آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب کو 7لاکھ ٹن گندم پر اربوں سبسڈی دینا ممکن نہیں، عمر حمید

اسلام آباد (حنیف خالد) وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی عمر حمید نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت وزیراعظم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے آٹے کا بحران کنٹرول کریگی۔ اس بحران کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کیا جائیگا۔ وہ نمائندہ جنگ سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے جبکہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر عبدالرئوف مختار نے کہا ہے کہ جنم لینے والا آٹے کا بحران حکومتی مس مینجمنٹ کا نتیجہ ہے جس نے فلور ملوں کو اُن کا خام مال گندم کٹائی کے موقع پر خریدنے سے روکا۔ سابق چیئرمین افتخار احمد مٹو کے مطابق ہر سال فلور ملز مالکان کم و بیش 15لاکھ ٹن گندم کسانوں سے اچھی قیمت دیکر خریدا کرتے تھے‘ مگر اس سال محکمہ خوراک نے فلور ملز مالکان کیلئے گندم کی خریداری شجر ممنوعہ قرار دیدیا۔ فلور ملوں کی بجائے گندم مافیا‘ سٹاکسٹوں اور ذخیرہ اندوزوں نے گندم کی خریداری کی اور آج وہ فلور ملز مالکان کو منہ مانگے داموں پر گندم دے رہے ہیں۔ کل اگر آپ ایک لاکھ بوری گندم خریدنا چاہتے ہیں تو ذخیرہ اندوزوں سے منہ مانگے دام دیکر اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ آخر وہ گندم بھی کہیں سے آتی ہے۔ ایک وقت تھا گندم کی قیمت میں چار روپے من اضافہ ہوتا تھا تو پورا ملک ہل جاتا تھا‘ اب سٹاکسٹ چالیس سے پچاس روپے من بھی گندم مہنگی کرتے ہیں تو حکومت کے کان پر جوں نہیں

ں رینگتی۔

ملک بھر سے سے مزید