آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کسی بھی معاشرے میں بزرگ افراد انتہائی اہم اثاثہ ہوتے ہیں۔ انھیں اپنی تاریخ، ثقافت، روایات اور خاندانی اقدار کا امین مانا جاتا ہے۔ بزرگوں کی مثال ایسے ہے جیسے ’تپتی دھوپ میں گھنا سایہ‘ ۔ وہ بچوں کی تربیت کرنے کے ساتھ گھر بھر کا سکون قائم رکھتے ہیں۔ تاہم بڑھاپا ایک ایسا فطری عمل ہے، جس سے ہر کسی کو ایک نہ ایک دن گزرنا پڑتا ہے، اسی لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی قدر اور عزت و تکریم کریں تاکہ کل ہمارے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا جائے۔

بزرگ افراد کی اہمیت، ان کی تکالیت، ضروریات اور حقوق کی جانب توجہ دلانے کےلئے ہر سال یکم اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیابھر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’ بزرگ افراد کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، جس کی ابتداء 1991ء میں کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 دسمبر1990ء کو ایک قرار داد کی منظور ی کے بعد یہ دن منانے کااعلان کیا۔ 

بزرگ افراد کو درپیش مسائل اور معاشرے میں ان کے مقام پر روشنی ڈالنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ معمرافراد کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق سےمتعلق آگاہی حاصل کرسکیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ان کی عزت اور تکریم کے لیے مخصوص دن کی قید نہیں ہونی چاہیے تاہم مصروف زندگی اور معاشرتی مسائل کے سبب جہاں بزرگوں کو دارالامان (اولڈ ایج ہومز) چھوڑنے کا رجحان تیزی سے نمو پارہا ہے، وہاں اس قسم کےدن کا انعقاد ایک اچھا اور احسن اقدام ہے۔ 

والدین یا بزرگوں کے لیےزندگی کی گاڑی ایک خاص عمر کے بعد توجہ کی دگنی مستحق ہوجاتی ہے اورمناسب توجہ میسر نہ آئے تو انھیں صحت، غذا، رہائش، تفریح اور آمدنی کے مسائل درپیش آنے لگتے ہیں۔ اس لیے ان مسائل سے گریز کے بجائے انھیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

کووڈ-19 اور معمر افراد

عالمی وباء کووڈ-19 نے ویسے تو تمام عمر کے افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے، تاہم دنیا بھر میں عمر رسیدہ افراد اس وباء کا زیادہ شکار ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ان کو پہلے سے لاحق مختلف بیماریاں ہیں جنہوں نے ان کی قوتِ مدافعت کو کمزور کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوتریس کا کہنا ہے،’’ کووڈ-19 پوری دنیا کے معمر افراد کے لیے ایک انجانے خوف اور اذیت کا باعث بن رہا ہے۔ فوری طور پر صحت کو متاثر کرنے کے علاوہ یہ وباء معمر افراد کو غربت، امتیازی سلوک اور تنہائی کے خطرہ سے دوچار کررہی ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں معمر افراد پر تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے‘‘۔

رواں سال کووڈ-19نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی۔ اس عالمی وباء سے عمر رسیدہ افراد کی صحت کو لاحق خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کی ضرورت ہے کہ دیگر لوگوں کو ان کی اسپیشل ضروریات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے پالیسیاں اور پروگرام ترتیب دیے جائیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ بڑی عمر کے افراد خود بھی اپنی صحت کا بھرپور خیال کریں اور اس کے لیے متعدد اقدامات اٹھائیں تاکہ موجودہ وباء اور مستقبل میں اس جیسی کسی بھی وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ ہر طرح تیار رہیں۔ اس ضمن میں عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کرنے والا نرسنگ اسٹاف بھی داد کا مستحق ہے، جو کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ کووڈ-19 کی وجہ سے بزرگ افراد کی آمدنی اور معیارِ زندگی میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ دنیا میں پہلے ہی محض 20فیصد سے بھی کم افراد کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن مل رہی ہے۔ یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ اگلی تین دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد دو گنا سے زائد ہونے کا امکان ہے، یعنی 2050ء تک دنیا بھر میں تعداد 1.5ارب سے زیادہ ہوجائے گی اور ان میں سے 80 فیصد بزرگ افراد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں مقیم ہوں گے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو اس وقت ملک میں 60سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد مجموعی آبادی کا سات فیصد تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے جبکہ 2050ء تک ان کی آبادی 4کروڑ 40لاکھ ہونے کا امکان ہے۔

خود کو مشغول رکھنا

عام طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کو مختلف بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں جیسے کہ الزائمر، ڈیمنشیا، ذیابطیس، بلڈ پریشر، امراض قلب، جوڑوں کا درد اور دیگر جسمانی بیماریاں۔ ان سب سے محفوظ رہنے کا طریقہ تو یہ ہے کہ اوائل عمری سے ہی اپنی صحت کا خیال رکھا جائے اور صحت بخش غذا استعمال کی جائے۔ 

تاہم عمر رسیدہ افراد جنہیں یہ بیماریاں لاحق ہوچکی ہوں تو انھیں چاہیے کہ ڈاکٹر کے مشورے سے چہل قدمی اور ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنائیں، ساتھ ہی ایک صحت بخش ڈائٹ پلان پر عمل کریں تاکہ جسم کو درکار تمام ضروری غذائیت حاصل ہوسکے۔ اس کے علاوہ خود کو مصروف رکھنے کے لیے باغبانی، پرندے پالنا اور دیگر مشاغل اپنائیں۔ 

آپ جز وقتی ملازمت، کمپیوٹر یا کوئی زبان سیکھنے کا کورس یا رضا کارانہ طور پر کمیونٹی خدمات انجام دے کر بھی روایتی بیماریوں سے کسی حد تک خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ سوچ کر کسی کام سے پیچھے نہ ہٹیں کہ آپ بوڑھے ہوگئے ہیں کیونکہ اس طرح آپ جسمانی طور پر غیر فعال اور نتیجتاً کئی ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار ہوجائیں گے۔ ایک بات یاد رکھیں جب لوگ اپنے بارے میں یہ تصور کرلیتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہوگئے ہیں تو وہ حقیقتاً بوڑھے ہوجاتے ہیں۔