آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان بائیس کروڑ آبادی پر مشتمل دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جو دنیا کے 2.83 فی صد تناسب پر مشتمل ہے، پاکستان میں بنیادی طور پر کام کرنے والوں کی تعداد 20 فیصد ہے ( بچے، کثیر تعداد میں بوڑھے اور عورتیں مجموعی طور پر کام نہیں کرتے ) ، ہمارا بہت سا وقت صرف یہ سوچتے ہوئے گزرتا ہے کہ سامنے والا کیا کررہا ہے، اور جو کچھ نہیں کرتے، وہ خوشامد کرتے ہیں اور خوشامد کرنے والے کہاں تک چلے جاتے ہیں؟ وہ آپ بہتر جانتے ہیں، ہمارے سابقہ وزیراعظم کے بچوں کے حالات دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہم معاشی طور پر ایک مضبوط ریاست کیوں نہیں بن سکے؟ دوسری جنگ عظیم میں ہم دیکھتے ہیں کہ اٹلی اپنے بہت سے انسانی وسائل جنگ کی نذر کر چکا تھا، معاشی ترقی میں پیچھے ہوا لیکن آج وہ یورپ کے لوہار کے طور پر جانا جاتا ہے، معاشی طور پر مضبوط اٹلی کی لیڈرشپ نے جنگ سے متاثرہ معیشت کے استحکام کیلئے لوگوں کی سوچ بدلی، یہ الگ بات ہے کہ وہاں مافیاز کا بھی زور رہا۔تاہم، ہمارے صبح شام کے معمولاتِ زندگی ہی الگ ہیں، اس سوچ کو بدلنے میں ایک بڑا کردار حکمرانوں کا بھی ہوتا ہے گر وہ دوراندیش ہوں۔ اس وقت مملکت پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال گزشتہ چالیس سال سے بہتر ہےجو ہماری سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت ہے۔ امن و امان کی بہتر صورتحال کسی بھی ملک میں معاشی سرگرمیوں کے علاوہ انسانی ترقی کیلئے مثبت شناخت ہوتی ہے۔ کورونا سے مقابلہ کرنے والے ممالک میں پاکستان کامیاب مثالی ممالک میں سرفہرست ہے۔آج ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان کے کورونا کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کو سراہ رہی ہے، گو کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

اسی طرح نوجوان طبقہ کسی بھی ملک کی ترقی کا اہم ترین جزو ہے، پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، بدقسمتی سے اتنے بڑے اثاثے کو کبھی کسی حکمران نے ملک کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنانے کیلئے انھیں وہ مواقع فراہم نہیں کئے اور نہ ہی وہ سوچ دے سکے کہ نوجوان نہ صرف خود بدلتا بلکہ پاکستان بھی بدل سکتا، اس کی بڑی وجہ حکمرانوں کی صرف اپنی اور اپنے خاندان کی ترقی کی سوچ تھی لیکن پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان کا نوجوان ملازمت کے حصول کیلئے پریشان رہتا ہے، یہ سوچ بدلنی ہو گی، نوجوانوں کو نوکری کی بجائے کاروباری مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے حکومت پاکستان نے کامیاب جوان پروگرام شروع کیاہے۔ آن لائن کاروبار کا فروغ پاکستان کے نوجوان کی ترقی میں ممدو معاون ثابت ہو گا۔ پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے ہنر مند پروگرام کے تحت کم تعلیم یافتہ افراد کو کورسز کروائے جارہے ہیں تاکہ یہ افراد کم تنخواہ پر نوکری کرنے کی بجائے اپنا کاروبار شروع کریں۔ ارشد نے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے اپنے ہنر کے مطابق ویلڈنگ کا کاروبار منتخب کیا، کام شروع کرنے کے لیے کامیاب جوان پروگرام کے توسط سے وسائل مہیا ہوئے، یہ مثال موجودہ ویژنری قیادت کی وہ سوچ ہے جو پاکستان کو بدلے گی۔وزیر اعظم عمران خان پاکستان کی سوچ رکھتے ہیں، وہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی میں ایک گیم چینجر کے طور پر دیکھتے ہیں، تعلیم یافتہ سے لے کر کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے بہترین مواقع فراہم کررہے ہیں، ‏ملک بھر میں نوجوانوں کو پاؤں پر کھڑے ہونے کےمواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کے ضمن میں کامیاب جوان پروگرام کے بینر تلے ’’شاپ آن وہیلز‘‘ پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے، اس کے ذریعے کم پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع حاصل ہوں گے۔ آج بینک اور سیمنٹ انڈسٹری ریکارڈ منافع کما رہی ہے، آج کا کسان اپنی اجناس کی بہتر قیمت وصول کر رہا ہے، ملک کا 75 فیصد طبقہ زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہے اور آج وہ خوشحال ہے، بلوم برگ، موڈیز اور ورلڈ بینک معاشی استحکام کی تعریف کر رہے ہیں، منی لانڈرنگ کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہےکورونا وائرس کے باوجود برآمدات میں اضافہ ہوا، ساٹھ سال کے بعد بڑے ڈیموں کی تعمیر شروع ہوئی ہے۔کورونا بحران کے باوجود گاڑیوں کی ایڈوانس بکنگ جاری ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ آگے بڑھ رہے ہیں، آٹا، چینی بحران پیدا کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے، اس حوالے سے قانون سازی کا عمل مکمل ہورہا ہے، گندم کے حوالے سے امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی معاف کر دی گئی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سےپنجاب روزگار سکیم کے ذریعے 30ارب سے زائد کی رقم مختص کی جا رہی ہے، 16 لاکھ سے زائد افراد آسان شرائط پر قرض سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں، سوچ بدلنے سے پاکستان بدلے گا، غیر ملکی امداد، غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کریں، معاشی پہیہ ایسا چلے گا کہ گاڑی پھر نئے پاکستان میں رُکے گی نہیں۔