آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کھلاڑی کے ٹیلنٹ کا ٹھیک سے پتا اُس وقت چلتا ہے جب ٹیم مسلسل دباؤ کا شکار ہو۔ مخالف ٹیم کے سامنے یکے بعد دیگرے وکٹیں اُڑ رہی ہوں اور چھ ٹی 20 این آر او کرکٹ سیریز میں تین صفر کا مقابلہ ہو اور باقی تین میچوں میں مسلسل کامیابی کا پہاڑ جیسا ہدف کپتان کے کندھوں پر آن پڑے تو ایسے میں کپتان کی صلاحیتوں سے زیادہ انحصار قوم کی دعاؤں پر آجاتا ہے لیکن جب موسمی حالات بھی اچھے نہ ہوں، پچ بھی ساتھ نہ دے رہی ہو، ہوم کراؤڈ کی سپورٹ بھی نہ ملے اور ٹیم بھی باہمی انتشار کا شکار ہو جائے تو ایسے حالات میں بڑے بڑے کپتان بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر حماقتیں ہی سرزد ہوتی ہیں۔ گزشتہ تقریباً تین سال سے جاری این آر او ٹی 20 کرکٹ سیریز کے اِن دِنوںبامِ عروج کے لمحات ہیں۔ سیریز کے پریکٹس میچوں کے بعد سلسلہ وار چھ میچوں کے پہلے تین میچ کسی حد تک یک طرفہ ثابت ہوئے۔ بات این آر او سے کافی آگے نکلتی نظر آرہی ہے۔ اب یہ سوچنے کا وقت نہیں کہ جناح کرکٹ اسٹیڈیم گوجرانوالہ سے شروع ہونے والی اُس سیریز کے پہلے تین میچوں میں کس کا پلڑا بھاری تھا،یہ ٹی ٹوینٹی سیاسی جلسے تھے یا جلسیاں؟ ایک بات بڑی واضح ہے کہ ٹی 20 سیریز میں چوکے، چھکوں کی بارش آخری گیند تک ہوگی اور ایک ایک گیند پر خوب داد ملے گی، جو بوؤ گے سو کاٹو گے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ورنہ یہ بات یہاں تک نہ پہنچتی کہ بیمار والد کی تیمارداری کے نام پر ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود مریم بی بی جاتی امرا سے نکل کر گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ کے میدانوں میں پہنچ جاتیں۔ فری اسٹائل دنگل ہو یا ٹی 20، میچ کا حسن یہی ہے کہ یہ نیوٹرل امپائرنگ میں کھیلا جائے اور آخری داؤ اور گیند کا اُس وقت تک انتظار کیا جائے کہ جب تک فیصلہ کن اُنگلی نہ اُٹھ جائے۔ فری اسٹائل دنگل کے نتائج ہمیشہ پہلوانوں کے اپنے ہاتھوں میں ہوتے ہیں لیکن ٹی 20 میچوں کی تیز رفتاری کے باعث کبھی کبھی امپائر کی انگلی غلط فیصلے پر بھی اُٹھ جاتی ہے۔ خیر ابھی تو کھیل کی ابتدا ہے، جوں جوں کھلاڑی زور لگائیں گے، توں توں اس کے نتائج بھی واضح ہوتے جائیں گے۔

سیاست کے اِس فری اسٹائل دنگل نما ٹی 20میچ میں گیارہ رکنی مولانا الیون بمقابلہ خان الیون میچ کے نتائج بارے قبل از وقت قیاس آرائی مناسب تو نہیں لیکن ابتدائی تجزیہ یہی کہتا ہے کہ آئندہ میچوں کے نتائج حیران کن ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ جب صفحہ پلٹا جاتا ہے تو بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے، پھر ایسی حماقتیں ہوتی ہیں کہ نواز شریف نے گوجرانوالہ اور کوئٹہ میں وڈیو لنک خطاب کے دوران اداروں پر جو براہِ راست نشانے بازی کرکے سیاسی بھونچال پیدا کیا، آپ اُسے محض کپتان کو اشتعال دلا کر ملک میں سیاسی جمود توڑنے، ماحول گرمانے کی ایک ایسی کوشش تو قرار دے سکتے ہیں جس کا مقصد فریقین کو یہ باور کرانا تھا کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے، ورنہ اِن تلوں میں اتنا تیل نہیں کہ ایک ”دیوا“ بھی روشن کر سکیں۔ نواز شریف نےایک ہارے ہوئے میچ میں کرکٹ بائی چانس کے اُصول کے تحت ایک ایسی شاٹ کھیلی ہے جسے عرفِ عام میں ”ٹل لگانا“ کہتے ہیں۔ لگ گیا تو پاؤ بارہ، نہ لگا تو اللہ اللہ خیر صلا، سانوں کی۔ نواز شریف نے ”ٹل“ بھی ایسا لگایا کہ گیند سیدھی کراچی اسٹیڈیم میں جاگری جسے کیچ کرنا خان الیون کے کسی اناڑی کھلاڑی کے بس کا روگ نہیں تھا۔ اِس ”ٹل“ پر خان الیون ایسی حواس باختہ ہوئی کہ خود کپتان کو ہی آستینیں چڑھائے تیز رفتار گیند بازی کرنے آنا پڑا۔ نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔ تیز رفتار گیندیں پھینکنے کے جنون میں ایک ہی اوور میں خان صاحب نے جو ”نوبال“ کرائے، اُس سے ٹیم کو جس خسارے کا سامنا کرنا پڑا، ظاہر ہے کچھ حلقوں میں اُسے ناپسندیدہ بھی قرار دیا گیا ہوگا کہ جہاں میاں کی بےبی ٹیم میچ سے بالکل ہی آؤٹ ہو گئی تھی، دوبارہ اِن ہو گئی جس کا فائدہ اُٹھانے کی ایک اور کوشش مزارِ قائد پر میاں بیوی گٹھ جوڑ کی صورت میں سامنے آئی کہ سندھ خصوصاً کراچی جہاں ن لیگ کا ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر ہے اور گرما گرم سیاسی ماحول میں کچھ تو ایسا کرنا بنتا تھا کہ جہاں مریم بی بی ایک لیڈر کے طور پر اُبھر کر سامنے آتیں، شہرت کی بلندیاں چھوتیں، پنجاب خالی ہاتھ نہ آتیں۔ یار لوگوں نے اُنہیں یہ موقع بھی فراہم کر دیا اور مزارِ قائد کے تقدس کی پامالی پر جو ہنگامہ برپا کرکے حماقتوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کرکے پی ڈی ایم کے دو جلسوں کے اثرات کو زائل کرنے کی حکومتی کوشش میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری، آئی جی سندھ پر دباؤ ڈال کر اُنہیں راتوں رات گھر سے اُٹھانا، ایف آئی آر درج کرانا اور گرفتاری کا عمل، پولیس افسروں کا چھٹی پر جانے کی چٹھیاں لکھنا، اِسے کہتے ہیں پٹاری میں ایک سانپ کو بند کرکے نیا پنڈورا باکس کھولنا اور کامیاب سیاسی حماقتیں کرنا، پھر کہتے ہیں کہ کتاب کا صفحہ پلٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ کتاب کی دلچسپی ہمیشہ تجسس برقرار رکھنے میں ہے۔ قاری اِسی صورت کتاب کا صفحہ پلٹے گا جب اُس میں دلچسپی برقرار رہے گی۔ پاکستان کی سیاسی حماقتوں کی کتاب کی یہی خوبصورتی ہے کہ اُس کا ہر ایک کردار اپنے آپ کو نمایاں رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی نئی حماقت ضرور کرتا ہے۔ ابھی اِس کتاب کی دلچسپی ختم نہیں ہوئی۔ کچھ کھلاڑی اپنا بہترین ٹیلنٹ دکھاتے نظر آرہے ہیں۔ بڑے مولانا صاحب کی سیاسی اکیڈمی میں زیر تربیت کھلاڑی بلاول بھٹو زرداری بہترین آل راؤنڈر کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اُنہوں نے موجودہ پرفارمنس برقرار رکھی اور کوئی بڑی حماقت نہ کی تو وہ مستقبل کے سپر اسٹار ہوں گے۔

تازہ ترین