آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا میں بڑے بڑے خوش الحان آئے، گیت گاتے اور باجے بجاتے ایسے فنکار آئے کہ پرندے اڑنا اور راہی چلنا بھول جائیں جیسے کہ ایک بڑی شخصیت کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ جب وہ گیت گاتے اور باجا بجاتے تو متذکرہ بالا صورتحال پیدا ہو جاتی تھی۔ اگرچہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ سب محاورہ تھا بات کو زور آور بنانے کیلئے، کہنے کا مقصد یہ تھا کہ گائیگی میں وہ بہت زیادہ خوش الحان تھے۔جنوبی ایشیا سے ابھرنے والی ایک ایسی ہی مدھر رسیلی آواز کا نام لتا منگیشکر ہے، جو فن کی دیوی کہلائی، جس کی میٹھی آواز پچھلی پون صدی سے اپنے چاہنے والوں میں محبتوں کے پھول بانٹ رہی ہے۔ دلیپ کمار کے الفاظ میں ’’جس طرح پھول کی خوشبو کا اور بچے کی مسکراہٹ کا کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا اسی طرح لتا منگیشکر کی آواز قدرت کی تخلیق کا ایک کرشمہ ہے‘‘۔

28 ستمبر 1929ءکو مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پنڈت دینا ناتھ منگیشکر کے گھر نور کی یہ بوند جلوہ گر ہوئی۔ ان کے والد ایک کلاسیکل سنگر اور تھیٹر کے ایکٹر تھے۔ منگیشی گواکا ایک گاؤں یا قصبہ تھا جہاں کے مندر میں لتاجی کے داد ایک برہمن پنڈت کے طور پر وابستہ تھے۔ منگیشی ٹمپل اور قصبے کی نسبت سے ہی لتا جی کے والد نے اپنے نام کے ساتھ منگیشکر لگایا جو لتا جی کے نام کا حصہ بن گیا۔ ابتدا میں لتا جی کا نام ہیما رکھا گیا تھا جسے بعد ازاں بدل کر لتا کر دیا گیا۔ لتاجی کی والدہ کا نام شیوانتی شدھ متی تھا جو خود بھی اپنے خاوند کے ساتھ تھیٹر سے وابستہ تھیں۔ لتاجی کااپنے والد پنڈت دینا ناتھ سے بے حد لگائو تھا کیونکہ جوانی میں ہی ان کی موت ہو گئی تھی۔ 29دسمبر 1900ءمیں پیدا ہونے والے دینا ناتھ 24اپریل 1942ءکو چل بسے ، یہ وہ حالات تھے جب ننھی لتا نے بڑے ارمانوں سے فن کی دنیامیں قدم رکھا اور مراٹھی فلموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد میں ان کی مراجعت ہندی فلموں میں ہو گئی۔ 1947ءمیں ایک فلم آئی ’’آپ کی سیوا میں‘‘ یہ فلم ننھی لتا کی فنی زندگی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔

موسیقار غلام حیدر نو عمر لتا کے استاد تھے جو اس معصوم بچی کی آواز کے حوالے سے بہت پرامید تھے، وہ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے کہ اس بچی کی آواز ایک روز پورے ہندوستان میں اس قدر گونجے گی کہ بڑے بڑے موسیقار ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑے ہونگے مگر کچھ ایسے بھی تھے جو اسے بڑ خیال کرتے اور ہنس دیتے اوپی نیئر بھی شاید ان میں سے ایک تھے جن کا خیال تھا، لتا کی آواز اس قدر پتلی ہے کہ یہ مقبولیت حاصل نہیں کر پائے گی۔ بچپن کے کئی دلچسپ واقعات ہیں جب ماسٹر غلام حیدر کو یہ کہا گیا کہ یہ مراٹھی بچی ہے، یہ مراٹھی تلفظ کے ساتھ ہندی فلموں میں کیسے آگے بڑھ پائے گی لیکن سچی لگن ہو تو پربت بھی دھول ہے اور لتاجی میں یہ سچی لگن چھوٹی عمر میں ہی ظاہر ہو گئی تھی۔ ایک دفعہ انہوں نے دیکھا کہ ان کے والد ریاضت کرواتے ہوئے اچانک اٹھ کر باہر گئے ہیں تو والد صاحب کے ایک شاگرد کی گائیکی درست کرنے کیلئے یہ معصوم بچی اسے آواز کا اتار چڑھاؤ سمجھانے لگی ،اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے والد اس کے پیچھے کھڑے سب سن رہے تھے اور یہ سب سنتے ہوئے جھوم رہے تھے کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔یوں 1947ءمیں جب ملک آزاد ہونے جا رہا تھا تو ’’آپ کی سیوامیں‘‘نمودار ہونے والی آواز بھی بلندیوں کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھی، 49ءمیں ان کا گیت ’’آئے گا آنے والا‘‘ بہت ہٹ ہوا بعد ازاں ’’آ جارے پردیسی‘‘اور پھر ’’اے دل تجھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا دن زندگی کے جیسے بھی گزریں گزارنا‘‘،یوں 1974ءتک پہنچتے پہنچتے ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں سب سے زیادہ گیت گانے والی فنکارہ کی حیثیت سے درج ہو چکا تھا۔ ان کا فنی سفر نصف صدی سے بھی زائد عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ لتاجی کے گائے ہوئے گیتوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد بیان کی جاتی ہے۔ بالآخر ان کی شہرت اور مقبولیت نہ صرف پورے ہندوستان میں چھا گئی بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں ہندی اور اردو بولی یا سمجھی جاتی ہے، لتاجی کی سریلی آواز کے ساتھ چاہنے والوں کی دھڑکنیں جڑ گئیں۔ 1969ءمیں انہیں پدما بھوشن سے نوازا گیا تو 1989ءمیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ان کی نذر کیا گیا۔ 1997ء میں مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ 1999ءمیں این ٹی آر نیشنل ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور سب سے بڑھ کر2003ءمیں انڈیا کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ ’’بھارت رتنا‘‘ ان کی بھینٹ کیا گیا باوجود اس کے کہ انہوں نے خود کو ایوارڈ دینے سے بار بار منع کیا اور بالآخر آئندہ کیلئے وصول کرنے سے انکار بھی کر دیا کہ یہ دوسرے نئے لوگوں کو پیش کئے جائیں جو فن کی خدمت کر رہے ہیں میرے لئے سب سے بڑا ایوارڈ میرے لوگوں کا سچا پیار ہے، وہ مان اور عزت ہے جو جنتا نے مجھے بخشی ہے۔

ان تمام تر محبتوں اور عقیدتوں کے باوجود ان کی ذاتی زندگی اس گیت کے مصداق ایک نوع کی تشنگی و محرومی کا ہی شکار رہی جس نے ساری زندگی ساری دنیا میں خوشیاں بانٹیں، اس کی اپنی زندگی میں بہاریں نہ آ سکیں وہ پیہم یہی گنگناتی رہی۔ بہارو میرا جیون بھی سنوارو، تمہی سے دل نے سیکھا ہے تڑپنا تمہی کو دوش دوں گی اے نظارو.... رچاؤ کوئی کجرا لاؤ گجرا، لچکتی ڈالیو تم پھول وارو، لگاؤ میرے ان ہاتھوں میں مہندی سجاؤ مانگ میری، یاد کی دھارو.... اور پھر یہ امر گیت، جو بہار بن کے برسے وہ گھٹا کہاں سے لاؤں، تیرے دل کو جو لبھالے وہ صدا کہاں سے لاؤں؟ جو دلوں کو چین دے دے، وہ دوا کہاں سے لاؤں؟ جو مراد بن کے آئے، وہ دعا کہاں سے لاؤں؟