آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے37 برس بیت گئے

پاکستان کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے37 برس بیت گئے، اداکار ی کا انداز آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔

ستارہ امتیاز اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے پاکستانی فلم انڈسٹری میں چاکلیٹی ہیرو کا خطاب پانے والے وحید مراد 2 اکتوبر 1938ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

وہ معروف فلمساز و تقسیم کار نثار مراد کی اکلوتی اولاد تھے جنہوں نے 1960ء میں بطور فلم ساز پہلی فلم ’انسان بدلتا ہے‘ بنا کر اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا۔

1961ء میں انہیں ایس ایم یوسف کی فلم ’اولاد‘ میں ایک اہم رول کے لیے پہلی بار کاسٹ کیا گیا اور یوں بطور اداکار وحید مراد کی پہلی فلم ’اولاد‘ اگست 1962ء میں ریلیز ہوئی اور گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کیا۔

وحید مراد ایک اداکار، فلم ساز اور بہترین اسکرپٹ رائٹر بھی تھے، وہ اپنے دلکش تاثرات، پُرکشش شخصیت، نرم آواز اور اداکاری کی وجہ سے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے جب کہ جنوبی ایشیا میں بھی انہیں ایک مشہور اور بااثر اداکار سمجھا جاتا ہے۔

وحید مراد کو اصل شہرت اپنی ذاتی فلم ’ہیرا اور پتھر‘ سے حاصل ہوئی۔وحید مراد کو پاکستان کی پہلی پلاٹینیم جوبلی فلم ’ارمان‘ کا فلم ساز، مصنف اور ہیرو ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ فلم 1965ء میں ریلیز ہوئی اور پاکستان کی پہلی پلاٹینیم جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

انہوں نے اپنے فلمی کیریئر میں پاکستان کو کئی مشہور فلمیں دیں جن میں ارمان، دیور بھابھی، درپن، دوراہا، جہاں تم وہاں ہم، انجمن اور اولاد جیسی متعدد فلمیں شامل ہیں۔ وحید مراد نے نامور اداکاروں کے ساتھ کام کیا جن میں خوبرو اداکارہ زیبا بختیار، شبنم اور اداکار ندیم اور دلیپ کمار شامل ہیں۔

وحید مراد کی وفات کے 27 سال کے طویل عرصے کے بعد نومبر 2010ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ’ستارہ امتیاز‘ سے نوازا۔

وحید مراد 23 نومبر 1983ء کو صرف 45 سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے منہ موڑ کر اپنے لاکھوں پرستاروں کو سوگوار کر گئے، ان کی وفات کو آج 37 برس بیت گئے لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید