آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آئی جی سندھ کے واقعے کی سیاسی اہمیت

کراچی(تجزیہ:مظہر عباس) 18 اور 19 اکتوبر کے درمیان آئی جی سندھ ہاؤس جو کچھ بھی ہوا اور اس کے بعد سندھ پولیس کے اعلیٰ افسروں نے بغاوت کرکے جس طرح اپنے کمانڈر مشتاق مہر سے اظہار یکجہتی کیا، وزیراعظم عمران خاں کے اسے ایک کامیڈی اور نان ایشو قرار دینے کے باوجود اس کے دور رس سیاسی اور انتظامی نتائج ہوں گے.

دو انکوائریوں جاری ہیں، ایک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر فوج کررہی ہے اور دوسری سندھ حکومت کی وزارتی کمیٹی. جیو کے سینئیر رپورٹر علی عمران کے 22 گھنٹے غائب رہ کر واپس آنے کے تازہ واقعے نے بھی کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں. یہ اچھی بات ہے کہ وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی جوائنٹ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنادی ہے.

اگرچہ اس وقت علی عمران کے مبینہ اغوا کے مقصد کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اگر اس کا تعلق مسلم لیگ ن کے لیڈر ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کی گرفتای کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی خبر دینے سے ہے تو یہ 18 اور19 اکتوبر کے واقعات کو ایک نیا زاویہ دے سکتا ہے. یہ دیکھنا دلچسپی کی بات ہوگی کہ وزیراعظم کی کمیٹی کس حد تک جاتی ہے.

وفاقی وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کا یہ بیان بھی اہم ہے کہ آئی جی کو اغوا نہیں کیا گیا، وہ خود اپنی کار پر گئے، کیونکہ سوال یہ نہیں ہے کہ وہ کیسے گئے بلکہ یہ ہے کہ وہ ازخود گئے یا کسی کی طرف سے بلائے جانے پر. اہم معاملات یہ ہیں(1)اداروں کے درمیان تصادم(2) پولیس کی بغاوت، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ہے(3) سیاسی اثرات ونتائج. ایک بات یقینی ہے کہ یہ معاملہ آسانی سے اور جلدی ختم ہونے والا نہیں.

دوسری کمیٹی نے ہوٹل کے کچھ ملازمین اور آئی جی ہاؤس موجود افراد سے بھی پوچھ گچھ کی ہے. ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی کمیٹی ان تینوں پہلوؤں کا جائزہ لے گی جبکہ وزارتی کمیٹی پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے کردار کا بھی جائزہ لے گی اور دیکھے گی کہ کیا وفاقی حکومت براہ راست اس کے پیچھے تھی یا نہیں. لیکن وزیراعظم عمران خاں نے جمعہ کو مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں آئی جی سندھ کے معاملے کو کوئی اہمیت نہیں دی. اس بارے میں سوال کیے جانے پر انہوں نے جواب دیا"میں اسے ایک کامیڈی سمجھتا ہوں، اسکے بارے میں سوچتا ہوں تو ہنسی آتی ہے" 22 ویں گریڈ کے افسر آئی جی سندھ مشتاق مہر کی بالعموم اور اہم حلقوں میں بھی اچھی شہرت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ایڈمنسٹریٹر کمزور سمجھے جاتے ہیں.

اس لئے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ 19 اکتوبر علی الصبح ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے تذلیل پر احتجاج کیلئے چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا اور انہیں کس نے ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کیخلاف ایف آر درج کرانے اور گرفتاری پر مجبور کیا.کس کو اتنی جلدی تھی،حالانکہ یہ روٹین کا معاملہ تھا. ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق آئی جی نے جب تمام اہم ٹیلی فون کالز کاجواب نہ دیا تو ایکشن یقینی بنانے کیلئے بعض آفیشلز کو آئی جی ہاؤس بھیجا گیا. ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ آیا آئی جی نے اس واقعے اور فون کالز کے بارے میں بیان قلمبند کرایا ہے یا نہیں.

اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ کس نے ان پر مبینہ دباؤ ڈالا اور کیوں.انکوائری کا دوسرا پہلو یعنی سندھ پولیس کے 60 سے زیادہ اعلیٰ افسروں کا اجتماعی ردعمل زیادہ اہم ہے. فوجی انکوائری ان حالات کا جائزہ لے گی جن کے نتیجے میں ایسی صورت حال پیدا ہوئی کہ آئی جی مشتاق مہر اور دوسرے سینئیر افسروں نے خاموش ہڑتال کردی اور آئی جی نے اپنے دفتر جانے سے انکار کردیا.

انکوائری میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ پولیس افسروں کی بغاوت قدرتی ردعمل تھا یا سیاسی طور پر اکسایا گیا تھا جیسا کہ وفاقی وزیروں اور حکومتی ترجمان نے الزام لگایا ہے. اس سب کچھ کی وجہ سے انکوائری کا حتمی نتیجہ بہت اہم ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید