آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اپوزیشن اکثریت کے باوجود ناکام، سینیٹ سے مسترد اینٹی منی لانڈرنگ سمیت تمام بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس، 16حکومتی، 36 اپوزیشن ارکان غیرحاضر

سینیٹ سے مسترد اینٹی منی لانڈرنگ سمیت تمام بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس


اسلام آباد (نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں، ٹی وی رپورٹ) اپوزیشن عددی اکثریت کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی بلوں کی منظوری روکنے میں ناکام رہی، حکومت نے سینیٹ سے مستردکردہ اینٹی منی لانڈرنگ سمیت 8؍ بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس کرالئے، مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020ء، انسداد تطہیر زر (دوسری ترمیم) بل 2020ء، فن مساحت و نقشہ کشی (ترمیمی) بل 2020ء، عدالت عالیہ اسلام آباد (ترمیمی) بل 2019ء، انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020ء، پاکستان میڈیکل کمیشن بل 2020ء، میڈیکل ٹربیونل بل 2019ءاور دارالحکومت علاقہ جات معذوروں کے حقوق بل 2020ء منظور کر لیے گئے۔

حکومت کے16، اپوزیشن کے 36ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے، اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی اور بابراعوان نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے بولنے کی مخالفت کی ،تحریک پر رائے شماری کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابہ کیا اور بات حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی تک چلی گئی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020ءمنظور کر لیا گیا جبکہ وقف املاک بل میں ترمیم کی بھی منظوری دیدی۔

اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر اچھال دیں اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئی، رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان مشیرہیں تحریک پیش نہیں کرسکتے، آئین اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ روکتاہے، جس پر وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ مشیر صرف ووٹ نہیں دے سکتا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے سے نہیں روکتا۔ 

قبل ازیں سینیٹ نے انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل2020ء مسترد کر دیا تھا۔ چیف وہپ سینیٹر سجاد حسین طوری نے بل ایوان میں پیش کیا،انسدا دہشت گردی تیسرے ترمیمی بل پر ووٹنگ کے دوران حمایت میں 31 جبکہ مخالفت میں 34 ووٹ آئے جبکہ جماعت اسلامی نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ترمیمی بل اور سرویئنگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل بھی منظور کیا گیا۔ 

ضمنی ایجنڈے کے تحت میڈیکل ٹرییونل بل 2019 اور اسلام آباد معذور افراد کےحقوق کا تحفظ بل 2020 بھی منظور کرلیا گیا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی بل کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور ملیکہ بخاری کی پیش کردہ شقوں کو منظور کرلیا گیا جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔

اسپیکر اسد قیصر نے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی اور مشیر پارلیمانی امور کی مخالفت پر بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ دونوں کا مؤقف تھا کہ صرف اسی رکن کو فلور مل سکتا ہے جس نے ترمیم پیش کرنی ہو۔بلز کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سب سے پہلے ڈاکٹر بابر اعوان کی جانب سے اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء کی تحریک پیش کی گئی۔ تحریک کی حمایت میں 200 جبکہ مخالفت میں 190 ارکان نے ووٹ دیا۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا اسپیشل اسٹنٹ اور ایڈوائزر کے حوالے سے فیصلہ واضح ہے بابر اعوان مشیرہیں تحریک پیش نہیں کرسکتے، آئین اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ روکتاہے۔

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ کارروائی میں حصہ لینے سے نہیں روکتا، مشیروں پر صرف ووٹ دینے کی قدغن ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا جو حوالہ دیا گیا، اس میں ایسی بات کہیں نہیں لکھی۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ میاں رضا ربانی نے جس فیصلے کا حوالہ دیا، لکھا ہوا بتا دیں۔ 

بابر اعوان ایڈوائزر ہیں، وہ بل پیش کر سکتے ہیں۔ اسکے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی غیر حاضری میں سینیٹ سے مسترد کئے گئے انسداد دہشت گردی ایکٹ 2020میں تیسری ترمیم کا بل پار لیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیجنے کی تحریک کی منظوری دیدی۔ 

قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایک گھنٹہ 20 منٹ تک معطل رہی ۔اجلاس کورم پورا نہ ہونے کو ایک گھنٹہ سے زائد وقت ہونے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ خواجہ آصف نے عدالت جانے کا اعلان کر دیا جس پر مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو بھی ساتھ لیکر جائیں جنہیں عدالتیں بلا رہی ہیں۔ 

بدھ کو قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں دس بجکر 27منٹ پرشروع ہوا ۔اجلاس شروع ہوتے ہی لیگی رکن قومی اسمبلی شیخ فیاض الدین نے کورم کی نشاندہی کردی۔ شیخ فیاض الدین نے کہاکہ سر کورم پورا نہیں ہے اگر آپکو بھی گن لیں تب بھی گنتی پوری نہیں ہوتی ۔ وزرا ء کی سیٹیں خالی پڑی ہیں ۔

اہم خبریں سے مزید