آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محمد مرسی مصر کی تاریخ میں حقیقی معنوں میں پہلے منتخب صدر تھے۔ اُن کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا، جو اپنے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے ایک طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی تھی۔ حسن البنا شہید اِس کے پہلے قائد تھے۔ پھر کیا ہوا؟ مصر کے کچھ جرنیل اور اُن کے ہم خیال، جمہوری مزاج اور جمہوریت کی ترقی سے ہم خیال نہیں تھے۔ عالمی سطح پر ایک سازش رچائی گئی۔ مغربی دنیا تو مغربی دنیا، بہت سارے مسلمان ممالک بھی مرسی حکومت کے درپے ہو گئے کیونکہ اخوان المسلمین کے نظریات اُن کی مطلق العنان حکومتوں کے لئے ایک خطرے کے طور پر مصر کے انتخابات کے بعد مزید توانا ہو گئے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی ہو رہے ہیں۔ لہٰذا مختلف الزامات عائد کرکے محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ کردیا گیا، مقدمات قائم کر دیے گئے اور طرح طرح سے کردار کشی کی جانے لگی مگر اِس سب کے باوجود جرنیلی طاقت اور اُن کے دم چھلے طاقت اور پروپیگنڈے کا بھرپور استعمال کر رہے تھے، رائے عامہ منتخب رہنما کو ہی درست تصور کر رہی تھی اور کر رہی ہے۔ پروپیگنڈا ریاستی طاقت اور قوت و اقتدار اُن کے نظریات و وابستگی کو تبدیل نہ کر سکے جو مرسی کے ساتھ تھا، وہ آج بھی ہے۔ جب یہ حربہ ناکام ہو گیا تو ایسی صورت میں ایک الزام کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا اور وہ الزام یہ تھا کہ اخوان المسلمین دہشت گرد تنظیم ہے اور جب دہشت گرد، دہشت گرد کا شور مچایا جانے لگا تو اُس کے لئے اتنی لابنگ کی گئی کہ کچھ دیگر مسلمان ممالک نے بھی اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دے دیا کیونکہ اِس تنظیم کے نظریات کی دہشت سے یہ حکومتیں لرزہ براندام ہیں۔ لہٰذا حربہ یہ اختیار کیا گیا کہ دہشت گرد کا لیبل چسپاں کر دیا جائے۔ اخوان المسلمین کے موجودہ قائد محمد بدیع کو گرفتار کر لیا گیااور صرف آٹھ منٹ کی سماعت کے بعد سزائے موت سنا دی گئی اور بڑے پیمانے پر خوف پیدا کرنے کی غرض سے صرف اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع کو ہی سزائے موت نہیں سنائی گئی بلکہ اُن کے ساتھ ایک ہی وقت میں مزید 682افراد کو بھی سزائے موت کا حکم دے دیا گیا۔ ایک ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے کا حکم ایک انوکھا اور دم بخود کرنے والا معاملہ بن کر سامنے آیا مگر جب ہر قیمت پر اپنے سیاسی مخالفین کو نشانِ عبرت بنانے کا خیال ذہن پر قابض ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اپنے عوام سے لے کر عالمی رائے عامہ اِن اقدامات کے حوالے سے کیا قائم کر ہورہی ہے؟ لہٰذا کسی بھی منفی تصور کی پروا نہ کرتے ہوئے اتنی بڑی تعداد کو سزائے موت سنا دی گئی، اِس میں انتہائی دلچسپ امر یہ ہے کہ جس واقعہ کی بنیاد پر اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دیا گیا وہ واقعہ 2014میں پیش آیا تھا اور ذمہ داری صحرائے سینا میں قائم ایک تنظیم نے قبول بھی کر لی تھی، جس کا اخوان المسلمین سے کسی قسم کا تعلق عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکا تھا۔

عالمی میڈیا نے یہی رپورٹ کیا کہ کمرۂ عدالت میں اخوان المسلمین کے خلاف کچھ ثابت نہ ہو سکا مگر اُس کے باوجود دہشت گرد، سزائیں، ملک دشمن اور غدار یہ سب قرار دے دیا گیا۔ لازمی طور پر یا تو جج کو ڈرا دیا گیا ہوگا، کوئی وٹس ایپ کال آگئی ہوگی۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا عدالتی فیصلوں، موت کی سزا، دہشت گرد، دہشت گرد اور غدار، غدار کا نعرہ لگا کر اخوان المسلمین کی سیاسی طاقت کو توڑا جا سکا؟ کیا یہ تنظیم تحلیل ہو گئی؟ کیا اِن کے حامی طبقات حقیقت میں یہ سمجھنے لگے کہ یہ دہشت گرد، غدار یا کرپٹ ہے؟ کیا اُن کی بات سننے والوں اور اُس کو تسلیم کرنے والوں کی تعداد کم ہوگئی؟ معدوم ہو گئی؟ اِن تمام سوالوں کا جواب نفی میں آئے گا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اخوان المسلمین کی جڑیں مصر میں مزید مضبوط ہو گئیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے پروپیگنڈے، سزا اور ریاستی طاقت کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہو سکا؟ اُس کی وجہ بالکل واضح ہے کیونکہ عوام یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اُن تمام الزامات اور اُس پروپیگنڈے کی اصل وجہ درحقیقت اُن کی سیاسی قیادت اور اُن کے نظریات کو سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کے لئے ہے۔ اِن عدالتی فیصلوں سے واضح طور پر ناانصافی اور بددیانتی کی بو آرہی ہے۔ مصری عوام میں اخوان المسلمین کے حامی صرف ایک بات جانتے ہیں کہ اُن کے لیڈر مصری فوج کے ہرگز خلاف نہیں، فوج کی قربانیوں کے معترف ہیں مگر وہ جرنیلوں کی قومی معاملات میں مداخلت و بالادستی تسلیم نہیں کرتے، بس قیادت کا یہی قصور ہے۔ عوام کا مضبوط خیال ہے کہ اُن کی قیادت نے جس مقصد کے لئے بات شروع کی ہے کہ حقِ حاکمیت عوام کا ہے اور عوام کو ہی اپنے حکمران چننے کا حق حاصل ہے، یہ بالکل درست بات ہے اور وہ جانتے ہیں کہ طاقتور طبقات کو یہی بات ناگواربھی گزررہی ہے۔ خیال رہے کہ یہ کہانی صرف مصر کی نہیں ہے بلکہ ہر ملک کی ہے اور ہر ملک مصر نہیں ہوتا کہ وہاں آمریت در آمریت قائم ہوتی چلی جائے، کچھ ملکوں میں آمر نظر بند اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور بھی ہوتے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین