آپ آف لائن ہیں
ہفتہ13؍ربیع الاوّل 1442ھ31؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تھائی لینڈ میں حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ تھائی فوجی حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کے حامی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے تھائی بادشاہ کے اختیارات کم کرنے اور تھائی وزیر اعظم پرایوتھ چان اوچا کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے، جنہوں نے چھ سال قبل یعنی 2014 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں حکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔

تھائی لینڈ میں ایمرجنسی کا نفاذ ایسے موقع پر ہوا ہے جب ایک روز قبل بنکاک میں جمہوریت کی یادگار کے سامنے ہزاروں مظاہرین شریک تھے اور انہوں نے بادشاہ ماہا وجیرا لونگ کورن اور اہلِ خانہ کے قافلے کے سامنے 'ہنگر گیم سیلوٹ' کیا تھا۔

یاد رہے کہ ہنگر گیم سیلوٹ کو تھائی لینڈ کی فوجی حکومت کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے جس میں مظاہرین تین انگلیاں فضا میں بلند کر کے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

تھائی لینڈ میں بادشاہ سب سے طاقتور حیثیت رکھتے ہیں جنہیں فوج اور اشرافیہ کی حمایت حاصل ہے۔ تھائی لینڈ کے بادشاہ اپنا زیادہ تر وقت یورپ میں گزارتے ہیں لیکن ان کے اہل خانہ ضروری امور کے لیے تھائی لینڈ میں موجود رہتے ہیں۔

 ان دنوں بادشاہ اہلِ خانہ کے ہمراہ  بدھ مت کا سالانہ تہوار منانے کے لیے تھائی لینڈ میں ہی موجود ہیں۔

بدھ کو جب شاہی خاندان کا قافلہ سخت سیکیورٹی میں بنکاک سے گزرا تو انہیں پہلی مرتبہ مظاہرین کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے شاہی قافلے کو دیکھ کر ’ہنگر گیم سیلوٹ‘ کرنا شروع کردیا۔

بدھ کو پیش آنے والا واقعہ شاہی خاندان کے کسی فرد کی جانب سے کسی مظاہرے کو دیکھنے کا پہلا واقعہ ہے۔

سال 1932 سے تھائی لینڈ میں ایک درجن سے زائد کامیاب فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں اور ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ صرف شاہی نظام میں اصلاحات کے خواہاں ہیں۔ مظاہرین کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ شاہی خاندان سیاست میں دخل اندازی نہ کرے اور بادشاہ پر تنقید کرنے کے قوانین پر سخت سزاؤں کا خاتمہ کیا جائے۔

ڈپٹی پولیس ترجمان کسانا پتھاناچاروین کے مطابق مظاہروں کے آغاز سے اب تک 20 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار افراد جن میں معروف اور کلیدی جمہوریت پسند رہنما اور سرگرم افراد شامل ہیں پر بغاوت کے مقدمے قائم کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کیے جانے والے مظاہرے 1973 کی طلبہ تحریک کی 47ویں سالگرہ کے موقعے پر کیے جا رہے تھے جب 77 افراد کو مظاہرہ کرنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید