آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈاکٹر سیّد امجد علی جعفری

جِلد پر سُرخ نشانات عموماً پچاس سال کی عُمر کے بعد ظاہر ہوتے ہیں، لیکن بعض کیسز میں کم عُمرافراد بھی، خصوصاً جوزیادہ دیردھوپ میں کام کرتے ہیں، اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ عموماً یہ نشانات حجم میں مختلف ہوتے ہیں اور ابتدا میں کندھے اور کمر ہی پر اُبھرتے ہیں۔ بعد ازاں، چہرے، ہاتھوں اور بازوؤں تک پھیل جاتے ہیں۔ 

واضح رہے کہ زیادہ تر یہ اُن ہی جگہوں پرنمایاں ہوتےہیں، جن پر دھوپ پڑتی ہے۔ بعض افرا انہیں جگر کی خرابی سمجھ کر معالج سے رجوع کرتے ہیں، لیکن جب تشخیص کے لیےٹیسٹ کروایاجاتاہے، تو جگر کسی قسم کی خرابی سے دوچار نہیں ہوتا اصل میں ان سُرخ نشانات کا سبب سورج سے نکلنے والی الٹرا وائلٹ شعائیں ہیں۔ 

اگر کوئی فرد کسی بھی وجہ سے دیر تک ان شعاؤں کی زد میں رہے،تو میلانین (Melanin) ایک جگہ بتدریج گچّھے کی صُورت جمع ہونے لگتاہے، جو بعد میں جِلد پر سُرخ نشانات کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے جسم میں ایک مخصوص قسم کا پِگمنٹ پایا جاتا ہے، جو جِلد کے رنگ کا تعین کرتا ہے،اسےطبّی اصطلاح میں میلانین کہتے ہیں۔بیرونِ مُمالک جِلد کی گوری رنگت گہری کرنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے، جس کے لیے الیکٹرک لیمپ یا اسی مقصد کے لیے بنائے گئے الیکٹرک بیڈز تک دستیاب ہیں، جنہیں استعمال کرنے کے نتیجے میں جِلد پر یہ نشانات ظاہر ہوجاتے ہیں۔

عمومی طور پر یہ سُرخ نشانات نقصان دہ نہیں ہوتے، نہ ہی متاثرہ فرد کوکسی قسم کےعلاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہاں اگر ان کی رنگت گہری اور ہئیت بدل جائے، دانوں کے کنارے اُبھر آئیں، خارش یا ان سے خون رِستا ہو، تو فوری طور پر ماہرِ امراضِ جِلد سے رابطہ کریں کہ یہ علامات جِلد کے سرطان کی نشان دہی بھی ہوسکتی ہیں۔ جِلد پر ظاہر ہونے والے سُرخ نشانات سے محفوظ رہنے کے لیے صُبح10بجے سے شام 5بجے تک اپنی جِلد کو دھوپ سے بچائیں۔ کام کے دوران دھوپ سے بچنے کے لیے چھتری استعمال کریں یا ایسی ٹوپی پہنیں، جس سے گردن اور ماتھا ڈھکا رہے یا پھر بڑے رومال کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ پورا لباس پہنیں اور ہاتھوں، پاؤں پر پانی میں بورک پاؤڈرمِکس کرکے لوشن کی طرح لگالیں۔

(مضمون نگار، ڈائو یونی ورسٹی اور بقائی میڈیکل یونی ورسٹی، کراچی سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ رہے)