آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بین الادارہ جاتی مکالمہ پیشرفت کا واحد راستہ

اسلام آباد (تجزیہ / انصار عباسی ) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) کے تحت گوجرانوالہ میں جلسہ عام سے دو دن قبل لندن سے ایک مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ جہاں تک اپوزیشن کے احتجاج کا تعلق ہے ، وہ غیر جانبدار رہے ۔ 

اس رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شر یف مذکوٓرہ جلسہ عام میں سخت خطاب کریں گے ۔جمعہ کو رات گئے نواز شریف نے جلسے سے جو خطاب کیا وہ سخت بیانی سے کہیں زیادہ تھا ۔

انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو براہ راست نشانہ بنایا ،انہیں ہی اپنے نا اہل قرار دئے جا نے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور 2018 کے عام انتخابات میں ہیر پھیر کے ذریعہ عمران خان کو برسر اقتدار لائے لیکن آرمی چیف پر ان کا براہ راست حملہ مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے لئے پارلیمانی حمایت پر یہ بنیادی سوال اٹھاتا ۔مسلم لیگ (ن) نے باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کے لئے نہ صرف پارلیمنٹ میں ووٹ دیا بلکہ اس نے مستقبل میں ایسی کسی توسیع کا قانونی راستہ کھول دیا ۔

اگر جنرل باجوہ نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کی سازش کی اور انہوں نے ہی عام انتخابات میں دھاندلی کرائی ہو تی تو پھر انہوں نے ایسے شخص کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کی اجازت کیسے دی ؟ مدت ملازمت میں توسیع کا قانون نواز شریف کی جماعت کی مکمل حمایت سے بنا ، سمجھا یہ گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے مفاہمت کرلی ہے۔ 

جو سابق وزیر اعظم کی خاموش منظوری کے بغیر ممکن نہ تھا ۔جب مسلم لیگ (ن) نے بڑا یو ٹرن لیا تو نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم مہر بہ لب رہے ۔

شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف ، احسن اقبال ، ایاز صادق ، محمد زبیر ، راناتنویر حسین ، مفتاح اسمعٰیل اور دیگر کئی اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ قیادت سے ملتے اور بات کرتے رہے اور میاں صاحب یہ سب کچھ جا نتے تھے ۔حتیٰ کہ جب بالآخر نواز شریف نے پارٹی قیادت کو اعلیٰ فوجی قیادت سے ملنے سے منع کر دیا ، تب بھی شریف خاندان کے ایک رکن نے شہباز شریف کے ساتھ ن لیگی رہنمائوں کی ملاقات کے لئے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کیا جب شہباز شریف نیب کی حراست میں تھے ۔

اسی مقصد کے لئے سینئر مسلم لیگی (ن) کے کچھ رہنمائوں نے اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کیا ۔فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خود کو سیاسی معاملات سے الگ کر لینے پر غور کر رہی ہے۔ اس بات کی لندن سے ایک مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے بھی تصدیق کی ۔

چند روز قبل اس نمائندے سے گفتگو میں اس رہنما کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد جو کچھ کر رہا ہے وہ اس سے دور رہے گی ۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے جو کچھ بتایا اس میں کوئی الجھائو نہیں ہے ۔

نواز شریف نے اب بھی آرمی چیف کے خلاف جا نے کا راستہ اختیار کیا تاہم یہ واضح نہیں کہ نواز شریف کا کا قطعی نشانہ کون ہے ؟ وزیر اعظم عمران خان یا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ یا دونوں کے خلاف جا نے کے مقصد اور عزائم کیا ہیں ۔اگر یہ نا ممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ 

نواز شریف ہی بہتر جا نتے ہیں کہ وہ چاہتے کیا ہیں ۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اداروں اوراسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے کے حامی ہیں ۔ ملک کو مزید محاذ آرائی کی جانب دھکیلنے کے بجائے اداروں کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے ۔ 

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کا مطالبہ کچھ سیاست دانوں اور ایک سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی کیا لیکن ایسا کوئی مکالمہ آج تک نہیں ہوا ۔ سینیٹر رضا ربانی نے چئیرمین سینیٹ کی حیثیت سے اپنے دور میں کوششیں کیں لیکن انہیں آصف علی زرداری کی حمایت حاصل نہیں رہی ۔

بحیثیت چئیرمین سینیٹ انہوں نے چیف جسٹس اور آرمی چیف کو پورے سینیٹ کی کمیٹی میں شرکت کے لئے مدعو کیا ۔ بعد ازاں جسٹس کھوسہ نے تجویز دی کہ صدر مملکت کو چاہئے وہ اداروں میں مکالمے کا اہتمام کریں تاکہ ماضی میں سر زد غلطیوں کا جائزہ لیا جا سکے اور ایک چارٹر آف گورننس طے کیا جا سکے تاکہ گزشتہ غلطیوں کا مستقبل میں اعادہ نہ ہو سکے ۔ 

جسٹس کھوسہ نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ مکالمے میں پارلیمانی ، عدلیہ سے متعلق ، فوجی اور انٹیلی جنس سمیت اعلیٰ انتظامی قیادت شریک ہو ۔صدر پاکستان کی سرپرستی میں قومی حکمرانی کے حوالے سے تمام بڑے اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر لا کر ماضی کے زخموں کو مندمل کر نے کی سعی کی جائے ۔ 

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ عدلیہ ، مقننہ اور منتظمہ کو کھلے ذہنوں سے ماضی لی غلطیوں کا جائزہ لینا چاہئے ،ایک دوسرے کی حدود سے تجاوز پر غور کر کے باہمی اتفاق رائے سے ایشوز کو حل کر نا چاہئے ۔بد قسمتی سے وہ اپنی تجاویز کو عملی جامہ پہنائے بغیر ہی رخصت ہو گئے ۔

اب تاخیر سے ہی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) خالد لودھی بھی ایسا ہی مطالبہ کر رہے ہیں ۔ عباسی نے تو بار ہا کہا کہ پاکستان کے لئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ اداروں کے درمیان مکالمے میں ہے ۔ ہر ادارے کو پنے دائرے میں رہتے ہو ئے اپنے آئینی کردار کو یقینی بنانا ہو گا ۔ 

جنرل لودھی نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ تمام ادارے بشمول دفاعی افواج، عدلیہ، میڈیا اور سیاسی جماعتیں سب ہی متنازع ہو گئے ہیں ، یہ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں ان حالات میں پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا ۔

انہوں نے ان تمام کرداروں کے درمیان مکالمے کی بھرپور حمایت کی تاکہ معاملات حل ہوں ۔ اکثر کی رائے میں اس وقت اداروں کے درمیان مکالمے کا وقت آپہنچا ہے تاکہ سسٹم کو درپیش خطرے کو ٹالا جا سکے ۔آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور اداروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔

بد قسمتی سے نیب جو کچھ کر رہا ہے وہ آگ کو بھڑکا نے کے مترادف ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن میں محاذ آرائی صورتحال میں مزید بگاڑ کا باعث ہو گی ۔ اگر موجودہ صورتحال کو جاری و ساری رہنے دیا جائے تو اس سے کسی ادارے ، کسی شخصیت ، حکومت یا سیاسی جماعتوں کا بھلا نہیں ہو گا۔

چاہے سیاسی جماعتوں کا تعلق حکومت یا اپوزیشن ہی سے کیوں نہ ہو ،مکالمہ ہی پیشرفت کا واحد راستہ ہے جس پر عمل درآمد کے لئے صدر عارف علوی ہی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ 

وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ ان کی حمایت معاونت کریں کیونکہ ایک ذریعہ کا کہنا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان کی حکومت کو پہنچے گا ۔  

اہم خبریں سے مزید