وہ نیچے گر پڑا۔اِسی سفر کے دَوران آپﷺ کا اُمّ ِ معبد خزاعیہ کے پاس سے گزر ہوا۔ اُن کے پاس ایک بکری تھی، جو کم زوری کے باعث چلنے سے بھی عاجز تھی۔ آپﷺ نے بکری کے تَھنوں پر ہاتھ پھیرا، تو وہ دودھ سے بَھر گئے۔ آپﷺ نے اپنے ہم سفروں سمیت دودھ نوش فرمایا اور بہت سا دودھ اُن کے لیے بھی چھوڑا۔ بریدہ اسلمی بھی انعام کے لالچ میں نکلے تھے، جو اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ جب آپﷺ سے سامنا ہوا اور بات چیت ہوئی، تو پہلی ہی ملاقات میں متاثر ہوئے اور قبیلے سمیت مسلمان ہو گئے۔

قبا میں تشریف آوری

آپﷺ آٹھ ربیع الاوّل، پیر کے دن قبا پہنچے۔قاضی سلمان منصور پوری کے مطابق، اُس دن آپﷺ 53 برس کے ہو چُکے تھے۔ انصار نے جب سے آپﷺ کی روانگی کی خبر سُنی تھی، تو روزانہ آپﷺ کے استقبال کے لیے صبح نکلتے اور شام کو مایوس واپس لَوٹ جاتے۔ اُس دن بھی واپس لَوٹ چُکے تھے کہ اچانک خبر آئی کہ جن کا انتظار تھا، وہ تشریف لے آئے ہیں۔لوگ استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔آپﷺ نے قبا میں چند دن قیام کیا، جس کے دَوران مسجد بھی تعمیر ہوئی، جس کے بارے میں قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے کہ’’ یہ پہلے ہی دن سے تقویٰ کی بنیاد پر بنی‘‘۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے۔

مدینہ منوّرہ آمد

آپﷺ کے مدینے میں داخلے کا دن بڑا تاب ناک تھا۔ بچیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کی آمد کی خوشی میں گیت گا رہی تھیں۔ ہر انصاری کی خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے گھر قیام فرمائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ میری اونٹنی کو چھوڑ دو، جہاں یہ بیٹھے گی، وہیں میرا قیام ہوگا۔‘‘اونٹنی آپﷺ کے ننھیال، بنونجار کے محلّے میں حضرت ابو ایّوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے بیٹھی، جس پر آپﷺ نے وہیں قیام فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے سب سے پہلے مسجد تعمیر کروائی، جس کے لیے پسند کردہ زمین کے مالک دو یتیم بچّے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے ان سے وہ زمین خریدی اور مسجد کی تعمیر میں بنفسِ نفیس شریک ہوئے۔مسجد کے ساتھ چند حجرے بھی تعمیر کروائے، جن کی دیواریں کچّی اینٹوں کی اور چھتیں کھجور کے تنوں کی تھیں۔

مواخاتِ مدینہ

مکّہ مکرّمہ سے ہجرت کر کے آنے والے صحابہؓ خالی ہاتھ تھے۔ اُن کے پاس رہنے کے لیے بھی کوئی مستقل جگہ نہ تھی۔ اس صُورتِ حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے مسلمانوں میں ایسا بھائی چارہ قائم کیا، جس کی مثال نہیں ملتی۔مجموعی طور پر نوّے صحابہ کرامؓ کے درمیان مواخات قائم کی گئی۔یہ بھائی چارہ محض وعدوں اور کھوکھلے نعروں پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس پر جس خُوب صُورتی سے عمل ہوا اور انصار نے جس وسیع القلبی سے کام لیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ 

مثلاً حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ربیعؓ کے درمیان بھائی چارہ ہوا تھا۔ حضرت سعدؓ نے حضرت عبدالرحمٰنؓ سے فرمایا’’ مَیں انصار میں سب سے زیادہ مال دار ہوں، آپؓ میرا آدھا مال لے لیں۔میری دو بیویاں ہیں، ایک کو آپؓ کے لیے طلاق دوں گا۔آپؓ اُس سے شادی کر لیجیے گا۔‘‘ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے فرمایا’’ اللہ تمہارے مال اور اہل میں برکت دے۔ مجھے بس بازار کی راہ دِکھا دو، مَیں اپنا بندوبست خود کر لوں گا۔‘‘اِسی طرح بعض انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپؐ اُن کے کھجور کے باغات مہاجر صحابہؓ میں تقسیم فرما دیں، لیکن مہاجرین نے لینے سے انکار کردیا۔

یہود کے ساتھ معاہدہ

مدینہ منوّرہ میں بنیادی طور پر دو طرح کے لوگ آباد تھے۔ ایک مشرکین، جن کے دو قبیلے تھے، اوس اور خزرج۔ تاہم اُن کی اکثریت اسلام قبول کرچُکی تھی۔دوم، اہلِ کتاب یعنی یہود۔ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل آخری نبی کی آمد کے شدّت سے منتظر تھے اور کہتے تھے’’ ہم اُن پر ایمان لائیں گے‘‘، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، تو باوجود حق جاننے کے، وہ اسلام لانے میں پس و پیش کرتے رہے۔ اس انکار کے پیچھے محض خاندانی عصبیت تھی کہ آخری نبی، بنی اسحاق کی بجائے بنی اسماعیل سے کیوں مبعوث ہوئے؟بہر حال، نبی کریمﷺ نے مدینہ منوّرہ کو محفوظ بنانے کے لیے یہودیوں سے بھی ایک معاہدہ کیا۔ معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اور یہودی باہم لڑائی جھگڑا نہیں کریں گے۔ اگر کوئی اور کسی ایک فریق سے لڑائی کرے گا، تو دوسرا فریق اتحادی کی مدد کرے گا۔اگر فریقین میں کوئی نئی بات سامنے آ جائے یا کوئی تنازع ہو جائے ، تو فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم ہی کریں گے۔

مسلمانوں کو طواف سے روکنا

یہ ہجرتِ مدینہ کے بعد کی بات ہے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عُمرے کے لیے مکّہ مکرّمہ گئے اور اُمیّہ بن خلف کے ہاں بطورِ مہمان ٹھہرے۔ ایک دن دوپہر کے وقت طواف کے لیے نکلے، تو ابو جہل نے دیکھ لیا اور اُمیّہ سے پوچھا’’ یہ کون ہے؟‘‘ جب تفصیل معلوم ہوئی، تو اُس نے کہا’’ اگر تم ابو صفوان یعنی اُمیّہ بن خلف کی پناہ میں نہ ہوتے، تو اپنے گھر سلامت واپس نہ پہنچ پاتے۔‘‘یہ سُن کر حضرت سعدؓ نے فرمایا’’ اگر مجھے طوافِ کعبہ سے روکو گے، تو مَیں تجھے ایسی چیز سے روکوں گا، جو تیرے لیے زیادہ باعثِ تکلیف ہو گی،یعنی تجارتی قافلہ، جو مدینے سے گزر کر شام جاتا تھا۔‘‘

اِس کے علاوہ بھی قریش نے مہاجرین کو مختلف طرح کی دھمکیاں دیں اور صرف دھمکیاں ہی نہیں، باقاعدہ نقصان پہنچانے کی بھی کوششیں کیں، یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرامؓ ایک لمبے عرصے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کے حجرۂ مبارک کے باہر پہرہ دیتے رہے، پھر قرآنِ پاک کی آیت نازل ہوئی کہ’’ آپؐ کو لوگوں سے اللہ بچائے گا‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہرہ ختم کروا دیا۔

جہاد کی اجازت

ان پُرخطر حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی حفاظت کے لیے جنگ کی اجازت دے دی۔اس کے بعد جنگی مہمّات کا سلسلہ شروع ہوا۔ جن میں آپﷺ بنفسِ نفیس شریک ہوئے، اُنھیں’’ غزوہ‘‘ اور وہ جنگی مہمّات جو آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی سربراہی میں روانہ کیں، خود اُن میں شریک نہیں ہوئے’’ سَرِیّہ‘‘ کہلاتی ہیں۔یاد رہے، غزوات اور سرایا میں وہ مہمّات بھی شامل ہیں، جن میں دشمن کی طرف پیش قدمی کی گئی، لیکن جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ (جاری ہے)