• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مساجد کے لیے سیکیورٹی فنڈ کے حصول کی شرط نرم کرنے کا مطالبہ

— تصویر بشکریہ رپورٹر
— تصویر بشکریہ رپورٹر

برطانیہ میں مسلم رہنماؤں نے وزراء سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مساجد کو حفاظتی اقدامات کے لیے فنڈ حاصل کرنے سے قبل نفرت انگیز جرم کا نشانہ بننے کا ثبوت پیش کرنے کی شرط ختم کی جائے۔ 

مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسی کے باعث متعدد مساجد ممکنہ خطرات کے باوجود سیکیورٹی کی سہولتوں سے محروم رہ جاتی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہوم آفس نے پروٹیکٹو سیکیورٹی فار موسکس اسکیم کے تحت مساجد، مسلم اسکولوں اور کمیونٹی مراکز کے لیے سیکیورٹی عملہ، سی سی ٹی وی کیمرے، باڑ، الارم اور فلڈ لائٹس کی تنصیب کے لیے 40 ملین پاؤنڈ تک فنڈنگ کا اعلان کیا تھا۔ 

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مذہبی مقامات کو بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں گریٹر مانچسٹر پولیس کو مانچسٹر سینٹرل مسجد میں اس وقت طلب کیا گیا جب سیکیورٹی عملے نے ایک ایسے شخص کو روکا جس کے پاس کلہاڑی، چاقو اور ہتھوڑا موجود تھا۔ 

مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطرات بڑھ رہے ہیں اور پیشگی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید