آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج کا دن کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ 27اکتوبر کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں کشمیری عوام بطور سیاہ دن اور احتجاج مناتے ہیں۔ پاکستانی قوم بھی کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اس احتجاج میں شامل ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت آزاد ریاستوں کیلئے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کا ایک فارمولہ طے کیا گیا۔ جو آبادی کی اکثریت کے تحت الحاق کا فیصلہ کرنے کا اختیار تھا۔ چونکہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی 77فیصد تھی اس لئےکشمیریوں کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار دیا جانا تھا لیکن اس وقت کشمیر کاگورنر نہرو جو خود بھی کشمیری تھا اس نے یہ فارمولہ تسلیم نہیں کیا۔ اور مسلمان کشمیریوںکے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لئے ڈوگرہ فوج اور آر ایس ایس کے عسکریت پسندوں نے جموں پر حملہ کیا اور وہاں قتل عام شروع کیا جس میں ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا۔ یہ خبر ملتے ہی مختلف پشتون قبائلی رضا کار مسلمان کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے 22اکتوبر کو کشمیر پہنچے اور کشمیری رضاکاروں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ یہ خبر ملتے ہی ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ مقابلے کی جرات نہ کر سکا اور فرار ہو کر بھارت سرکار کے پاس پہنچا۔ بھارتی حکومت نے ہری سنگھ سے ایک نام نہاد معاہدہ پر دستخط کرائے جس کے مطابق اس نے بھارت

کے ساتھ الحاق کیا۔ یہ معاہدہ سراسر غیر اخلاقی،غیر سیاسی اور جعلی تھا۔ کیونکہ ہری سنگھ فرار ہو چکا تھا۔ کشمیر میں نہ تو اس کی فوج باقی رہ گئی تھی نہ اس کی عملداری تھی۔ ہری سنگھ کے فرار کا سن کر اس کے فوجی یا تو فرار ہو گئے تھے یا مارے گئے تھے۔ اور ایک وسیع علاقہ پر پشتون اور کشمیری رضاکاروں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ 27اکتوبر 1947کو بھارتی فوج سرینگر پہنچ گئی لیکن جس علاقہ پر قبضہ ہو چکا تھا اس کی طرف بڑھنے کی جرات نہ کر سکی۔ ہری سنگھ سے آزاد کردہ علاقے کا نام آزاد جموں و کشمیر رکھا گیا جو آج تک بطور آزاد ریاست قائم ہے۔ اس علاقے کے کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام نے شروع میں ہی پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں پاکستان کا پرچم لہرایا تھا۔ پاکستان نے آزاد کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر حقوق دیئے۔ آزاد کشمیر پاکستان کا فرنٹ لائن ہے۔ جبکہ بھارت کے غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ کے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام بھارت کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ بھارتی فوجیوں کی طرف سے آئے روز سرحدی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں۔ بھارتی فوجی تمام بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال کرآزاد کشمیر کی سرحد سے ملحق شہری آبادیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اور ہر بار پاک فوج کی طرف سے منہ توڑ جواب کے باوجود بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ بھارت باز نہیں آتا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بھارت کشمیر کے معاملے کو لے کر خود اقوام متحدہ گیا۔ جہاں کشمیریوں کے حق میں قرارداد منظور ہوئی۔ اس قرارداد کے مطابق کشمیریوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ رائے شماری کے ذریعے خود کشمیر کے الحاق کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ نہرو نے اس موقع پر ایک بیان دیا جو ریکارڈ پر موجود ہے کہ جیسے ہی حالات پرسکون ہوتے ہیں کشمیریوں کو بلا تاخیر اور بغیر کسی رکاوٹ کے رائے شماری کے ذریعے الحاق کے فیصلے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ لیکن وہ وعدہ وفا نہیں ہو ا بلکہ بھارت نے ابھی تک مقبوضہ کشمیر پر اپنا غاصبانہ اور جبری تسلط برقرار رکھا ہوا ہے۔ اور کشمیریوں کو محکوم سمجھا ہوا ہے۔ 5اگست 2019سے لے کر آج تک 80لاکھ کشمیریوں کو محصور کیا ہوا ہے۔ اور تمام بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو انسانی پنجرے میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ کشمیری سیاسی قیادت کی ایک تعدادکو یا تو جیلوں میں پابند سلاسل کیا یا گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری،خواتین کی عصمت دری اور اجتماعی قبروں کو نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیری عوام 22اکتوبر 1947ءکے دن سے لے کر آج تک بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے سینہ سپر ہیں۔ پاکستان حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ بھارت جان لے کہ کشمیری عوام کو بزور طاقت ہتھیار ڈالنے پر کبھی مجبور نہیں کر سکے گا۔ ہندوستانی فوج نے اب تک ایک لاکھ کے قریب افراد کو شہید کیا ہے۔ 23 ہزار خواتین بیوہ اور ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ گیارہ ہزار سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔ ہزاروں بےگناہ نوجوانوں کو تحویل میں لے کر غائب کر دیا گیا ہے۔ جن کا کچھ پتہ نہیں چل رہا اور خدشہ ہے کہ ان کو شہید کر کے دفنا دیا گیا ہو۔ کیونکہ مختلف علاقوں سے ہزاروں نشان زدہ نا معلوم قبریں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ دوسری طرف بھارت اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ کلبھوشن کی پاکستان میں گرفتاری اور اس کے اعترافی بیانات بھارت کے خلاف نہ صرف ثبوت بلکہ چارج شیٹ ہیں۔ بھارت کے پاکستانی صوبہ بلوچستان اور کے پی میں دہشتگردی کرانے کے واضح اور نا قابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ بھارت کے 44بینکوں سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کو بھاری رقوم کی ترسیل تو ایسے ثبوت ہیں جن کا امریکہ بھی اقرار کر چکا ہے۔ ان تمام شواہد کی بنیاد پر ایف اے ٹی ایف بھارت کو فوری طور پر بلیک لسٹ کرے۔ امریکہ اور یورپی ممالک بشمول روس اور چین کے بھارت کو خطرناک اور دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کریں۔ عرب ممالک اور او آئی سی بھی بھارت کے ساتھ ہر قسم کے سفارتی،تجارتی اور اقتصادی تعلقات ختم کریں۔ ورنہ بھارت اس خطے میں جو آگ پھیلا رہا ہے اس سے یہ خطہ ہی نہیں پوری دنیا بری طرح متاثر ہو جائے گی۔

تازہ ترین