آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:- کیا تعویذ جائز ہے، بعض علماء بالخصوص سعودی عرب کے حضرات اس معاملے میں سختی کرتے اور تعویذ سے منع کرتے ہیں، وہ اس سلسلے میں احادیث بھی پیش کرتے ہیں ،اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ تعویذ کے ذریعے علاج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟نیز دم کرنے کے حوالے سے کیا حکم ہے ؟ (راشد، کراچی )

جواب:- تعویذ کے ذریعے علاج جائز ہے، لیکن چند باتوں کا لحاظ ضروری ہے۔ ایک یہ کہ تعویذ میں جو کچھ لکھا جائے ،اس کے معنیٰ معلوم ہوں ،دوسرا یہ کہ اس میں کوئی بات شرکیہ نہ ہو ، تیسرا یہ کہ تعویذ کو ایک سبب اورتدبیر کے طور پر اختیار کیا جائے اور اسے بذات خود مؤثر نہ سمجھا جائے۔ 

جن احادیث میں ممانعت آئی ہے ان سے مراد ایسا تعویذ ہے جس میں شرکیہ کلمات ہوں یا تعویذ ہی کو موثر حقیقی سمجھا جائے۔ دم کرنا بھی جائز ہے، آیاتِ قرآنی سے دم کرنا تو خود رسول اللہ ﷺ سے بھی ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: 2/224۔مشکوٰۃ المصابیح: 2/388۔رد المحتار علیٰ الدر 6/363)