آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رواں ماہ تین اکتوبر کو ادارہ شماریات کے ریکارڈ پر آنے والی مہنگائی کی شرح جو 9.43 فیصد تھی، دو ہفتے بعد اعشاریہ23فیصد کمی کے بعد ہفتے کے روز9.20 فیصد کی سطح پر رہی۔ یہ صورتحال وزیراعظم عمران خان کی طرف سے شروع کی جانے والی مہم کے تناظر میں اس حد تک حوصلہ افزا ضرور ہے کہ ان چھ دنوں میں بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان رک سکا ہے تاہم انڈہ، چکن، آٹا، چینی سمیت 25اجناس کی قیمتیں بدستور اضافے کی طرف مائل رہیں۔ اس حوالے سے یہ بات ایک سوالیہ نشان ہے کہ اگر گزشتہ پانچ ماہ میں ڈالر کی قیمت168.43 روپے سے گر کر162.80 کی سطح پر آسکتی ہے تو ضروری اور غیر ضروری اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کا کیا جواز ہے جبکہ دیگر زمینی حالات بھی جوں کے توں ہیں۔ اگر یہ صورت حال اسی طرح غالب رہی تو اس سے مہنگائی مافیا کی مزید حوصلہ افزائی ہو گی۔ ادرہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے میں سبزی کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی جو کہ ہر امیر غریب گھر کی روز مرہ کی ضرورت سمجھی جاتی ہے حالانکہ قیمتوں کا تعین اصولی طور پر اشیا کی طلب و رسد سے ہوتا ہے اور اس وقت ملک کے طول و عرض میں ہر سبزی و پھل بافراط دستیاب ہے۔ دوسری طرف کم تولنے کا رجحان بڑھنے سے صارفین کو ڈبل مہنگائی کا سامنا ہے جس سے تنخواہ و دیہاڑی دار طبقہ بری طرح پس رہا ہے روزگار کے مواقع کم ہونے کے باعث ایک ایک گھر پر زیر کفالت افراد کا بوجھ بڑھ رہا ہے غریب لوگ تین کی بجائے دو وقت کا کھانا بھی مشکل سے کھاتے ہیں جبکہ روٹی کا وزن کم اور قیمت بڑھ کر پندرہ روپے پر پہنچ چکی ہے۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو وفاقی و صوبائی حکومتوں، ہر شہری انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی بھی ناقص صورتحال میں ہر متعلقہ پرائس کنٹرول کمیٹی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998