آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاک ڈاؤن

لاک ڈاؤن تو لاکھ ہوتے ہیں، مگر یہ جو کورونا لاک ڈائون ہے یہ بیباک ڈائون ہے، کیونکہ کورونا ذات کا مودی ہے، اس کے نقصان پہنچانے کے لاکھ طریقے ہیں، چین کا بھلا ہو کہ اس کے پاس بھارتی سازشوں کے ثبوت موجود ہیں، اور بَرملا اقرار بھی کر دیا وگرنہ دنیا میں کس کو بھارتی سازشوں کی خبر نہیں، کشمیر پر بھارتی لاک ڈائون کی اقسام بھی کورونا جتنی ہیں، طرح طرح سے پاکستان کو چھیڑتا رہتا ہے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم اینڈ کمپنی بھی کورونا وائرس ہی ہے، 72سال ہو گئے کہ اس کی ویکسین موجود ہے لیکن مودی سرکار نہرو سرکار کے زمانے سے اس کی خریدار نہیں، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ کورونا لاک ڈائون پر اتنا ہی عمل کر رہا ہے جتنا کہ کشمیر پر قبضہ، کورونا کے خلاف لاک ڈائون پر بھارت عمل پیرا ہے، مقبوضات کو چھڑانے کے لئے عالمی برادری کا کردار کب سے مردار ہے، کوئی ناک پر رومال رکھنے کا روا دار نہیں۔ اسرائیل اب مسلم کمیونٹی کا بھی چہیتا ہو گیا ہے، خان صاحب پر بھی انتہائی دبائو ڈالا جا رہا ہے، ایسا سماں ہے کہ یہ مسجد ہے وہ بت خانہ، چاہے یہ مانو چاہے وہ مانو، ایک ہی بات ہے۔ ایسے میں کورونا جیسی آفت کا نازل ہونا چشم کشا ہے مگر نہ سلی ہوئی آنکھیں کھلتی ہیں نہ لب، شاید انسانیت بے لگام آزادی کی غلام ہے، اچھائی برائی کی ٹریفک جام ہے، تیسری دنیا میں بھوک ننگ عام ہے، البتہ حکمران کہیں کا ہو، شاد کام ہے، رعیت دجلہ کنارے سسک رہی ہے، کوئی عمر فاروقؓ ہی نہیں، ہمارے ہاں کےکالے کرتوتوں والے، کالے اقتدار والے ہر دور میں بے فکر اور عوام الناس کا ناس مارا جا رہا ہے، جبری گناہ بھی پاپی پیٹ بھرنے کے لئے شروع ہو چکے ہیں، ہم نے غم کو مزاج بنایا کہئے! اس سے بڑا جبر کیا ہو گا۔

٭٭٭٭

اس سے بڑا سچ کیا ہو گا؟

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے ’’پاکستانی معیشت علاقے میں سب سے اوپر‘‘ اور بیچارے عوام اس کے نیچے ارزانی و ہر چیز کی فراوانی کے تکلیف دہ مزے لوٹ رہے ہیں۔ سورج نکلتا ہے تو سب کو نظر آتا ہے، ہمارے ہاں سورج بھی ہر چند کہیں نہ ہے، نہیں ہے کے مصداق رات کو اور طویل کر دیتا ہے، باتوں، دعوئوں کا سورج نصف انہار پر ہے، عمل کا سورج کالے پانی میں ڈوب گیا ہے۔ تین چار دہائیوں سے برآمد ہی نہیں ہوا، الغرض ہمیں نانی تو کیا یاد کرائی جائے گی ہماری تو نانی کو بھی کالے چور لے گئے، بہرحال اس میں کیا شک کہ ہماری معیشت سب سے اوپر ہے مگر کسی چیز میں؟یہ تو بتایا ہی نہیں۔ جس روز، بیروزگاری، مہنگائی اور ہمارے بانکے دیہاڑے نیچے جائیں گے۔ لازم ہے کہ تب ہم بھی مانیں گے کہ ثریا کو چھو لیا، اور ہم نکھر نکھر جائیں گے۔ اس فلسفے پر کسی نے غور نہیں کیا کہ غمِ روزگار فکرِ معاش کا نیچے جانا ہی بلندی ہوتی ہے، وفاقی اداروں سے شکایات، ذمے داری گورنرز کے سپرد کیا۔ یہ وکھری ٹائپ کا گورنر راج نہیں؟ بڑی کوشش کرتے ہیں کہ سب اچھا ہے ہم بھی کہیں مگر نہ جانے کیوں زبان گنگ اور قلم چلتا ہی نہیں، کوئی کاریگر کتنا مخلص ہو مگر کاریگری نہ جانتا ہو تو ہمارے کس کام کا، البتہ کچھ دور سے یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ؎

ہم تو فقیر تھے ہی ہمارا تو کام تھا

سیکھیں اب امراء بھی سلیقہ سوال کا

٭٭٭٭

آؤ مدینے چلیں!

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بابِ لاہور اور باہمت بزرگ پروگرام کا افتتاح کر دیااور ساتھ یہ بھی فرمایا ریاستِ مدینہ کی طرف چل پڑے ہیں، کیا ریاست مدینہ والے آنے دیں گے، کہ ہم وہاں بھی ریاستِ پاکستان بنا دیں؟ بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی ڈھب پر چلایا جائے، مگر ہم تو سن رہے ہیں کہ؎

آؤ مدینے چلیں اسی مہینے چلیں

مدینہ کی ریاست نے سب ریاستوں کو آداب و افعالِ ریاست سکھائے، ہمیں تو اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ایک بظاہر نہایت مذہبی گیٹ اپ والے نیک خصلت نے بڑے فخر سے بتایا کہ کیا کروں حسن والے نیکی کرنے ہی نہیں دیتے، انہوں نے بے جواز برائی کا اپنا پانچ سالہ ریکارڈ پیش کیا، عرض کیا حضور اب یہ گناہ کی پنڈ لے کر اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے ؟ ہنستے ہوئے بڑی بیباکی سے کہنے لگے، بس ایک عمرہ کر لیں گے سارے گناہ دُھل جائیں گے، اگر ریاستِ مدینہ کو اس طرح استعمال میں لانا ہے تو پھر اس گناہ سے بپتسمہ لینے کہاں جائیں گے، بہرصورت ہم تو اب غالبؔ کے اس شعر کو بھی یوں پڑھیں گے؎

جب اصل شاہد و مشہود ایک ہے

تو پھر یارب گناہ ہے کس حساب میں

الغرض مدینہ منورہ جانا آسان مدینہ بننا مشکل۔

٭٭٭٭

کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی

....Oاکثر یہ اشتہار چھپتا ہے ’’ہفتہ شان رحمت اللعالمینؐ‘‘ مودبانہ گزارش ہے کہ رحمت کے بعد الف زائد ہے، اسے حذف کر کے لکھا جائےکیونکہ یہ سراسر غلط ہے۔

....Oواشنگٹن میں مباحثہ:بھارت میں 20کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ۔

اس مباحثے کی صدارت مودی سے کرائی جاتی تو کوئی نتیجہ بھی نکلتا، بہرحال بات تو سچ ہے مگر بات ہے عالمی برادری کی رسوائی کی۔

....O اگر اپوزیشن جلسے کرنا چاہتی ہے تو کورونا کی آڑ میں انہیں روکا نہ جائے۔

اپوزیشن ہزاروں لوگوں ایک جگہ جمع کرتی ہے تو لوگ اپنی مرضی سے جائیں گے، منیر نیازیؔ نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا؎

کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن

کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی

٭٭٭٭

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین