آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ولیم اور کیٹ کے پاس بچوں کی تحویل کیوں نہیں؟


برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کے پاس اپنے تینوں بچوں کی مکمل تحویل موجود نہیں ہے۔

برطانیہ میں عام لوگوں کی طرح شاہی خاندان کے لیے بھی کچھ قانون مقرر کیے گئے ہیں جو صدیوں سے چلتے آرہے ہیں اور جن میں ایک قانون کے مطابق پرنس ولیم اور شہزادی کیٹ کو اپنے تینوں بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کا 300 پُرانا قانون ہے جس کے مطابق شاہی خاندان کے نابالغ بچوں کی تحویل اُن کے والدین کے پاس نہیں بلکہ اُن کے دادا اور دادی کے پاس ہوتی ہے اور اُن ہی کے پاس اپنے پوتے پوتیوں کی پرورش، تعلیم اور سفر کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔

تین سو سال سے چلتے آئے اسی قانون کی وجہ سے پرنس ولیم اور شہزادی کیٹ کے پاس اس وقت اُن کے تینوں بچوں کی تحویل نہیں ہے، یہ قانون سال 1717 میں ختم ہوگیا تھا لیکن سال 1772میں اس قانون کی دوبارہ منظوری دے دی گئی تھی اور اُس وقت سے اب تک اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے تین بچے ہیں جن میں 7 سالہ پرنس جارج، 5 سالہ بیٹی شہزادی شارلٹ اور 2 سالہ پرنس لوئس شامل ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید