• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

600 ارب کا پیکج: وفاق عملدرآمد کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے

وفاقی حکومت نے بلوچستان کے جنوبی اضلاع کے لئے 600 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے ، یہ فنڈز صوبے کے 9 پسماندہ اضلاع میں خرچ کئے جائیں گے ، وزیراعظم عمران خان نے اپنے گزشتہ ہفتے کے دورہ تربت کے دوران مختلف منصوبوں کا اعلان کیا تھا ، جس کے بعد پیکیج کے لئے فنڈز اور منصوبوں کی تفصیل کا اعلان گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز ، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا ۔ وفاقی وزرا نے پیکیج کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پیکیج کے تحت ان اضلاع میں بجلی ، گیس اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے تین سال میں 600 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ 

مذکورہ اضلاع کو نیشنل گرڈ اور دیگر ذرائع سے بجلی فراہم کی جائے گی ، 57 فیصد گھروں کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرکے بجلی کی سہولت دی جائے گی اور کچھ علاقوں کو متبادل توانائی سے بجلی فراہم کی جائے گی جو لوگ مہنگی گیس نہیں خرید سکتے ان کی احساس پروگرام کے تحت معاونت کی جائے گی ۔ پیکیج کے تحت 16 نئے ڈیموں کی تعمیر کا بھی اعلان کیا گیا ہے وفاقی وزرا کے مطابق ڈیمز کی تعمیر سے ایک لاکھ پچاس ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی ۔ پیکیج کے تحت وفاقی وزارت تعلیم کے پروگرام کے ذریعے 6 لاکھ 40 ہزار بچوں کو فاصلاتی تعلیم دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ 

وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت 83 ہزار بچوں کو اسکولوں میں داخلے دینے کا عندیہ دیا گیا ہے ۔ مذکورہ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے بتایا کہ بلوچستان میں ایم 70 اور ایم 22 سمیت مختلف سڑکیں بنائی جائیں گی ، بلوچستان میں 3 ہزار 83 کلومیٹر طویل سڑکیں بنائی جارہی ہیں اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام تین ہزار 83 کلومیٹر سڑکیں اسی مالی سال کے دوران شروع کی جائیں گی ساتھ ہی انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ سی پیک کے مغربی روٹ سمیت مختلف منصوبوں پر کام شروع ہوگیا ہے ۔ 

خضدار ، بسیمہ شاہراہ پر بھی کام ہورہا ہے ۔ جنوبی بلوچستان کے لئے متعدد مواصلاتی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے ، پی ایس ڈی پی میں فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ تربت ، ہوشاب ، آواران شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اعلانات خوش آئند ہیں تاہم ان پر عمل کرنے کی بھی ضرورت ہے ، اگرچہ یوں تو پورا بلوچستان ترقی سے محروم ہے صوبے کا ترقی اور سہولیات کے حوالے سے ملک کے کسی دوسرئے صوبے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ، وسائل سے مالا مال صوبے کے کسی حصے کو ترقی یا بنیادی سہولیات کے حوالے سے مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا ، تاہم جن اضلاع کے لئے پیکیج کا اعلان کیا گیا یہ ماضی میں بری طرح نظر انداز ہوئے ہیں صوبائی دارالحکومت سے طویل فاصلے پر ہونے کی وجہ سے بھی ان پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ۔ 

اگر ماضی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بلوچستان کے لئے میگا پراجیکٹس یا پیکیجز کا اعلان کوئی پہلی بار نہیں کیا گیا بلکہ ماضی میں مختلف ادوار میں وفاقی حکومتوں کی جانب سے ایسے اعلانات ہوتے رہے ہیں لیکن اگر ان پر عمل درآمد کو دیکھا جائے تو صورتحال کچھ زیادہ تسلی بخش نظر نہیں آتی ، تاہم قدرئے بہتر صورتحال پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں نظر آئی۔ 

اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان سے ماضی میں ہونے والی ناانصافیوں کا اعتراف کرتے ہوئے نہ صرف بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی تھی بلکہ آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان بھی کیا تھا جس میں آئینی ، سیاسی ، انتظامی امور اور معیشت سے متعلق معاملات ، بڑئے منصوبے ، ملازمت کے مواقع فراہم کئے جانے ، وفاق میں ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹہ پر عملدرآمد سمیت صوبے میں کہیں سے بھی گیس دریافت ہونے کی صورت میں پہلے اس علاقے کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی ، 2002 سے پیکیج کے اعلان تک صوبائی اسمبلی کی متفقہ طور پر منظور کی جانے والی تمام قراردادوں پر آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے عمل درآمد سمیت دیگر اعلانات شامل تھے۔

آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے تحت سابق وفاقی حکومت نے صوبے کے ذمہ اس دور میں17 ارب روپے سے زائد کا اوور ڈرافٹ اپنے ذمے لیا تھا جو اس دور کی صوبائی حکومت کے لئے ایک بہت بڑا معاشی بوجھ تھا اس دور کی صوبائی حکومت کو اوور ڈرافٹ کی مد میں ماہانہ بھاری رقم کی ادائیگی کرنا پڑتی تھی جبکہ اس وقت کی وفاقی پی ایس ڈی پی میں روکے گئے 4.5 ارب روپے ، اچ گیس رائلٹی کی مد میں2. 8 ارب روپے جاری کیے اور آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے تحت صوبے کے پانچ ہزار نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کا اعلان کیا تھا ، تاہم پانچ ہزار نوجوانوں کو عارضی بنیادوں پر ملازمت دی گئی تھی جنہیں بعد میں آنے والی صوبائی حکومت نے مستقل کیا یوں صوبائی حکومت پر بھاری بوجھ پڑاتھا ۔ 

کوئٹہ کراچی شہر پر ٹریفک میں اضافہ کے باوجود مختلف صوبائی حکوتوں کے مطالبوں اور وفاقی حکومتوں کے وعدوں کے باوجود مذکورہ شاہراہ کو دو رویہ تک نہ کیا جاسکا اس شاہراہ پر ہونے والے حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد رونگٹے کھڑئے کردینے والی ہیں اب تو اس سڑک کو خونی یا قاتل شاہراہ بھی کہا جاتا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو فوری طور پر کم از کم دو رویہ بنایا جائے ۔ 

پانی کی قلت پورئے صوبے کا سب سے اہم مسلہ ہے اگر وفاقی حکومت آئندہ تین سال میں 16 ڈیمز بنالیتی ہے تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوگی ، گوادر جس پر پورئے ملک کی ترقی کے حوالے سے نظریں لگی ہوئی ہیں وہاں بھی دیگر مسائل کے ساتھ پانی کی قلت ایک بڑا مسلہ ہے ، وفاقی حکومت کو بلوچستان میں ماضی کی روایات کو تبدیل کرتے ہوئے مذکورہ پیکیج پر عمل درآمد کے لئے عملی اقدام کرنے ہوں گے اور اس کے لئے پہلے قدم کے طور پر مذکورہ پیکیج کے لئے قابل زکر فنڈز جلد از جلد جاری کرنے چاہیں ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید