آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بیوی کے علیحدہ رہنے سے ازخود نکاح ختم نہیں ہوتا

تفہیم المسائل

سوال: ایک خاتون کا کینسر کے مرض میں انتقال ہوا، وہ اپنے شوہر سے علیحدہ رہتی تھیں ، طلاق نہیں ہوئی تھی ۔اس کی ایک دس سالہ بیٹی ہے ، جو اپنی نانی کے پاس رہتی ہے ۔خاتون کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟ ترکے میں زیور ، فرنیچر ،رقم اور دیگر سامان ہے ۔ورثاء میں شوہر، ایک بیٹی ، خاتون کی والدہ،تین بھائی اور پانچ بہنیں حیات ہیں ،(ایک بندہ، کراچی)۔

جواب:شادی کے موقع پر دلہن کو اُس کے والدین کی جانب سے جو زیورات، سامان ، لباس اور دیگر اشیاء بطور جہیز دی جاتی ہیں ،خواہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ ،وہ دلہن کی ملکیت ہوتی ہیں ۔اگر کبھی قضائے الٰہی سے اُس خاتون کا انتقال ہوجائے تو وہ تمام سامان اُس کے ترکے میں شامل ہوکر قانونِ وراثت کے اصولوں کے مطابق اُس کے ورثاء میں تقسیم ہوگا ۔علامہ ابن عابدین شامی ؒلکھتے ہیں : ترجمہ:’’پس ہر شخص یہ جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتاہے، اور جب شوہر اسے طلاق دے دے تو وہ تمام جہیز لے لے گی، اور جب اس عورت کا انتقال ہوجائے تووہ جہیز بطور ترکہ اس کے وارثوں کو ملے گااور اِس سے کسی چیز کی تخصیص نہیں،(ردالمحتارعلیٰ الدرالمختار، جلد 2، صفحہ :238،بیروت)‘‘۔

(…جاری ہے…)