آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آیتِ مداینہ میں بیان کردہ مالی معاملات کے احکام

تفہیم المسائل

سوال: سورۂ بقرہ آیت :282میں مالی معاملات کی بابت احکام بیان کیے گئے ہیں ،ازراہِ کرم ان کی وضاحت فرمائیں، (محمد علی، آزاد کشمیر)

جواب: جس آیت کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے ،یہ قرآنِ کریم کی طویل ترین آیات میں سے ایک ہے ،اسے ’’آیتِ مُدایَنہ ‘‘ بھی کہتے ہیں ، مُدَایَنہ کے معنی ہیں:قرض کا لین دین کرنا۔ اس آیۂ مبارکہ میں مندرجہ ذیل احکام بیان کیے گئے ہیں:

(۱)’’اے ایمان والو!جب تم کسی مقررہ مدت تک آپس میں قرض کالین دین کرو تو اُسے لکھ لیا کرو،نیز تحریری دستاویز لکھنے کا یہ حکم ایجابی نہیں ہے ،بلکہ اختیاری ہے، اس کی وضاحت اسی آیۂ مبارکہ میں ان کلمات سے ہوتی ہے : ’’اگر تجارتی لین دین تمہارے درمیان دست بدست ہوتو نہ لکھنے پر تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ‘‘۔

(۲)فرمایا:’’تمہارے درمیان کسی کاتب کو عدل کے ساتھ دستاویز لکھنی چاہییں اور جس شخص کو اللہ نے لکھنا سکھایا ہو ،اسے لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ زبانی شہادت کے مقابلے میں تحریری شہادت زیادہ مُوَثَّق ہوتی ہے ،کیونکہ اس میں ہیر پھیراور ردّوبدل کا امکان نہیں رہتا اور تنازعات جنم نہیں لیتے، اگر نیت صاف بھی ہو تو زبانی شہادت میں پھر بھی بعض اوقات بھول چوک ہوجاتی ہے ۔جہاں دستاویز لکھنے والا ایک ہی ہو تو قرآن نے اُس پر لازم کیا ہے کہ دستاویز لکھنے سے انکار نہ کرے اور اگر ایک سے زیادہ ماہرین دستیاب ہوں ، تو کسی ایک پر لکھنا لازم نہیں ہے ۔

(۳) دستاویز لکھنے والا عدل کے ساتھ لکھے ، یعنی جس طرح لکھوانے والا بیان کرے، اُسی کے مطابق لکھے ، اُس میں اپنی طرف سے کمی بیشی اور ردّوبدل نہ کرے۔

(…جاری ہے…)