آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایران پر پابندیوں کے تنازع سے اقوام متحدہ کو نئے چیلنجز کا سامنا

واشنگٹن: کترینہ مینسن

برسلز:مائیکل پیل

ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے مابین ہونے والے تنازع نےمابعد جنگ کثیر الجہتی انجن کو مفلوج کردیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جوہری معاہدے جس سے امریکا دو سال قبل دستبردار ہوچکا تھا، اس معاہدے کی شرائط کے تحت گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ایران پر پابندیوں کے فیصلے کو30 روز بعد دوبارہ نافذ العمل ہوجانا چاہئے۔

تاہم سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیہ کسی ایسے امریکی اقدام کی مخالفت کرتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ معاہدے سے نکل جانے کے بعد اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے کہ کون سا پہلو درست ہے، مستقل جمود کا خطرہ اور اصلاحات کے مطالبے میں وزن بڑھانا۔ یورپی مبصرین کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کے تنازع سے سلامتی کونسل کی ساکھ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

اس سے قبل ترکی سے امداد کی فراہمی پر جولائی میں ویٹو عائد کرنے سمیت شام کی خانہ جنگ جیسے تنازعات پرروس اور چین کارروائی روک چکے ہیں ۔تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کے تنازع جیسا کوئی معاملہ یاد نہیں ہے کہ جس میں سلامتی کونسل اس بارے میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہو کہ آیا امریکا اقوام متحدہ کی پابندیوں کو معمول کی صورتحال پر واپس لاسکتا ہے یاتصادم کے خوف کے بغیر امریکا اور اس کے مخالفین دونوں کا فتح کا دعویٰ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔

امریکی اقدام کے ایک سینئریورپی عہدیدار نے کہا کہ اس نے سلامتی کونسل میں ایک بہت بڑا فساد پیدا کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ایران کے معاملے سے کہیں آگے جاتے ہوئے منفی اثرات پیدا ہوں گے۔

کچھ مغربی مبصرین کو تشویش ہے کہ امریکا سزا کے طور پر دیگر اقدامات کی حمایت روک سکتا ہے اور متنبہ کیا کہ یہ تنازع روس اور چین کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایک مستقل جمود ایک حقیقی امکان کی طرح لگتا ہے۔

2015 کے ایران جوہری معاہدے ، جس میں ایران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام پر حدود کی پابندی کرنے کا وعدہ کیا تھا، کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ عہدیدار نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات میں شکست کی صورت میں لڑکھڑاتے معاہدے کو ڈبونا چاہتے ہیں اور نئی امریکی انتظامیہ اسے بچانے کی کوشش کرے گی۔

اسنیپ بیک کے عمل کو دراصل بغیر کسی ووٹ کے ایرانی عدم تعمیل کی صورت میں یکطرفہ طور پر پابندیاں عائد کرنے کا ایک طریقہ تصور کیا گیا تھا، جسے روس اور چین کی جانب سےویٹو کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

ایک دوسرے سینئر یورپی عہدیدار نے کہا کہ اس کا نفاذ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی قانونی حیثیت اور اختیارات کے لئے بنیادی چیلنج ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ اب ہم سلامتی کونسل میں بڑے پیمانے پر تقسیم اور تناؤ کے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔

ایرانی معاہدے کے بارے میں کس کا نظریہ درست ہے اس بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے کسی عمل کی عدم موجودگی میں ، امریکی اقدام کی مخالفت کرنے والے سفارت کاروں کا موقف ہے کہ یہ سلامتی کونسل کے 15 مضبوط ارکان کے اجلاس میں طے ہوگا کہ وہ اپنی قراردادوں کا تعین اور اس کی تشریح کس طرح کرے گی۔ ان میں سے کچھ امریکا کو نظرانداز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک سفارت کار نے کہا کہ توڑ پھوڑ روس اور چین کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، ان دونوں پر امریکا کا الزام ہے کہ وہ 18 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی اسلحے پر پابندی کی میعاد ختم ہونے کے بعد ایران کواسلحہ بیچنا چاہتے تھے، امریکا پابندیوںکی توسیع حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

سلامتی کونسل کے سفارت کار نے کہا کہ امریکا کو اس مشکل پوزیشن میں دیکھ کر روس اور چین کے پیچھے کافی پیروکار نا ہونے کے باوجود دونوں کے لئے کافی کشش بالکل واضح ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ روس اور چین ہی تھے جو اس کونسل کی ناکامی اور غیرفعال رہنے پر مسرور ہیں۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے فرانس،جرمنی اور برطانیہ نام نہاد ای 3 ایرانی آیت اللہ کے ساتھ شانہ بشانہ ہونے کے انتخاب کے طور پر بیان کیا۔

امریکی پابندیاںکس قدر اثرپذیر ہیں کے پیش نظر یہ واضح نہیں ہے کہ اسنیپ بیک کا کسی بھی صورت میں کیا اثر پڑے گا۔تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آج اقوام متحدہ میں آج کوئی ملک امریکا کی پیروی نہیں کررہا ہے۔گزشتہ ہفتے ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے لئے دو سائٹس کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جو اس معاہدے میں تعاون پر رضامندی کا ایک اشارہ ہے۔

برسلز میں قائم تنازعات کے حل سے متعلق ایک تنظیم ، یورپی انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل کیٹنگ نے کہا کہ بہت بڑا منظر نامہ یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہے۔"اقوام متحدہ کے ایک سابق عہدیدار مسٹر کیٹنگ نے کہاکہ یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ اگر اسے سیاسی اختیار دیا جائے اور یہ اس وقت بہت بہت ڈرا ہوا ہے۔

ایران کے تنازع نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی بحث کو پھر سے زندہ کردیا ہے، جیسا کہ مستقل ارکان کو ایسی حیثیت برقرار رکھنی چاہئے۔اگر ان کی ویٹو پاور کو کم کرنا چاہئے، اور اگر غیرمستقل ارکان کو گردش میں رکھنے کے فارمولے کے تحت افریقہ اور لاطینی امریکا سمیت خطوں کو زیادہ نمائندگی کی اجازت دینی چاہئے۔

اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ڈائریکٹر رچرڈ گوون نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کونسل کے لئے تعطل کو عام بحران کو وضع کرنے میں فائدہ کے طور پر دیکھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ جوہری معاہدے پر بحث میں وہ بحث ہار گئی ہے۔سلامتی کونسل میں ایک یورپی سفارت کار نے اصرار کیا کہ سلامتی کونسل کسی نہ کسی طرح اس سے نکل جائے گی، تاہم بنیادی طور پر یہ سلامتی کونسل کے غیر فعال ہونے کی بجائے امریکا کی تنہائی ہے۔ 

فنانشل ٹائمز سے مزید