آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نوجوان نسل، دوران تعلیم مستقبل کا تعین کرے

کسی بھی ملک کی ترقّی کا دارومدار صحت مند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی وجہ سے ممکن ہے۔ نوجوان اور تعلیم لازم و ملزوم ہیں۔ علم افراد کی ذہنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے اور سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جس طریقے سے لوگوں کو زیورِ علم سے آراستہ کیا جاتا ہے اسے نظام تعلیم کہا جاتا ہے۔ ہر دور کے مختلف تقاضے اور ضرورتیں ہوتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی لازم و ملزوم ہیں۔ سنہرے مستقبل کے خواب ان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی پایۂ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ 

دوران تعلیم اپنے مستقبل کا تعین کرنے والے نوجوان ہمیشہ کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہیں۔ کیریئر کا انتخاب تھوڑا مشکل مگر انتہائی اہم فیصلہ ہے لیکن اس دُرست فیصلے کے بعد انسان کی زندگی میں آسانی سے کامیابیاں آتی ہیں۔ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت اپنے ذہنی رُجحان، دُنیا کی سائنسی تبدیلیوں اور معاشرے کے چیلنجز کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ موجودہ دور جدّت اور ترقّی کا دور ہے۔ اس دور کی سب سے بڑی ضرورت فنّی مہارت، صنعتی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ انسان نے ترقّی کی منازل طے کر کے وہ ایجادات حاصل کرلی ہیں جن سے خود انسان حیران ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام تر ترقّی فنّی تعلیم کی بدولت ہے۔ فنّی تعلیم سے مراد کسی فرد کو کسی خاص شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت کی خصوصی تربیت دینا ہے تا کہ ہنرمند انسان آسانی سے ذریعہ معاش حاصل کر سکے۔ آج سائنسی ترقّی کے تیز رفتار دور میں ہمارے نوجوانوں کو فنّی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو عہد حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ اور جدید علوم سے آراستہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ فنّی تعلیم سے فائدہ اُٹھا کر ہزاروں بے روزگار نوجوان اپنی صلاحیت اور لیاقت میں اضافہ کر کے باعزت روزگار کے قابل ہو جاتے ہیں۔ 

تربیت یافتہ نوجوان جونہی تعلیم مکمل کرتے ہیں تو تھوڑی سی جدوجہد سے فوراً روزگار مل جاتا ہے۔ فنّی تعلیم اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سیکھنے کی خوشی کا احساس بھی دیتی ہے۔ ہنرمند نوجوان معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں، یہ دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے طبقوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

دُنیا میں انہی قوموں نے تیزی سے ترقّی کی منازل طے کی ہیں جنہوں نے اپنی نوجوان نسل کو عہدِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید علوم سے آراستہ کیا ہے۔ نصاب موجودہ دور کے مطابق سائنسی بنیاد پر مرتب کیا جائے اور فنّی تعلیم سے آگہی، فروغ اور اس جانب رُجحان کے لیے مڈل اور میٹرک کی سطح سے ہی ایک یا دو ٹیکنیکل کورس لازمی مضمون کے طور پر شامل کیے جانے چاہئیں، اس کے نتیجہ میں نوجوان نسل ابتدا ہی سے فنّی تعلیم سے روشناس ہو گی۔ 

پاکستان کے صنعتی شعبے کو مضبوط اور فعال بنانے کے لیے ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو فنّی تعلیم میں قائدانہ صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ وہ بچّے یا نوجوان جو غربت یا دیگر مجبوریوں کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔ اساتذہ کرام ان کی توجہ فنّی تعلیم کی طرف راغب کریں تا کہ وہ بے راہ روی کا شکار ہونے کی بجائے فعال کردار ادا کرسکیں۔ آگہی نہ ہونے اور عمومی تعلیمی اداروں کے مقابلے میں ٹیکنیکل اداروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بچّے بچپن میں ہی گھر کی مشینی خراب چیزوں پر تجربہ کر کے دُرست کرتے ہیں اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور انہیں یہ سب کچھ کر کے خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ والدین کو اپنے بچّوں کی روزمرّہ زندگی کی تعلیمی اور ذہنی سرگرمیوں پر نظر رکھنا چاہیے اور اسی کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں اور بچّوں کی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق اُن کو تعلیم دلوائیں۔ فنّی تعلیم اور ہنرمندی کا راستہ ہی ان بچّوں کو خوشحالی کی منزل تک پہنچائے گا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک کے نوجوانوں کوہنرمند بنا کر ہی ہمارا مستقبل محفوظ رہ سکتا ہے۔ زندگی کو گزارنے، اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش میں حاصل کی جانے والی یہ تعلیم جس میں کامرس، آرٹس، سائنس، فلسفہ، تاریخ، وکالت، ڈاکٹری وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں۔ اس پر لاکھوں روپے خرچ کر دیئے جاتے ہیں۔ ہر طالب علم کا مقصد ڈگری کا حصول ہے تا کہ وہ اپنے آنے والے مستقبل کو بہتر بنا سکے لیکن کیا ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک طالب علم روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے؟ 

اگر ہمارے ملک کے حالات کو دیکھا جائے تو آج کل ایسے ڈگری یافتہ بی اے، ایم اے، ایم بی اے اور دیگر مختلف ڈگریاں لے کر نوجوان مختلف سرکاری و پرائیویٹ اداروں کے چکر لگاتے رہتے ہیں مگر ہر طرف سے انہیں مایوس کن جواب ملتا ہے اس کی وجہ سفارش اور رشوت کلچر ناسور کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیل گیا ہے جس کی وجہ سے اہل نوجوان بیروزگاری کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ایک عام نوجوان جو اپنی آدھی زندگی ڈگری کے حصول میں گزار دیتا ہے اور کسی ہنر کو سیکھنے کی طرف توجہ نہیں دیتا اس کو اپنی ساری زندگی بے روزگاری کی نظر کرنی پڑتی ہے۔ نوجوان نسل تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی ہنر کو بھی حاصل کرے، تعلیم کے ساتھ شارٹ ٹرم ٹیکنیکل کورسز بھی کریں۔ نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن جیسے تھری ڈی ڈیزائننگ، فیشن ڈیزائننگ، الیکٹریکل ایپلائنسز، موبائل ریپیئرنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، موٹر وائنڈنگ، ویلڈنگ، پلمبر، کمپیوٹر ہارڈ ویئر اینڈ سافٹ ویئر، الیکٹریکل وائرنگ، الیکٹریشن، سول ڈرافٹسمین، ریفریجریشن اینڈ ایئرکنڈیشنگ اور دیگر ٹیکنیکل کورسز اپنی ذہنی صلاحیت اور دلچسپی کے تحت حاصل کرنا چاہئے۔ 

نجی سیکٹر اپنے تئیں یہ فریضہ سرانجام دے رہا ہے لیکن جب تک حکومت کی شراکت داری اور سرپرستی نجی سیکٹر کے ساتھ نہ ہوگی، اس سلسلے کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت اور مختلف این جی اوز کی جانب سے بہت سی اسکیمیں متعارف تو کروائی جا رہی ہیں لیکن فنّی تعلیم کے شعبہ کی جانب خصوصی نظرِ کرم نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پستے نوجوان نسل کے لیے مستقبل کی راہیں تاریک ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹس تو موجود ہیں البتہ وہاں پڑھایا جانے والا کورس جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ اب نہیں رہا ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو فنّی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے مزید پولی ٹیکنک اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے اور وہاں پڑھایا جانے والا کورس اَپ گریڈ کیا جائے۔ 

اسے دور حاضر کی جہتوں اور طلبا کی ذہنی صلاحیتوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فنّی کاریگروں کی محنت کی قومی و صنعتی سطح پر ہرممکن حوصلہ افزائی کی جائے تا کہ نوجوانوں میں فنّی تعلیم و تربیت کے حصول کا شوق بڑھے۔ کوئی بھی ہنر کسی بھی شعبے میں سیکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی تربیتی ادارے میں فیس ادا کر کے ایک خاص ہنر کا تربیتی نصاب مکمل کر یں۔ مثلاً کسی کمرشل انسٹی ٹیوٹ میں مختصر نویسی (شارٹ ہینڈ رائٹنگ) کی تربیت حاصل کریں یا کسی فنّی تربیت کے ادارے میں کوئی تکنیکی ہنر، مثلاً ڈرافٹس مین یا ویلڈر یا کسی دُوسرے ہنر کی تربیت مکمل کریں۔

اس طریقے کے فائدہ یہ ہیں کہ اگر آپ نے کسی اچھے تربیتی ادارے کا انتخاب کیا تو آپ ایک مقررہ مدت میں ایک باقاعدہ نصاب کے تحت اس ہنر کے نظری اور (تھیوری اور پریکٹیکل) پہلوئوں سے واقف ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ تربیت چھ ماہ کی ہے تو چھ ماہ میں ہی مکمل ہو جاتی ہے۔ تعمیر کے ہر شعبے میں فنّی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیکٹریاں، سڑکیں، پُل، نہریں، عمارتیں، ہوائی اڈّے وغیرہ بتانے کے لیے ٹیکنیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک کافی تکنیکی ہاتھوں کے افراد کا مالک ہے تو بلاشبہ ترقّی کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔

ہماری حکومت کو قوم کی خوشحالی کے لیے فنّی تعلیم پر اعلیٰ ترجیح دینی چاہیے۔ فنّی تعلیم کی اہمیت اور افادیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے تیز رفتار دور میں فنّی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہے، فنّی تعلیم سے معاشی چیلنجز اور بیروزگاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بیروزگاری کو دُور کرنے کے لیے نوجوانوں کو صنعتی اور فنّی تعلیمی پالیسیوں کو روشناس کرانے کے لیے دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ زبانی کلامی دعوئوں اور کھوکھلے نعروں سے نہیں البتہ عملی اقدامات کر کے فنّی تعلیم و تربیت کے شعبے کو ترقّی دی جا سکتی ہے۔