سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کھانے میں اضافی نمک شامل کرنے سے ڈپریشن لاحق ہونے کے خطرات ایک چوتھائی تک بڑھ جاتے ہیں۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ماہرین صحت لوگوں کو ہدایت دیتے آ رہے ہیں کہ دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کم کرنے کے لیے نمک کا استعمال کم کیا جائے۔
اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ کھانے میں بار بار نمک ڈالنا ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
چینی سائنسدانوں نے 15,000 سے زائد بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ زیادہ مقدار میں نمک استعمال کرتے تھے ان میں ڈپریشن کا خطرہ 26 فیصد زیادہ تھا۔
سائنسدانوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ نمک کس طرح ایسا اثر ڈال سکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ نمک کا زیادہ استعمال اس حیاتیاتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کر سکتا ہے جو جسم کے تناؤ (اسٹریس) کے ردعمل کو منظم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اسٹریس ہارمونز کی ضرورت سے زیادہ پیداوار ہوتی ہے۔
انھوں نے اپنی تحقیق میں یہ بھی نوٹ کیا کہ زیادہ نمک کھانے سے جسم میں سوزش بڑھ سکتی ہے، جو دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتی ہے جو جذباتی توازن کو کنٹرول کرتے ہیں۔
گوانگ ڈونگ پروونشل پیپلز اسپتال کے محققین جرنل نیوٹریشنل نیوروسائنس میں تحریر کے بارے میں بتایا کہ کھانے کی میز پر بار بار نمک شامل کرنے اور ڈپریشن کے خطرے کے درمیان نمایاں مثبت تعلق پایا گیا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ کھانے میں میز پر اضافی نمک ڈالنے کی عادت کو کم کرنا عام آبادی میں ڈپریشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں رضاکاروں سے پوچھا گیا کہ وہ کھانے کی میز پر اپنے کھانے میں کتنی بار نمک ڈالتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں مختلف آپشنز دیے گئے تھے، جو شاذ و نادر سے لے کر بہت زیادہ تک تھے۔
یاد رہے کہ اس میں کھانا پکاتے وقت استعمال ہونے والے نمک کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔