آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

علی ظفر بھی راشد محمود کا ساتھ دینے میدان میں آگئے

پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار علی ظفر بھی پرائڈ آف پرفارمنس اداکار راشد محمود کا ساتھ دینے میدان میں آگئے ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ گلوکار علی ظفر نے شمعون عباسی کے سینئر اداکار راشد محمود کے حوالے سے کیے گئے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے اُن پُرانے دِنوں کا ایک واقعہ بیان کیا کہ جب اُنہوں نے سرکاری ٹی وی چینل کا دورہ کیا تھا۔

علی ظفر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’اُنہیں وہ دن یاد ہے جب وہ سرکاری ٹی وی چینل کا دورہ کرنے گئے تھے اور وہاں اُنہوں نےدیکھا تھا کہ ایک سینئر اور نامور فنکار ادارے سے درخواست کررہا تھا کہ اُن کے کام کی ادائیگی بڑھائی جائے کیونکہ اُس وقت بھی ادارہ اُنہیں انتہائی کم ادائیگی کر رہا تھا۔‘

گلوکار نے لکھا کہ ’یہ سارا منظر دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہم یں اُس وقت تک یہاں کام نہیں کروں کہ جب تک یہ ادارہ اِن معاملات کو ٹھیک کرنے کی منظوری نہیں دے دیتا۔‘

علی ظفر نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘ہمارے یہاں فنکاروں، اداکاروں، پروڈیوسرز حتیٰ کے صحافی اور دیگر ملازمین کے لیے اپنی ماہانہ وار تنخواہوں کی وقت پر نہ ادائیگی ایک معمول بن گیا ہے۔‘

اُنہوں نے لکھا کہ ’ہمیں اپنے معاشرے سے اِس کلچر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور یہاں ایک ایسا قانون نافذ ہونا چاہیے کہ جس کے تحت تنخواہیں وقت پر ادا کی جائیں۔‘

گلوکار نے اپنے اگلے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ایک معاشرہ تخلیقی اور ادبی صنعت کے ساتھ جس طرح سلوک کرتا ہے اُسی سے دُنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔‘

واضح رہے کہ سینئر اداکار راشد محمود کو محرم الحرام میں مرثیہ پڑھنے پر سرکاری ٹی وی چینل کی جانب سے صرف 620 روپے کا چیک دینے پر شمعون عباسی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر راشد محمود کی اور اُس چیک کی تصویر شیئر کی تھی جو سرکاری ٹی وی چینل کی جانب سے سینئر اداکار کو بھیجا گیا تھا۔

شمعون عباس کا کہنا تھا کہ راشد محمود کو سرکاری ٹی وی چینل کی جانب سے اُن کے کام کی ادائیگی میں صرف 620 روپے کا چیک بھیجنا میری سمجھ سے باہر ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دِنوں سرکاری ٹی وی چینل نے راشد محمود کو محرم الحرام میں مرثیہ پڑھنے پر صرف 620 روپے کا چیک دیا تھا جس کے بعد راشد محمود نے سرکاری ٹی وی چینل پر مزید کام نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

راشد محمود کا کہنا تھا کہ سرکاری ٹی وی چینل نے 620 روپے کا چیک بھیج کر میری سالوں کی خدمات کی تضحیک کی ہے۔ 

انٹرٹینمنٹ سے مزید