آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اوسلو:کنزرویٹوز پارٹی کا کنونشن،تنازع کشمیر پرناروے کاکردار زیر بحث

اوسلو (ناصراکبر) کنزرویٹوز پارٹی اوسلو کے کنونشن میں پارٹی کے قومی پروگرام برائے پارلیمانی مدت 2021 - 2025 کے سلسلےمیں تجاویز پر غور و خوض کیا گیا۔کنونشن میں تنازع کشمیر کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے ناروے کا کردار بھی زیر بحث لایا گیا۔کنونشن میں وفاقی وزرا، مشیران حکومت، ممبران پارلیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں سمیت 180 مندوبین نے حصہ لیا۔اوسلو سٹی کونسل میں پارٹی کے ڈپٹی ممبر طلعت محمود بٹ نے کنونشن کی توجہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس سے مسلط کرفیو اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر گزشتہ 70 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ہنوز حل طلب ہے اور ایٹمی صلاحیتوں سے لیسں دو ریاستیں اس میں ملوث ہیں۔ اس لیے یہ پورے خطےکی سلامتی اور استحکام کے لئے ایک خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیری عوام پر ایک برس سے زیادہ عرصہ سے کرفیو مسلط کر رکھا ہے جس کے بنا عملی طور پر لاکھوں افراد اپنے ہی گھروں میں مقید کردئیے گئے ہیں۔ یہ کرفیو دائرہ کاراور دورانیے کے لحاظ سے تاریخ کا طویل تر لاک ڈاؤن ثابت ہوا ہے اور عوام کو بنیادی حقوق سے مکمل محروم رکھا جا رہا ہے۔عوام کی روزمرہ کی اشیاء خوردونوش تک رسائی کو محدود کر دیا گیا ہے اور کام

کاج تک رسائی بھی محدود کی جا چکی ہے۔ تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور بچے حصول تعلیم سے محروم کیے جا چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق مریض، خاص طور پر ان پابندیوں سے سخت متاثر ہورہے ہیں۔ اور کمزور معاشرتی طبقات، بچے ، خواتین ، بوڑھے اور بیمار سب سے زیادہ تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ایک پورا معاشرہ مفلوج کر دیا گیا ہے۔ جب تک کرفیو اور تنازع کشمیر برقرار ہیں، بھارتی حکومت بنیادی انسانی حقوقانسانی کی روزانہ پامالی کی مرتکب ہو رہی ہےعالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی ان پامالیوں کے خاتمے کے لیے اپناکردار ادا کرے اور ناروے کو بھی اس مسئلے کے پائیدار اور منصفانہ حل کے لیے متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ تاکہ کشمیری عوام بھی اس کرۂ ارض پر بسنے والے دوسرے تمام انسانوں کی طرح پر امن زندگی گزار سکیں۔

یورپ سے سے مزید