جو بائیڈن کی ممکنہ خارجہ پالیسی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 2008کی بات ہے۔ امریکہ کے نو منتخب صدر جوبائیڈن اُس وقت پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ میری اُن سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ اُس وقت سے اُن کے متعلق ایک گہرا تاثر لیا کہ وہ نہ صرف اُن حالات سے آگاہ ہیں جو پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت اور امریکہ کے لئے اُس کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں بلکہ وہ پاکستان کی داخلی سیاست اور اُس کی رمز سے بھی آشنا ہیں۔ اُن کی گفتگو ایک سیاستدان کی کسی معاملے پر گہرے غور و خوض کی آئینہ دار تھی۔ گزشتہ برس بھی اُن کے قریبی ساتھی ڈاکٹر ڈینیل مارکی سے اُن کی نامزدگی پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ نامزدگی کا عمل مکمل ہوتے ہی معاملات درست سمت میں رواں ہو جائیں گے کیونکہ یہ امریکی جمہوری کلچر بھی ہے اور جوبائیڈن میں یہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ اسی لئے یہ یقینی امر محسوس ہوتا ہے کہ وہ یورپ سے دوری کے تاثر کو زائل کریں گے اور اُس کے ساتھ ساتھ پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ میں بھی امریکہ کو دوبارہ شامل کر دیں گے۔ پاکستان کے حوالے سے کوئی نظر آنے والی تو بڑی تبدیلی محسوس نہیں ہو گی لیکن اَن دیکھی حکمت عملی میں ضرور فرق پڑے گا۔ امریکہ کی نئی خارجہ امور کی ٹیم کے حوالے سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ واپس آجائیں گے جو اوباما کے دور میں نائب تھے اور افغانستان کے معاملات بھی دیکھ رہے تھے۔ حال ہی میں اُنہوں نے افغانستان پر کتاب بھی لکھی ہے، وہ اب معاملات کو چلائیں گے اور امریکہ پاکستان کے حوالے سے اس معاملے پر غور کرے گا کہ پاکستان میں جاری سیاسی انتشار اور روز بروز بڑھتی بےیقینی امریکی مفادات میں ہے یا حکومت ایسے انداز میں قائم ہو کہ انتخابی عمل پر کوئی سوال نہ اُٹھے۔ پاکستان کے حوالے سے اِس پالیسی کا خاتمہ ہونا ہی ہے کہ پاکستان کو بھارت کے تناظر میں بھارتی چشمے سے دیکھا جائے بلکہ اب اِس کے لئے صرف امریکی مفادات کا چشمہ استعمال کیا جائے گا۔ پاکستان کے حوالے سے دہشت گردی کا معاملہ ایک ایسا الزام ہے جس سے ہزاروں پاکستانی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادتوں کے باوجود جان نہیں چھڑائی جا سکی۔ امریکہ کا اِس حوالے سے نقطہ نظر پاکستان کے نقطہ نظر سے بہرحال مختلف ہی تھا اور ہے اور اس معاملے کو پاکستان سے اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کیلئے استعمال بھی کیا جائے گا۔ ایسی صورتحال سے بھارت کو بدستور فائدہ ہوگا کیونکہ جوبائیڈن انتظامیہ دہشتگردی کے معاملے میں بدستور بھارت کیساتھ ایک صفحے پر رہے گی لیکن اِس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ جو ہلا شیری ٹرمپ انتظامیہ نے مودی سرکار کو دے رکھی تھی وہ جاری رہے گی۔ امریکہ نے کامیاب حکمت عملی کے ذریعے بھارت کو خطے کو غیرمستحکم کرنے والی حرکتوں کیلئے اکسایا۔ چین اور پاکستان سے اُس کے تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے چلے گئے۔ اب جوبائیڈن اور اُن کی نائب صدر کشمیر میں جاری بھارتی ناانصافیوں کے حوالے سے بیان جاری کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ جوبائیڈن سٹیزن شپ ایکٹ کے خلاف بھی بول چکے ہیں۔ مودی سرکار کیلئے یہ تو ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اِن اقدامات، کو جو کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جا رہے ہیں، واپس لے سکے۔ امریکی تنقید سے بچنے کے لئے بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا ماسوائے اِس کے کہ وہ امریکہ کی مزید جی حضوری کرے، اِس جی حضوری میں اُس کو امریکہ کیلئے خطے میں اور خاص طور پر خطے کے سمندروں میں وہ کردار زیادہ جاں فشانی سے ادا کرنا پڑے گا جو امریکہ چاہے گا کیونکہ اگر امریکہ نے بھی انسانی حقوق کے نام پر سختی دکھانا شروع کر دی تو کورونا سے شدید متاثر بھارت، جو پاکستان اور چین سے بھی الجھا ہوا ہے، امریکہ کا دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا۔ اِس لئے یہ واضح ہے کہ بھارت مزید امریکہ کی جھولی میں آ گرے گا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے کسی بھی ملک کا غیرذمہ دارانہ رویہ، جو امریکہ پر انحصار بھی کرتا ہو، امریکہ کے ہاتھ میں ایک زبردست اوزار کی مانند ہوگا جس سے وہ اپنی من مرضی کا بت تراش لے گا۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر ایران تک معاملات سے پاکستان لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ یہ تو اب سامنے کی بات ہے کہ شام میں خانہ جنگی سے لے کر یمن تک کے معاملات نے ایران کو خطے میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ خلیج اور امریکہ کی مخالفت کے باوجود ایران، شام اور یمن میں اپنی حکمت عملی پر کاربند رہا اور اُس کو روکا نہیں جا سکا۔ لہٰذا یہ واضح ہو گیا کہ شام اور یمن کے معاملے پر امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اُس کے اتحادیوں کی حکمت عملی غلط تھی۔ اِس غلطی کو سدھارنے اور ایران کو واپس اپنی پوزیشن پر دھکیلنے کے لیے ضروری ہوگا کہ اُسے کچھ مراعات دی جائیں اور ایران کیلئے یہ مراعات فائیو پلس ون کے جوہری معاہدے کی تجدید سے ہی ممکن ہوسکیں گی جس کی طرف جوبائیڈن اشارہ کر چکے ہیں۔ عرب دنیا میں ٹرمپ کے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر بہت اضطراب پایا جاتا تھا۔ ایران بھی اس اضطراب کو اپنے لئے استعمال کر رہا ہے۔ جوبائیڈن کے لئے شاید یہ تو ممکن نہ ہو کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے سکیں مگر فلسطینیوں سے وہ امریکہ کے تعلقات ضرور بحال کر یں گے اور دو ریاستی حل کی امریکی پالیسی کا اعادہ کریں گے۔ یورپین کونسل فار فارن ریلیشنز نے جوبائیڈن کی ممکنہ خارجہ پالیسی پر ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے حوالے سے پرانی پالیسی اپنائی جائے گی جبکہ اقدار کی پاسداری کی بات ہوگی یعنی انسانی حقوق کی پاسداری کے اِس نعرے کے ذریعےمشرق وسطیٰ میں کس کو اپنی مرضی پر چلایا جائے گا؟ بالکل واضح ہے۔

تازہ ترین