آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہمارے ہاں غداروں کے القاب دینے اور پھر انہیں سرپر بٹھانے کی تاریخ قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہوئی اور تاحال بڑے جوش و خروش سے جاری و ساری ہے۔ 1949ء میں قیام پاکستان کے بعد ہم نے پچھلا سب کچھ بھلا دیا اور میر جعفر کے پڑپوتے اسکندر مرزا کو نوزائیدہ مملکت کی وزارت دفاع کا سیکرٹری، پھر 1954ءمیں مشرقی پاکستان کا گورنر بنا دیا اور آخر کار 1956ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پہلا صدر منتخب کرلیا جس نے ملک میں پہلا مارشل لا بھی نافذ کروایا۔ 1958ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے اسکندر مرزاکو برطرف کرکے لندن روانہ کردیا اور پھر یہیں اس کا انتقال ہوا تو اس وقت کے صدر یحییٰ خان نے اس کی میت پاکستان لانے کی اجازت نہ دی چنانچہ پاکستان کے اس ’’غدار‘‘ کو ایران کے شاہ رضا پہلوی نے تہران میں دفنانے کی اجازت دی۔

ذرا غور کریں تو سابق مشرقی پاکستان کے حسین شہید سہروردی جو پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم بھی تھے، بنگالی سیاستدان مولانا بھاشانی اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن بھی ’’غدار‘‘ تھے۔ان پر غداری کے مقدمے بھی چلے اور انہیں سزائے موت بھی سنائی گئی لیکن پھر بھٹو نے اقتدار میںآکر یہ سزا منسوخ کردی اور غدار قرار دیئے گئے اسی شخص کو اسلامی سربراہی کانفرنس میں آنے پربنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا گیا !حقیقت میں قیام پاکستان کے چار سال بعد ہی ’’غداری‘‘ کےٹیگ بٹناشروع ہوگئے تھے ۔سب سے پہلے ’’راولپنڈی سازش کیس‘‘ کے تحت وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنےکی سازش کرنےوالوںپرغداری کا الزام لگا۔ پاکستان میںجس سرعت سے کسی پر غداری کا الزام لگایا جاتا ہے اتنی ہی تیزی سے ان ’’غداروں‘‘کے تمام گناہ معاف بھی کر دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان کے نئے ’’غداروں‘‘ میں جاوید ہاشمی بھی شامل ہیں ، مشرف دور میں سازش و غداری کے مقدمے میں انہیں 23 سال کی قید سنائی گئی لیکن تین سال کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ پھر مشرف پر بھی آئین کی معطلی پر غداری کا مقدمہ بنا۔ 2014ءسے تاحال یہ مقدمہ قائم ہے۔ فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی، آصف علی زرداری،حسین حقانی، واجد شمس الحسن، مرحومہ عاصمہ جہانگیر، ایم کیو ایم کے بانی اور سینکڑوں رہنما اور کئی ایک معروف صحافی بھی گاہےگاہے’’غداری‘‘ کے الزامات کی زدمیںآتے رہےہیں لیکن جلد یا بدیر انہیں معاف کردیا جاتا رہا ۔ عبدالصمد خان اچکزئی،پیر آف مانکی شریف، جی ایم سید، میاں افتخار الدین،مظہر علی خان اور شیخ ایاز جیسے لوگ بھی مختلف ادوار میں غداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں، عطا اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو، خیر بخش مری، دودا خان اورکزئی اور بلوچ شاعر گل خان نصیر کو بھی غدار قرار دیا گیا لیکن کبھی سزا نہیں دی گئی، اسی طرح نواب اکبر بگٹی کو بھی غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی جو بعد ازاں معاف کردی گئی صرف جی ایم سید تھے جنہیں 28سال تک وقفوں وقفوں سے جیل میں رکھا گیا اور نظر بندی کے دوران ہی ان کا انتقال ہوا۔ ایک اور بڑی مثال ،خدائی خدمت گار اور خان عبدالغفار خان باچا خان ہیں جنہیں تادم مرگ اپنے ساتھیوں اور اہل خانہ سمیت غدار کہا جاتا رہا۔ضیاء آمریت میں سابق گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب غلام مصطفیٰ کھر اور وزیر اعلیٰ سندھ ’’را‘‘ کے ایجنٹ قرار دیئے گئے اور پھر انہی ’’غداروں‘‘ کو اعلیٰ ترین عہدوں پر بھی بٹھا دیا گیا۔ غداروں کی اس فہرست میں ممتاز بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، میر مرتضیٰ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو بھی آئیں جنہیں سکیورٹی رسک قرار دیا گیا اور پھر وزارت عظمیٰ کے عہدۂ جلیلہ پر بٹھا دیا گیا۔ قیام پاکستان سے شروع ہونے والا غداری کا یہ سلسلہ ابھی تک تسلسل سے جاری ہے اب سابق وزیراعظم نواز شریف اس لسٹ میں ابھر کر سامنے آئے ہیں!

آزادی کے بعد پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت، بنیادی جمہوریت کے تجربے بھی ہوئے، مارشل لا بھی آتے رہے، ملک بھی دولخت ہوا، چنانچہ پاکستان کی تاریخ منفرد، متضاد اور انوکھے تجربات سے اٹی پڑی ہے لیکن حیرت ہے کہ ملک توڑنے والوں کو سزا تو کیا ان کا ٹرائل تک نہیں کیا گیا، راولپنڈی سازش کیس کے بعد کوئی لیاقت علی خان اور کوئی اکبر خان کو غدار کہتا رہا،مولوی تمیزالدین جمہوری روایات کے امین تھے لیکن حکومت وقت کی نظر میں غدار ٹھہرے، حتیٰ کہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح تک کو بھی ہندوئوں کا ایجنٹ اور غدار کہا گیا۔ آدھا ملک گنوا دیا گیا لیکن ذمہ دار نہ تو غدار ٹھہرے اور نہ انہیں کوئی سزا ملی۔ ہمارا ایک اور اچھوتا اعزاز یہ بھی ہے کہ ہم نے پاکستان کے لئے ایٹمی پروگرام کے خالق ایٹمی سائنس دان عبدالقدیر خان تک کو غداری کے الزام میں پانچ سال تک گھر میں نظربند رکھا، ایٹمی پروگرام شروع کرنے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی اور پھر ایٹمی دھماکہ کرنے والے وزیر اعظم نواز شریف کو جلاوطن اور غداری کا سرٹیفکیٹ دینے کے ساتھ ساتھ پاسند سلاسل بھی رکھا، اب رہی سہی کسر شاہدرہ لاہور کے پولیس اسٹیشن میں غداری کی ’’ایف آئی آر‘‘ درج کروا کے پوری کردی گئی!! لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا یہ سب غدار تھے یا ہیں؟ اگر نہیں تو کیا بحیثیت مجموعی ملک کے اثر انداز ہونے والے سبھی اداروں کو ملکی استحکام کے لئے اس ضمن میں کوئی مثبت قانون سازی کرنے یا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے ہاں ایک مضحکہ خیز روایت یہ بھی رہی کہ پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب تاج برطانیہ کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے بھی قیام پاکستان کے بعد مختلف حکومتوں کی طرف سے غدار ٹھہرائے گئے، ’’اوجیڑا جالب سی نا، او غدار سی غدار، قید ہوئیا چنگا ہوئیا‘‘ یہ الفاظ عوامی شاعر حبیب جالب کے محلے دار اس وقت کہتے جب وہ گرفتار ہوتے۔ تو کیا جالب بھی غدار تھے۔