آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے گزشتہ شب آن لائن خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے موجودہ عالمی حالات کے حوالے سے وقت کے اہم موضوعات پر نہایت فکر انگیز اظہارِ خیال کیا۔ کورونا کی عالمی وبا، اسلامو فوبیا، افغان امن عمل، ماحولیاتی تبدیلی، مسئلہ فلسطین، مودی حکومت کی متعصبانہ داخلہ و خارجہ پالیسیاں اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کی خاطر کیے جانے والے مسلسل ناجائز اقدامات پر انہوں نے سیر حاصل گفتگو کی۔ اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم نے پورے اعتماد اور جذبہ ایمانی کے ساتھ صراحت کی کہ ان کی حکومت پاکستان کے اصل مقصد وجود یعنی خاتم الانبیاء رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پندرہ سو سال پہلے مدینہ منورہ کی سرزمین پر قائم ہونے والی اسلامی فلاحی ریاست کے اصولوں پر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے کوشاں ہے جہاں تمام معاملات عدل اور انصاف کے مطابق چلائے جائیں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاشرے کی تشکیل کے لئے امن و استحکام ہماری اولین ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی ہمسایوں کے ساتھ تنازعات کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کے اصول پر مبنی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ وہ سب سے مؤثر

ادارہ ہے جو علاقائی امن کے حصول میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔ بھارت کی مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے خطے کو درپیش عدم استحکام کی صورت حال کی وضاحت بھی وزیراعظم نے بہت بھرپور انداز میں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سرکاری سرپرستی میں اسلامو فوبیا یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دیا جارہا ہے اور انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کا فلسفہ آج کے بھارت پر راج کررہا ہے۔ فرانس کے جریدے چارلی ہیبڈو میں ایک بار پھر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور اس حوالے سے لوگوں کو شعور و آگہی فراہم کرنے کی خاطر عمران خان نے ہر سال باقاعدہ ایک دن منانے کی تجویز بھی پیش کی جس پر عالمی برادری کو یقیناً غور کرنا چاہئے۔ علاوہ ازیں بعض طاقتوں کی من مانیوں کے نتیجے میں پوری دنیا آج جن مسائل کا شکار ہے، وزیراعظم نے نہایت جرأت کے ساتھ ان کی نشان دہی بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ورلڈ آرڈر کے بنیادی اہداف، طاقت کے یک طرفہ عدم استعمال، لوگوں کے لئے حقِ خود ارادیت، مسادی خود مختاری اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، بین الاقوامی تعاون جیسے تصورات کو دانستہ ختم کر دیا گیا ہے۔ فوجی قبضے اور غیرقانونی الحاق کے ذریعے لوگوں کے حقِ خود ارادیت کو پامال کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے فلسطین اور کشمیر کا وزیراعظم نے خاص طور پر حوالہ دیا اور اس حقیقت کو واضح کیا کہ ان تنازعات کے منصفانہ حل تک دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ آمرانہ طرز حکمرانی کے فروغ اور ماحولیاتی تبدیلی کو بھی عمران خان نے بجا طور پر دنیا کو درپیش سنگین مسائل میں شامل کیا۔ کورونا کی وبا سے عالمی معیشت کو ہونے والے نقصان اور دنیا کو درپیش کساد بازاری سے نمٹنے کے لئے پوری انسانی برادری کے باہمی تعاون کو لازمی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس کے باوجود ایسا نہ ہونے پر بجاطور پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن اور اس کے مفید نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے امیر ملکوں کی جانب سے غریب ملکوں کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ان کی لوٹی ہوئی دولت آف شور پناہ گاہوں سے واپس لائے جانے کے اقدامات کا بالکل برحق مطالبہ بھی کیا جسے عملی جامہ پہنانے کیلئے عالمی برادری کو جلد مؤثر اقدامات عمل میں لانا چاہئیں۔