آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کلب آئین 2019 پر عہدیداران کے تحفظات دور کرانے کی ضرورت

جمیل احمد

گذشتہ دو سال سے پورے پاکستان میں کلب کرکٹ کی سرگرمیاں نہ ہونے سے کھلاڑی، آرگنائزرز ، کلب عہدیداران مایوسی کا شکار ہیں، کلب کا عہدیدار ہی گراس روٹ سطح کی کرکٹ کو فروغ دینے اور غیر معروف کرکٹرز پر محنت اور اپنے کلب سے کھلا کر ایسا مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرکے کھلاڑی کو اپنی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر ملکی و بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کے قابلبناتاہے اگر کلب عہدیدار پی سی بی کی موجودہ پالیسیوں سے دل برداشتہ ہوکراپنے گھر بیٹھ گیا تو قومی کرکٹ کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے، پی سی بی کو جلد از جلد اس جانب توجہ دیتے ہوئے 2019 کے کلب آئین کے مطابق چھ صوبائی ایسوسی ایشنز اور190 سٹی کرکٹ ایسوسیز میں عبوری سیٹ اپ لاکر کلب کرکٹ اور گراس روٹ لیول کی کرکٹ سرگرمیوں کو فوری طور پر بحال کرنا چاہئے ،پی سی بی نے 28 جون 2020 کو کلب کا جو آئین متعارف کرایا تھا۔

اس پر بھی کلب عہدیداران کے کچھ تحفظات سامنے آئے ہیں جن پر پی سی بی کو غور کرنے کی ضرورت ہے ، 19 اگست 2019 کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے پورے پاکستان کی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشنز اور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ کلبز کی حیثیت بھی ختم کردی جس سے پاکستان کےتمام کلبز غیر فعال ہوگئے، 19 اگست 2019 سے پہلے کلبز اپنی کارکردگی کی بنیاد پر فعال اور غیر فعال ہوا کرتے تھے فعال کلبز کو ووٹنگ رائٹس حاصل ہوتے تھے جبکہ غیر فعال کلبز کو صرف کرکٹ کھیلنے کے حقوق حاصل ہوتےتھے کلبز کو یہ حیثیت پی سی بی کی جانب سے منعقدہ 2013 کی کلب اسکروٹنی کے تحت حاصل تھی اور کراچی ریجن میں 161 فعال کلبز تھے اور 40 کے قریب غیر فعال کلب تھے کلب اسکروٹنی ہر چھ سال بعد ہوا کرتی تھی اور کلب آئین 2015 کے مطابق کلب اسکروٹنی سال 2019 میں ہونا تھی۔ 

مگر کلب اسکروٹنی سے پہلے ہی موجودہ کرکٹ بورڈ نے آئین معطل کرکے کلب آئین 2019 متعارف کرا دیا جس کے مطابق پورے پاکستان میں کلبز کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا، پہلے درجے میں فل ممبر کلبز ہونگے جن کے پاس ووٹنگ رائٹس حاصل ہوگا اور وہ سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا بھی رکن ہوگا ایسے کلبز کے پاس اپنا کرکٹ گراونڈ ہونا ضروری ہے جو کسی دوسرے کلب کے زیر استعمال نہ ہو گراونڈ میں تین سے زیادہ ٹرف پچز ہوں کھلاڑیوں کے لئے نیٹ پریکٹس کی سہولیات موجود ہوں۔ 

جمنازیم ہو اور اس کے ساتھ ساتھ انڈر-13 اور انڈر-16 کی سطح پر جونئیر ٹیمیں موجود ہوں اس کے ساتھ ساتھ ایک کوچ ہو جس نے پی سی بی سے لیول ون کورس کیا ہو یہ سب کچھ آسٹریلیا اور انگلینڈ میں تو ممکن ہے مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کسی کلب کے پاس ان تمام سہولیات کا ہونا حیرانکن ہوگا، ہم نے کھلاڑیوں کو اتنی سہولیات فراہم کرنے والے کلبز عملی طور پر تو نہیں دیکھے دوسرے درجے میں ایسوسی ایٹ رکن کلبز کو ووٹنگ رائٹس حاصل ہوگا اور وہ سٹی کرکٹ ایسوسی کی جنرل باڈی کا بھی رکُن ہوگا ایسوسی ایٹ ممبرز کے 18 پلئینگ ممبرز میں کم ازکم دو کھلاڑی 18 سال سے کم عمر ہونا ضروری ہیں۔

اس کے علاوہ کلب نے ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تمام لازمی ایونٹس میں شرکت کی ہو ، کلب کے کھلاڑیوں کے لئے ایک قابل کوچ موجود ہو جس نے پی سی بی سے لیول ون کوچنگ کورس کیا ہو جس کی زیرنگرانی کلب کے کھلاڑی ٹرف یا سمینٹڈ پچز پر باقاعدگی سے نیٹ پریکٹس کرتے ہوں پاکستان کے زیادہ تر کلبز ایسوسی ایٹ ممبر بننے کو ترجیح دینگے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کلب کے عہدیداروں کے لئے کلب چلانے کے اخراجات کے علاوہ پی سی بی کے لیول ون کوچ کو تنخواہ بھی دینا پڑے گی کیونکہ اس پر پی سی بی کا واضح موقف ہے کہ ہم کلب کو کچھ نہیں دینگے۔ 

بلکہ تمام اخراجات کلب عہدیدار کو خود برداشت کرنا ہونگے یہ کلب عہدیدار کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور یہ زیادتی سالہا سال سے ہورہی ہے پاکستان میں جتنے بھی کرکٹ بورڈز ا آئے ہیں انہوں نے کبھی کلب عہدیدار پر سے بوجھ کم کرنے یا اسے سہولیات پہنچانے کے متعلق کبھی نہیں سوچا موجودہ کرکٹ بورڈ سے امید تھی کہ وہ جس شاہانہ انداز میں پاکستان میں کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے اخراجات کررہا ہے وہ کلبز کی درجہ بندی کے اعتبار سے کچُھ مالی مدد کرے گا تاکہ وہ ذہنی آسودگی کے ساتھ اپنے کلب کی سرگرمیوں کو پروان چڑھا سکیں گے مگر ہوا اس کے برعکس پی سی بی نے تو کلب عہدیداران کی مشکلات میں اور اضافہ کردیا ہے پی سی بی کی پالیسیوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پی سی بی کرکٹ کو ایک مخصوص طبقے تک محدود کرنا چاہتا ہے۔ 

حیران کن بات ہے کہ پی سی بی سمیت تمام سابقہ اور موجودہ کرکٹرز کلب کرکٹ کی اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں مگر کلب عہدیدار کی پریشانیوں کو دور کرنے کے حوالے سے ان کی جانب سے کبھی کوئی تجویز نہیں آئی واضح رہے کہ ان دو درجوں کے علاوہ تیسرا درجہ منسلک رکن کہلائے گا اس درجے میں وہ کلبز ہونگے جن کے پاس اوپر بیان کئے گئے دو درجات والی سہولیات موجود نہیں ہونگی ان تمام کلبوں کو پی سی بی کی جانب سے کھیلنے کے حقوق حاصل ہونگے مگر ان کلبوں کے پاس ووٹنگ رائٹس حاصل نہیں ہونگے پی سی بی کے کلب آئین 2019 پر تفصیل سے غور کرنے کی ضرورت ہے میں نے مختصراً کلب آئین کا احاطہ کرنے کی کوشیش کی ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید