آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

خواہش ہے صوبائی حکومتیں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کریں، زرتاج گل


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ خواہش ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کریں ،دنیا کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔

اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کرنے کو دارالحکومت اور پورے ملک میں سراہا گیا ہے ،پاکستان میں تقریباً 7500 گلیشیرز ہیں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمارے گلیشیرز پگھل رہے ہیں، زرتاج گل نے کہا کہ سیاستدانوں کے لڑائی جھگڑے کے درمیان میں اتنی جامع ریسرچ کرکے آپ نے عوام کی توجہ گلوبل وارمنگ کی جانب مبذول کروائی۔ 

امید کرتی ہوں کہ لوگ اس کو سمجھیں گے کہ یہ کتنی مشکل قلم دان ہے ۔ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت میں کام کرنااپنے اہداف کو حاصل کرنا کتنا مشکل ہے ۔دنیا کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ 

پوری دنیا میں جومین میڈ سرگرمیاں ہورہی ہیں اس کی وجہ سے جو گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتاہے جس سے ہماری زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔جس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہورہی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موسمیاتی پیٹرن اس قدر شدت اختیار کر گئے ہیں کہ ہم اس کے لئے ذہنی طور پر تیار بھی نہیں ہیں۔پاکستان میں ریسرچ یہ کہتی ہے کہ کسی ملک میں سیلاب کا مسئلہ ہوگا کسی ملک میں طوفان کا مسئلہ ہوگاکسی ملک میں گرمی کی لہر کا مسئلہ ہوگا۔ہمارا زیر زمین پانی1200 فٹ سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔

پاکستان میں ہجرت ہورہی ہے جب پانی میسر نہیں ہوگا تو ہم شہروں کا رخ اختیار کرلیں گے۔ہماری وزارت نے ایک پروگرام منظور کروایا ہے جسے ری چارج پاکستان کا نام دیا گیا ہے۔ ری چارج پروگرام میں ہم بارش کے پانی سے کسی طریقے سے اپنی زمین کو ری چارج کریں گے۔

پاکستان میں کوئی واٹرٹیبل ریگولیٹری اتھارٹی نہیں ہے پاکستان میں واٹر ٹیبل نیچے سے نیچے جارہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی زمین سے پمپنگ کررہا ہے اور اس پر کوئی ریگولیشن نہیں ہے ۔میں نے کہا کہ واٹرٹیبل ریگولیٹری اتھارٹی واڈرا کے نام سے قائم کردیتے ہیں اور پہلی مرتبہ ہم اس پر ٹیکسیشن لگا دیتے ہیں ۔

ریگولیٹری اتھارٹی تعین کرے گی کہ ہم نے کہاں بور کرنا ہے کہاں ہم نے صنعت لگانی ہے مگر دو سال سے سمری گھوم رہی ہے کیونکہ اس میں اسٹیک ہولڈرز بہت ہیں۔پاکستان میں تقریباً 7500 گلیشیرز ہیں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمارے گلیشیرز پگھل رہے ہیں۔

ہم نے قبل از وقت وارننگ سسٹم کے لئے تین جگہوں تنصیبات کی ہیں ۔اسموگ پر کام کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے ۔اسموگ کو ہم نے ریڈ اور گرین زون میں تقسیم کیا۔ ہم نے صنعتوں کو پابند کیا ہے کہ وہ ایئر بیگ سسٹم کی تنصیب کریں۔اس کام کی مانیٹرنگ ای بی اے کرے گی۔اینٹوں کے بھٹے10 ہزار رجسٹرڈ ہیں جبکہ18 ہزارغیر رجسٹرڈ ہیں۔ 

اب ہم ان پر لیبر لاز کا نفاذ بھی کرنے جارہے ہیں کیونکہ پورے پورے خاندان وہاں پر یرغمال ہوتے ہیں۔اب ہم ان کو زگ زیگ ٹیکنالوجی دے رہے ہیں۔10 ہزار میں سے 700 کے قریب زگ زیگ ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ہم نے آئل ریفائنریز کو تین سال کا وقت دیا ہے کہ آپ اپنی ریفائنریز کواپ گریڈ کریں ڈیزل کو یورو ٹو سے یوروفائیو پر منتقل کریں ۔

پاکستان میں پہلا آئل ٹینکریورو فائیو کا آگیا ہے۔ ہم نے ای وہیکل پالیسی کی منظوری بھی کروالی ہے۔پاکستان میں آٹو موبائل کی کوئی ری سائیکل کی انڈسٹری نہیں ہے ۔

اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کرنے کو اسلام آباد اور پورے ملک میں سراہا گیا ہے ۔میری خواہش ہے کہ تمام صوبوں کی حکومتیں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کریں۔

اہم خبریں سے مزید