آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی سی بی چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان تنقید سے گھبرا گئے

اب سے دو سال پہلے جب احسان مانی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین بنے تو لگ رہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق وہ پاکستانی ٹیم کو بلندیوں کی جانب لے کر جائیں گے لیکن دو سال مکمل ہونے کے بعد پی سی بی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئیں۔ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو نئے آئین کا سہارا دے کر سسٹم سے باہر کردیا گیا۔پاکستان ٹیم میں تینوں فارمیٹ کے کپتان سرفراز احمد کے ساتھ پوری ٹیم انتظامیہ کو فارغ کردیا گیا۔لیکن دو سال میں نہ پاکستانی کرکٹ تنازعات سے باہر آئی اور نہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری دکھائی دی۔

احسان مانی ،آئی سی سی کے صدر رہ چکے تھے لیکن پی سی بی میں آنے کے بعد نہ وہ اپنے فیصلوں میں پختہ نظر آرہے ہیں اور نہ ان کے کئے گئے فیصلوں سے بہتری دکھائی دے رہی ہےاحسان مانی نے سبحان احمد کو ہٹا کر اپنے پسندیدہ وسیم خان کو پاکستان کرکٹ میں پہلے ایم ڈی اور پھر سی ای او مقرر کیا لیکن وسیم خان بھی پاکستان کرکٹ کو مایوسیوں کے علاوہ کچھ نہیں دے سکے۔یہ مایوسی ان کے امریکی اخبار کو دیئے گئے انٹر ویو میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔

وسیم خان نے انٹر ویو میں پاکستان کے بارے میں منفی تصویر کھینچی ہے۔لگ رہا ہے کہ پاکستان آنے والے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان نے اٹھارہ ماہ میں مسلسل تنقید کی وجہ ہمت ہاردی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی محبت میں یہاں کھینچ لائی ہے لیکن جواب میں مجھے وہ محبت نہ مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے یہ عہدہ قبول کیا تو مجھ پر ذاتی حملے کئے گئے۔ میں پاکستان سسٹم کو تبدیل کرنے آیا تھا۔لیکن کبھی میری تنخواہ کو ایشو بنایا گیا اور کبھی میرے اردو بولنے کے انداز پر اعتراض کیا گیا۔میرے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ پاکستان میں لوگ ذہنی طور پر میری میزبانی کے لئے تیار نہیں تھے۔

پی سی بی گورننگ بورڈ میٹنگ میں ایک گروپ نے میرے خلاف احتجاج کیا۔کوئٹہ میں ہونے والی اس میٹنگ میں میں میری تقرری کی منظوری دی جانا تھی۔اس میں ہنگامہ ہوگیا ۔میٹنگ کے بعد میری اہلیہ سلمی نے گھبرا کر روتے ہوئے مجھے فون پر کہا کہ آپ ہر ٹی وی چینل پر ہیں اور لگ رہا ہے کہ آپ کو ملازمت سے محروم ہونا پڑے گا۔میں نے سلمی کو کہا کہ فکر نہ کرو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ پھر میری تنخواہ کو لیک کردیا گیا اب روزانہ اس پر بحث ہورہی ہے۔میرے بارے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میری تقرری ایک بااثر شخص کے کہنے پر کی گئی ہے۔

وسیم خان نے کہا کہ کوئٹہ کی میٹنگ کے دوران جب ٹی وی چینل پر بریکنگ چلنا شروع ہوئی تو میری اہلیہ سلمی میری اس ملازمت کی وجہ سے گھر سے سینکڑوں میل دور برمنگھم سے لاہور میں موجود تھی ۔وسیم خان نے کہا کہ ایک دن وسیم اکرم نے مجھے فون کرکے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ سفارش کا کیا مطلب ہے۔

49سالہ وسیم خان نے بے بسی میں کہا کہ لگ رہا ہے کہ پاکستان میں یہ ملازمت باہر سے آنے والے پروفیشنل کے لئے نہیں پاکستانیوں کے لئے ہے اس لئے میرے حوالے سے آئے دن تنازع کھڑا کردیا جاتا ہے۔لوگوں نے مجھے ذہنی طور پر قبول نہ کرکے پہلے دن سے مجھے بیک فٹ پر کردیا ہے۔احسان مانی اور وسیم خان پاکستان ٹیم کو تو جیت کی راہ پر گامزن نہ کرسکے لیکن اسی کوشش میں پاکستان کے سابق لیفٹ آرم اسپنر اقبال قاسم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کے چیرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا ۔ 

اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ وہ کرکٹ کمیٹی کے ایک ڈمی چیرمین ہیں جو ایک مستحق میچ ریفری بھی تجویز نہیں کرسکتا۔انہوں نے اپنے استعفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے ایسے کھلاڑی جو اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوتا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اقبال قاسم اس بات پر سخت ناخوش تھے کہ کرکٹ کمیٹی کی ایک سب کمیٹی وسیم اکرم کی سربراہی میں بنائی گئی تھی جس میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز عمر گل اور علی نقوی بھی شامل تھے۔ اس سب کمیٹی کا کام ڈومیسٹک کرکٹ اور اس میں میچ ریفریز اور امپائرز کی تعیناتی سے متعلق معاملات پر نظر رکھنا تھا لیکن اس سب کمیٹی کی تجاویز مرکزی کرکٹ کمیٹی کے سامنے نہیں آئیں۔ 

اقبال قاسم پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کیے جانے پر بھی خوش نہیں تھے اور انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین احسان مانی اور دیگر حکام کو اپنی تجاویز میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھنے کے لیے بھی کہا تھا۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اپنے تین سالہ عہدے کی معیاد پوری ہونے کے بعد معاہدے میں توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتے ؟ اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ مزید بارہ ماہ کام کرنے کے بعدوہ پی سی بی میں اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ اس سلسلے میں احسان مانی سے رابطہ کیا تو انہوں نے واضع جواب دینے سے گریز کیا انہوں نے کہا کہ میرا تقرر تین سالوں کے لئے ہوا ہے اور ابھی ایک سال باقی ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ میں پاکستان کرکٹ کی خدمت کے لئے یہاں موجود ہوں۔ اگر پاکستان کرکٹ کو میری ضرورت ہے تو ابھی میرے پاس بارہ ماہ کا وقت باقی ہے؟ لیکن جو حالات ہیں یہی لگتا ہے کہ عمران خان احسان مانی کو تین سال سے پہلے گھر بھیج سکتے ہیں۔ عام طور پر خاموش رہنے والے سابق کپتان سرفراز احمد کے صبر کا پیمانہ مانچسٹر میں اس وقت لبریز ہوگیا جب ٹیم انتظامیہ نے تین ٹیسٹ اور دو ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل میں بنچ پر بٹھانے کے بعد سرفراز احمد کو آخری میچ کھلانے کا فیصلہ کیا تو ٹیسٹ وکٹ کیپر نے میچ کھیلنے پر شدید تحفظات ظاہر کئے اور میچ کھیلنے سے انکار کردیا تھا تاہم یونس خان کے سمجھانے اور مصباح الحق کی یقین دہانی پر سرفراز احمد میچ کھیلنے کے لئے رضامند ہوئے۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ سرفراز احمد نے انکار نہیں کیا تھا اس کے تحفظات تھے اگر میں بھی سرفراز احمد کی جگہ ہوتا تو یہی کرتا۔ہمیں سرفراز احمد کے خدشات دور کرنے کی ضرورت تھی جو ہم نے دور کر دیئے اور معاملہ ختم ہوگیا۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے اعتراف کیا کہ سرفراز احمد میرے،بابر اعظم اور یونس خان کے سمجھانے پر میچ کھیلنے کے لئے رضامند ہوئے تھے۔

عام طور پر خاموش اور سکون رہنے والے سرفراز احمد نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے ساتھ پی سی بی کو اپنے کام کرنے کا انداز تبدیلی لانا ہوگی۔یہی تبدیلی ہی احسان مانی اور وسیم خان کو لائف لائن دے سکتی ہے لیکن کارکردگی میں بہتری کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید