• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس، ٹڈی دَل کے سبب قلتِ خوارک میں اضافہ

عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت(World Food and Agriculture Organization) کے زیرِاہتمام ہر سال16اکتوبر کو کوئی ایک تھیم منتخب کرکے دُنیا بَھر میں’’عالمی یومِ خوراک‘‘منایا جاتا ہے۔ امسال کا تھیم "Grow, Nourish, Sustain Together:Our Actions Are Our Future"ہے۔فی الوقت، دُنیا بَھر میں خوراک کا حصول مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دُنیا بھر میں قریباً135ملین افراد شدید بھوک اور غذائی قلّت کا شکار ہیں۔ دوسری جانب کُل عالمی غذائی پیداوار کا لگ بھگ 14فی صد حصّہ عام مارکیٹ میں آنے سے قبل ہی خراب اور ضایع ہو جاتا ہے، جب کہ پاکستان میں یہ شرح40 فی صد کے قریب بتائی جاتی ہے۔

رواں برس ایک ایسے وقت میں جب ہمارے مُلک میں کووڈ-19کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا، وہیں ٹڈی دِل نے بھی فصلوں پر حملہ کردیا۔ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق2بلین افراد پہلے ہی صاف اور غذائیت سے بَھرپور غذا کی کمی کا شکار تھے کہ کورونا وائرس نے اس تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔واضح رہے کہ ٹڈی دِل کے حملے سے غذائی اجناس اور فصلوں پر ہونے والے نقصانات سے غذائی پیداوار میں بھی شدید کمی کا امکان پایا جارہا ہے۔ دُنیا بَھر میں غذائیت کی کمی (Malnutrition) ایک عمومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ 

اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں سال کورونا وائرس کے باعث دُنیا بَھر میں ایک کروڑ 30اکھ افراد غذائی قلّت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اور یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگراس کمی پر قابو نہ پایا گیا، تو 2050ء تک یہ مسئلہ شدّت اختیار کر جائے گا۔ غذائی قلّت کی مختلف وجوہ ہیں۔ مثلاً غربت، سماجی و معاشی حالات، Food Insecurity،مائوں کی صحت، قبل از وقت زچگی، ناقص غذا ،ماحول اور قوّتِ مدافعت کی کمی وغیرہ۔اس وقت دُنیا بَھر میں66فی صد غذا کا حصول صرف9نباتاتی اقسام پر منحصر ہے۔ غذائوں میں تغیر نہ ہونا غذائی قلّت کی بڑی وجہ ہے،جو آنے والے وقتوں میں صحت کے اعتبار سے انتہائی پریشان کُن صُورتِ حال کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرینِ اغذیہ کے مطابق غذا کی کمی کے اثرات بچّوں پر چار طرح سے مرتّب ہوتے ہیں۔ اسٹنٹنگ، ویسٹنگ ،انڈر ویٹ اور اوور ویٹ۔ غذائی قلّت کے شکار بچّوں کی درست نشوونما نہ ہونے کے باعث زیادہ تر کاقد ایک جگہ رُک جاتا ہے، جسے طبّی اصطلاح میں اسٹنٹنگ(Stunting) کہتے ہیں۔یعنی عُمر کے لحاظ سے قد نہ بڑھنایا نشوونما رُک جانا۔ دوسرا اثر وزن میں کمی کی صُورت سامنے آتا ہے، جو ویسٹنگ(Wasting) کہلاتا ہے۔اس میں قد کے لحاظ سے وزن کم رہتا ہے۔انڈر ویٹ(Under Weight)میں عُمر کے لحاظ سے وزن کم ہوجاتا ہے، تو چوتھا اوورویٹ(Over Weight)کہلاتا ہے، اس میں وزن پر اس طرح اثر مرتّب ہوتا ہے کہ وہ قد کے لحاظ سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں 5سال سے کم عُمر قریباً 45 فی صدبچّے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں،جب کہ یہ شرح جنوبی ایشیا کے باقی مُمالک میں پاکستان سے کم ہے۔

غذا ہمارےجسم میں بنیادی طور پر تین اہم امور انجام دیتی ہے۔ نشوونما ، توانائی اور جسمانی افعال کے لیے درکار اجزاء کی فراہمی۔ غذا میں موجود اجزاء کو دو حصّوں میں منقسم کیا جاتا ہے۔ میکرونیوٹریئنٹ(Macronutrient)اور مائکرونیوٹریئنٹ (Micronutrient)۔ میکرونیوٹریئنٹ کے اجزاء میں لحمیات(پروٹین)، نشاستہ (کاربوہائیڈریٹ) اور چربی یا چکنائی (فیٹس) شامل ہیں۔ یہ اجزاء جسم کو توانائی یعنی حرارے فراہم کرنے کے ساتھ بہتر نشوونما اور صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ غذا میں وزن کے اعتبار سے سب سے زیادہ حصّہ میکرونیوٹریئنٹ کا استعمال میں لایا جاتا ہے۔ مائکرونیوٹریئنٹ سے مُراد نمکیات اور وٹامنز ہیں۔ اس کے علاوہ پودوں سے حاصل کردہ کیمیائی مادّے "Phytochemical" کا شمار بھی مائکرونیوٹریئنٹ ہی میں کیا جاتا ہے۔ 

یہ اجزاء توانائی فراہم نہیں کرتے، بلکہ جسم کے افعال درست طور پر انجام دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پروٹین غذا کا وہ جُزو ہے، جو مختلف جانوروں اور اجناس سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جیسے گوشت، انڈے، مچھلی، مرغی، دالیں وغیرہ۔پروٹین کا کام جسم میں امائنوایسڈ (Amino acid) فراہم کرنا ہے، جو نشوونما و بڑھوتری، خلیات کی مرمّت اور قوتِ مدافعت مضبوط کرنے کا کام کرتے ہیں۔کاربوہائیڈریٹ کا کام جسم کو توانائی فراہم کرنا ہے۔ واضح رہے کہ زیادہ تر کاربوہائیڈریٹ، نباتاتی غذائوں کا اہم جُزو ہوتا ہے۔ مثلاً چاول، مکئی، گندم، آلو اور سبزیاں وغیرہ۔ روزمرّہ کے جسمانی کاموں کے لیے توانائی اشد ضروری ہے۔ 

اس کے علاوہ توانائی نشوونما میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ توانائی کی کمی خواتین، خصوصاً بچّوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔بچّوں میں خاص طور پر اسٹنٹنگ، ویسٹنگ اورانڈرویٹ کی بڑی وجہ ہے۔ ہماری غذا کا ایک اہم جُزو چربی یا چکنائی بھی ہے ،جو جانوروں یا پودوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ عام طور پر چکنائی کا مآخذ کھوپرا،گِری دار میوے(Nuts)،سویا بین، سورج مکھی کے بیج، دودھ، مکھن، گوشت، مرغی، مچھلی وغیرہ ہیں۔ چکنائی کا بنیادی کام جسمانی خلیات کی جھلّی (Membrane) بنانا ہے، جس کے باعث خلیات ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہتے ہیں۔ چکنائی جسم میں وٹامن اے اور ای جذب کرکے جسم کے مختلف حصّوں تک پہنچانے کا بھی کام انجام دیتی ہے، خاص طور پر آنکھوں اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے انتہائی مؤثر ہے۔

یاد رہے، وٹامنز، مائکرونیوٹریئنٹ میں شمار کیے جاتے ہیں، جو خلیات میں میٹابولزم کا کام انجام دیتے ہیں۔ یہ خلیات میں توانائی بنانے، زخم کو مندمل کرنے، ہڈیاں بنانے اور قوّتِ مدافعت مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آنکھوں اور جِلد کی حفاظت کے لیے بھی انتہائی مفید ہیں۔ خاص طور پر وٹامن سی جسم میں مختلف قسم کے جراثیم کےخلاف لڑنے کی خصوصی صلاحیت پیدا کرتا ہے، جب کہ مختلف اقسام کے انفیکشنز کے خلاف بھی انتہائی مفید ہے۔ نمکیات جسم میں مختلف الیکٹرولائٹس کو توازن میں رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ آئرن، خون کے سُرخ خلیات کا اہم جُزو ہے اور جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا کام انجام دیتا ہے۔ نیز، خون کی کمی کا مرض بھی لاحق نہیں ہوتا۔جب کہ کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اگر ان تمام اجزاء کا توازن بگڑ جائے تو جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوجاتی ہے۔

کووِڈ-19نےجہاں دُنیا میں ڈیجیٹل زندگی گزارنے کا ایک نیا طریقہ متعارف کروایا ہے، وہیں آرام دہ زندگی سے صحت کے مختلف مسائل پیدا ہونے کے خطرات میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق دِن کے گیارہ گھنٹے بیٹھ کر گزارنا اور غیر متوازن غذا کا استعمال صحت کے شدید مسائل کا موجب بنتا ہے۔ یعنی ایسی غذا جس میں کاربوہائیڈریٹ اور شکر کی زائدمقدارہو، تو اس کے نتیجے میں ذیابطیس، دِل اور اس سے ملحقہ بیماریاں(Cardio Vascular Diseases)،اسٹروک اور بُلند فشارِخون لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ متوازن غذا سے مُراد غذا کے مختلف حصّوں کا تناسب سے استعمال ہے۔ عمومی طور پر متوازن غذا کے اجزاء کو چھے حصّوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں زرعی اجناس، سبزیاں، پھل، گوشت، پھلیاں (بینز)، دودھ اور چکنائی شامل ہیں۔ غذائی گروپ میں شامل ہر شئے کا اعتدال میں استعمال صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ اس کے برعکس دِن بَھر میں ضرورت سے زائد غذائی اجزاء کا استعمال مختلف عوارض کا باعث بن جاتا ہے۔ 

اِسی لیے غذائی توازن قائم رکھنے کے لیے مختلف اوقات کے کھانوں کو ترتیب دینا صحت مند زندگی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً اگر دوپہر کے وقت زیادہ چکنائی و توانائی سے بَھرپور، تیز نمک، مرچ مسالے والی غذا کا(مثلاً بریانی، حلیم یا پائے وغیرہ) استعمال کیا ہو، تو دوسرے کھانے کے وقت کم توانائی والی صحت بخش اشیاء کا استعمال کی جائیں۔ خاص طور پر پھل یا کچّی ہری سلاد وغیرہ۔ عام طور پر مَرد کو دِن بَھر میں2ہزار 6سواور خاتون کو2ہزارکیلوریز کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ کیلوریز چھے غذائی گروپ سے متناسب انداز میں استعمال کی جائیں۔ صحت کے مسائل اُس وقت سامنے آتے ہیں، جب غذا سے حاصل شدہ کیلوریز استعمال میں نہ لائی جائیں۔ دِن بَھر میں مختلف نوعیت کے کام انجام دینے کے دوران کیلوریز بھی اِسی مناسبت سے خرچ ہوتی ہے۔ 

جیسے سیڑھیاں چڑھنے اور بھاگنے میں150، فٹ بال کھیلنے میں120، چلنے میں75، سونے اور ٹی وی دیکھنے میں 18کیلوریز خرچ ہوتی ہیں۔جسمانی سرگرمیوں کا فقدان جسم میں چربی بنانے اور سُستی کا سبب بن جاتا ہے، جو ابتدا میں موٹاپے اور بعد میں دیگر بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ اِسی لیے متوازن غذا کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی بھی بےحد ضروری ہے۔ذیل میں درج نکات روزمرّہ زندگی میں شامل کر کے صحت مند زندگی کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔مثلاً:

  • غذا کا زیادہ حصّہ نباتاتی ذرائع جیسے پھل، سبزیوں، زرعی اجناس، دالوں اور بیج سے حاصل کیا جائے۔ 
  •  فاسٹ فوڈز اور پروسیسڈ فوڈز کے بجائے موسم کے مطابق تازہ اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والی غذائوں پر انحصار کیا جائے۔ 
  • تیل (روغن) میں زیتون کے تیل کو ترجیح دی جائے۔نیز، گھی اور سیر شدہ چربی کم سے کم استعمال میں لائی جائے۔ 
  • روزانہ ڈیری مصنوعات یعنی دودھ، دہی، پنیر کا استعمال کیا جائے۔
  • ہفتےمیں4سے 5دِن انڈے اور مچھلی کا مناسب استعمال صحت کےلیے انتہائی مفید ہے۔ 
  • شکر سے بنی میٹھی اشیاء کی بجائے پھلوں کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔
  •  کاربوہائیڈریٹ ڈرنکس کی بجائے آٹھ گلاس پانی پینا جسمانی صحت کے لیے ازحد ضروری ہے،تاکہ جسم میں پانی کا تناسب متوازن اور درجۂ حرارت معتدل رہے۔
  • نیز، روزانہ ہلکی پھلکی جسمانی ورزشیں صحت مند رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتی ہیں۔

(مضمون نگار،جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں، جب کہ سندھ فوڈ اتھارٹی بورڈ اور سائنٹیفک پینل کے رُکن بھی ہیں)

تازہ ترین