آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وطن عزیز میں گزشتہ دو برسوں کے دوران پولیو کے نئے کیسوں کے سر اٹھانے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے جس پر عالمی ادارہ صحت نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے اس صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت نے قومی انسداد پولیو مہم کا جامع پروگرام بنایا ہے جس کے تحت اس ماہ ریکارڈ سطح پر تین کروڑ 96لاکھ بچوں کو اس بیمار ی سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے یہ مہم 21سے 25ستمبر تک جاری رہے گی۔ ان پانچ میں سے دو دن کیچ اپ ڈیز کے طور پر رکھے گئے ہیں جس میں محروم رہ جانے والے بچوں کی پولیو ویکسی نیشن ہوگی یہی وہ ناگزیر امر ہے جس کی عرصہ سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی پاکستان کم و بیش گزشتہ 50سال سے دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پولیو کے خلاف نبرد آزما ہے عالمی سطح پر 1988ء میں اس کے کیسوں کی تعداد محض ایک فیصد رہ گئی تھی لیکن افغانستان اور پاکستان ان ملکوں میں شامل نہ تھے تاہم پاکستان کو 2018ء میں اس وقت کامیابی ملی جب یہاں اس کے کیسوں کی تعداد 20 ہزار کم ہوکر چار ہزار پر آ گئی تھی خیال تھا کہ اگلے دو تین برسوں میں یہ تعداد بھی صفر ہو جائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا بلکہ اس کے بعد اگلے دو برسوں میں اس کے کیسوں میں اضافہ کی کئی شہروں سے اطلاعات موصول ہوئیں جس کا وزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیا اور آمدہ مہم اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ من حیث القوم ہر ذی شعور کو اس مہم میں کسی نہ کسی طرح شامل ہونا چاہئے تاکہ 100فیصد نتائج یقینی بنائے جا سکیں واضح رہے کہ یہ مرض گندگی سے پھیلتا ہے اس کا وائرس غذا کے ساتھ شامل ہوکر آنتوں تک جا پہنچتا ہے اور پھر وہیں پرورش پاتا ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں متذکرہ مہم کو ٹھوس اور موثربنانے کیلئے نکاسی آب اور صحت و صفائی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998