آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا امریکی مارکیٹ کو پرواہ ہے کہ کون صدارتی انتخاب جیتے گا؟

رانا فروہر

ایک لفظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ متعدد سرمایہ کار صدارتی انتخابات کے نتائج پر بڑا داؤ لگا رہے ہیں، لیکن وہ غلط ثابت ہوسکتے ہیں۔ممکن ہے کہ آپ کچھ قلیل المدتی اتار چڑھاؤ کو دیکھیں، ممکن ہے کہ مارکیٹ کا طویل المدتی حساب کا تعین ان چیزوں کے زریعے کیا جائے جو کوئی بھی صدر معقول حد تک تبدیل نہیں کرسکا۔کووڈ19، امریکی مالیاتی صورتحال اور آبادیاتی اعدادوشمار، ابھی سب ہی سست معاشی نمو اور مزید قرض کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔یہاں تک کہ اگر آپ کو ٹرمپ انتظامیہ ایک اور مدت کیلئے مل جاتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ ہم اس انتہا پر ہیں کہ ٹیکس میں کٹوتی ،2017 کے طرز پر مارکیٹ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

جیسا کہ میرے پسندیدہ تجزیہ کاروں میں سے ایک لیوک گرومین نے گزشتہ ہفتے اپنے نیوز لیٹر’’درختوں کے لئے جنگل‘‘ میں اسے رکھا، جو بھی جیتے، مارکیٹ کچھ دن تک قائم کردہ بیانیہ کے ساتھ ردعمل ظاہر کرسکتی ہے، تاہم پھرڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن اور کانگریس کو ان کی سیکیورٹی بریفنگ ملنا شروع ہوجائے گی،جن کا حساب بتاتا ہے کہ شاید کچھ اس طرح سے ہوگا کہ امریکی معیشت ممکنہ طور پر مزید وفاقی محرک کی مدد کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی اور امریکی خزانے(یو ایس ٹی)مارکیٹ فیڈرل ریزرو کی مدد کے بغیر کام نہیں کرسکتی ہے،لہٰذا اگر آپ دونوں پر اتفاق نہیں کرنا چاہتے تو آپ کو یو ایس ٹی یا یو ایس بے بی بومرز کے حقداروں میں سے کسی ایک کاانتخاب کرنے کی ضرورت ہوگی، جسے کو برائے نام ڈیفالٹ کرنے کو ترجیح دیں گے۔

یقیناََ، کوئی بھی امیدوار ان نتائج میں سے کسی ایک کی اجازت نہیں دے گا،لہٰذا 3 نومبر کے بعد کے کسی بھی منظرنامے میں ہم شاید مزید مالی محرک دیکھیں گے، فیڈرل ریزرو اور امریکی بینکاری نظام کے ذریعے پیسہ فراہم کیا جائے۔ایسا کیوں ہے؟ 

جیسا کہ فنانشل ٹائمز کچھ عرصے لکھ رہا ہے،بیرون ملک مقیم قرض دہندگان اب امریکی قرضے کیلئے مالی اعانت کی ضمانت دینے کے لئے تیار نہیں یا اس قابل نہیں ہیں۔میرے ساتھی گلیان ٹیٹ نے حال ہی اس موضوع پر بات کی، انہوں نے پوچھا کہ امریکیوں کا سارا نیا قرض کون خریدنے والا ہے؟ جواب، فیڈرل ریزرو کے علاوہ واقعتاََ کوئی یہ نہیں چاہتا ہے۔

اب ایک دلیل یہ دی جارہی ہے کہ لوگوںکے اندازے سے بڑھ کر حکومتی بانڈ کی طلب میں اضافہ ہوگا،کیونکہ ریٹائر ہونے والے بے بی بومرز(1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) مزید محتاط محکموں کے ایک حصے کے طور پر ان اثاثوں کو گردش میں رکھ رہے ہوں گے۔تاہم عمر رسیدہ آبادی اور ہزاروں بیروزگار نوجوانوں کا گروہ بھی سست ترقی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

بالآخر، ہمیں معیشت میں تیزی لانے کے لئے کسی طاقتور اقدام کی ضرورت ہوگی جس سے زیادہ سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوں۔ہمیں پیداواری وفاقی اخراجات کی ایک نئی لہر کی ضرورت ہوگی جو آئندہ بڑی مین اسٹریٹ سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا کہ یہی وہ چیزیں، اول حکومت نے تجارتی ریلوے کی ترقی کی حوصلہ افزائی کی اور دوم انٹرنیٹ ہیں جنہوں نے آخری دو اہم حقیقی معاشی نمو کو فروغ دیا۔

جیسا کہ میں بھی لکھا ہے کہ میرے خیال میں اس کا تخم جو بائیڈن کے سبز محرک منصوبوں میں پوشیدہ ہے۔ تاہم کامیاب کرنے کے لئے انہیں حیرت انگیز ٹیم کی ضرورت ہوگی۔اس نوٹ پر، اس کامیابی پر انحصار کیے بغیر، جو بائیڈن کی حکومت میں آپ کسے دیکھنا چاہیں گے؟

دیگر مضامین سے اقتباسات

-  ڈیموکریٹک پولسٹر اسٹین گرینبرگ نے ایک خطرناک واقعہ پیش کیا ہے کہ اگر ٹرمپ ہار جاتا ہے تو ریپبلکن پارٹی مزید بنیاد پرست بن سکتی ہے۔

-نیویارک ٹائمز کے اسپیشل سیکشن نے افسردہ کردیا، ’’بیروزگار امریکا‘‘،جس میںوبائی مرض کے دوران بے روزگاری سے دوچار حقیقی لوگوں کی ذاتی کہانیاں شامل ہیں۔یہ یاد رکھنے کا اچھا طریقہ ہے یہ صرف اعدادوشمار نہیں ہیں بلکہ حقیقی افراد کے ذاتی تجربات ہیں جنہیں سمجھنے اور سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔

-دی ٹائمز نے بھی اس حقیقت کو بجا طور پر نمایاں کیا ہے کہ امریکا ان 545 بچوں کے والدین کو نہیں دھونڈ سکتا جو سرحد پر بچھڑ گئے تھے۔یہ ایک شرمناک بات ہے اور مجھے خوشی ہے کہ جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے ہونے والی بحث میں اس موضوع پر اپنی ہمدردی اور راستباز ناراضی کے ساتھ پوائنٹس حاصل کیے۔

- فنانشل ٹائمز میں ، میں نے سوچا کہ جدید مانیٹری تھیوری کا راستہ کیوں ناگزیر حساب کتاب کے ساتھ ختم ہوتا ہے کے حوالے سے اسٹیفن کنگ کافی تیز ہے۔فی الحال یہ قرض نہ لینا کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کیس یہ ہے کہ ڈھونگ نہ کریں کہ مستقبل میں کسی بھی وقت اسے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، میرے نزدیک انوکھا عمل یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ نتیجہ خیز قرض ہے۔

انتخابات تک فنانشل ٹائمز کے ساتھ مزید آٹھ دن

-فنانشل ٹائمز میگزین: ٹیکساس کو واپس لینے کیلئے ڈیموکریٹس کے اندر لڑائی، لون اسٹار ریاست میں مسٹر ٹرمپ کا پولنگ فائدہ گرمیوں کے بیشتر حصے میں پانچ فیصد پوائنٹس سے نیچے رہا۔

- کرسٹین اسپلر: سیاسی تقسیم نے دیہی پنسلوانیا کو خطرے میں ال دیا ہے۔

- ٹموتھی گارڈن ایش: دنیا کو لازمی طور پر امریکی انتخابات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

- ڈاؤننگ اسٹریٹ کے اندر تشویش بڑھ رہی ہے کیونکہ انتخابات نے جو بائیڈن کی فتح کی نشاندہی کی ہے۔

ایڈورڈ لوس کا ردعمل

رانا، میں انڈوں کو ترجیح دیتا ہوں لیکن مرغیوں کی گنتی میں زیادہ اچھا نہیں ہوں۔فرض کریں کہ 3 نومبر اور اس کے نتیجے میں جو بائیڈن کی فتح ہوتی ہے، آئیے کہتے ہیں کہ ایک انڈہ پھینٹ دیا۔ اس کی انتظامیہ میں بڑے عہدوں کی جنگ کھل کر سامے آئے گی، بدقسمتی سے زیادہ تر امید مندوں کیلئے ، متعدد بڑی شخصیات چند بڑےعہدوں کے تعاقب میں ہیں۔زیادہ تر کے مایوس ہونے کا امکان ہے۔ 

وزارت خارجہ کے لئے میں کرس کونز پر شرط لگاتا ہوں۔ڈیلاویئر کے سینیٹر ہونے کی حیثیت سے کرس کونز جو بائیڈن کے قریب ہیں اور ان ے پاس امریکا کے اعلیٰ سفارتکار ہونے کی مستند سند ہے۔ 

ان کا انتخاب جمود سے پہلے کے اعتدال پسند ، غیر وابستہ کی جانب واپسی کا اشارہ ہے اور امریکا کی زیرقیادت دنیا کے بارے میں مفروضوں کو چیلنج کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔اس کے برعکس اگر جو بائیڈن نے کنٹیکی کٹ کے سینیٹر کرس مرفی کا انتخاب کیا تو اس سے خارجہ پالیسی میں مزید بنیادی تبدیلی کا اشارہ ہوگا۔

کرس مرفی ترقی پسند کارجہ پالیسی کے چیمپئنز ہیں جس کی نوجوان ڈیموکریٹس حمایت کرتے ہیں۔دیگر دعویدار سوسن رائس، ٹام ڈونیلون، نک برنز اور بل برنز ہیں۔وائلڈ کارڈ سامنتھا پاور کا ہوگا۔ میں توقع کروں گا کہ مشیل فلور نائے پینٹاگون کی سربراہی کریں گے۔ پیٹ بٹگیگ اقوام متحدہ کے سفیر ہوسکتے ہیں۔

دیگر بڑے خالی عہدے، وزارت خزانہ، قومی سلامتی، اٹارنی جنرل کے بارے میں پیشن گوئی کرنا مشکل ہے۔اگر مجھے پیشن گوئی پر مجبور کیا گیا تو میں فیڈرل ریزرو کے لیل برینارڈ برائے وزیر خزانہ اور پریت بھار ارا برائے وزیر انصاف تجویز کروں گا۔ بٹ گیگ کا نام قومی سلامتی کے محکمے کے لئے زیر غور لایا جاسکتا ہے ۔

جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے کہ افراد کار ہی پالیسی ہوتے ہیں۔لہٰذا جو بائیڈن کن کا انتخاب کرتے ہیں، یہ ہمیں بڑی حد تک اس بارے میں بتائے گا کہ ان کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کی بجائے ملکی محاذ پر انقلاب پرست بننے کے لئے زیادہ تیار ہیں۔میں انہیں دونوں محاذ پر انقلاب پرست رہنے کو ترجیح دوں گا، جیسا کہ میں نے گزشتہ ہفتے اپنے کالم میں دونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے بارے میں اشارہ کیا تھا۔

تاہم آئندہ صدر کیلئے بہت ساری لڑائیاں ہیں جنہیں وہ چن سکتا ہے۔ جو بائیڈن کا ابتدائی مہینوں میں مقصدکورونا وائرس کیسز کی تعداد کو کم کرنا ہوگا۔ باقی عرصہ تعلیمی ہے۔ 

فنانشل ٹائمز سے مزید