آپ آف لائن ہیں
ہفتہ9؍جمادی الثانی 1442ھ 23؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جس طرح پُورے سندھ میں تیزرفتار گاڑیوں کے حادثات کی وجہ سے روزانہ لاتعداد انسانی جانیں ضایع ہورہی ہیں، وجوہ یہ بتائی جاتی ہے کہ صوبے سندھ کے اندر اکثر بیش تر 80 فیصد مین شاہ راہوں کی گزشتہ 15 برسوں میں تعمیر مرمت نہیں ہوئی ہے ،جس وجہ سے کئی سڑکیں سرے سے اکھڑ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے ہیں، جس وجہ سے گاڑیوں کے حادثات ہوتے رہتے ہیں، جن میں سینکڑوں افراد کی زندگیاں تیز رفتاری کا شکار ہوجاتی ہیں، دوسری وجہ نااہل لاپرواہ بسوں اور گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی لاپرواہی کی خصوصی وجہ بتائی جاتی ہے ۔ 

مثال کے طور پر گزشتہ دنوں عمرکوٹ سے ایک ہی خاندان کے خواتین بچوں سمیت 6 افراد فقط کوچ ڈرائیور کی تیزرفتاری اور لاپرواہی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوگئے تفصیلات کے مطابق میرپورخاص عمرکوٹ روڈ پر بچابند کے قریب میرپورخاص سے آنے والی کوچ نے ڈرائیور کی لاپرواہی اور تیزرفتاری سے سامنے سے آنے والی کار پر چڑھ گئی، کار میں سوار ایک ہی خاندان کے 6 افراد جن میں دو خواتین اور بچے بھی تھے، جن کو کوچ نے کچل دیا۔ 6 افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔ قریب گاؤں کے لوگوں اور سڑک پر سے گزرنے والے شہریوں نے کار کو بڑی کوشش سے کوچ کے نیچے سے نکالا۔ 

اس وقت تک مہران کار ڈرائیور واحد بخش برڑو سمیت کار میں سوار پانچ زائرین شریمتی جیونی میگھواڑ شریمتی چندا میگھواڑ سمیت 3 بچے نتیش ساجن دیپک میگھواڑ جن کی عمریں 15 سے 17 سال تک کی تھیں،موقع پر ہلاک ہو چکے تھے، جب کہ ان کا والد پچاس برس کے کیول میگھواڑ کو شدید زخمی حالت میں علاج کے لیے حیدرآباد ریفر کردیا گیا تھا۔ ہلاک شدگان ٹنڈوآدم کے قریب گاؤں غلام قادر جونیجو کے رہنے والے تھے اور زمیندار کے پاس ہاری مزدور تھے ،جب کہ کار ڈرائیور واحد بخش جو اپنے خاندان واحد کمانے والا تھا، ہلاک ہوگیا ۔ 

زائرین عمرکوٹ قریب ہاڑ پلی گاؤں میں ستیوں کے دیرے پر زیارت کرنے کے بعد عمرکوٹ سے واپس ٹنڈوآدم جارہے تھے، جو قریب بچابند کے مقام پر یے تشویش ناک حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے کوچ کو اپنے تحویل لےکر کوچ ڈرائیور عیدل درس کو گرفتار کرلیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ یے کوچ حادثہ دن دھاڑے مذکورہ ڈرائیور کے جانب سے تیز رفتاری اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ ڈرائیور کا منہ زہریلے گٹکے سے بھرا ہوا تھا اور اس نے اس نشے میں دت زائرین کی مہران کار پر کوچ کو اوپر چڑا دی۔ اس کو پتہ تھا کہ یے سنگل روڈ ہے، پھر بھی ان کو ہوش نہیں رہا۔ 

کوچ کار کے اوپر چڑنے کے بعد زائرین کار ڈرائیور سمیت موقع پر ہی ہلاک ہوگئے روڈ پر آنے جانے والے راہی گیروں نے کوچ سے کار کو بار نکالا کار مکمل ختم ہوچکی تھی۔ زائرین کیول میگھواڑ کے علاوہ سارے موقع پر ہلاک ہوگئے تھے۔ جب ان ہلاک شدگان کی لاشیں ٹنڈو آدم کے قریب آبائی گاؤں پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ سارا ماحول سوگوار ہوگیا ۔ 

اس قسم کے کافی تعداد میں اس عمرکوٹ میرپورخاص روڈ پر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی لاپرواہی کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ آگے جاکر ایکسیڈنٹ مقدمات میں ڈرائیور کو اتفاقی موت کی بنا پر رہا کردیا جاتا ہے، تو اس طرح ان ڈرائیوروں کا دماغ مزید خراب ہوجاتا ہے ، وہ اتفاقی حادثہ دکھا کر اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔ یہاں کی ہزاروں عوامی سماجی عوامی کارکنوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹسس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی حادثات کرنے والوں کی سزا موت دی جائے ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید