آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سبق کو اپنے الفاظ میں لکھنا سیکھیں

اکثر اوقات طلبااس وجہ سے پریشان رہتے ہیںکہ انھیں سبق یاد کرنے میں دقت ہوتی ہے۔ انھیں مضمون تو سمجھ آجاتا ہے مگر وہ من و عن یاد نہیں رکھ سکتے۔ کسی بھی سبق کو بہتر انداز میں پڑھنےاوریاد کرنے کا فارمولا بس اتنا ہے کہ آپ اپنے اندر اس سبق کے لیے دلچسپی پیدا کریں۔ 

اس حوالے سے ایک ہنر نہایت مؤثر مانا جاتا ہے اور وہ ہے دوبارہ فقرےاور جملے بنانا یا اپنے الفاظ میں لکھنا۔ انگریزی زبان میں اسے ری فریزنگ (Rephrasing)کہا جاتا ہے۔ 

پڑھے ہوئے متن کو اپنے الفاظ میں لکھنے سے امتحانات میں سوالات کے جوابات دینے کی بنیادی ضرورت تو پوری ہوتی ہی ہے لیکن اپنے الفاظ میں اظہارِ خیال کرنے کی یہ عادت اگر پختہ ہوجائے تو آپ بہترین لکھاری، مصنف اور مدیر کی حیثیت سے خود کو منواسکتے ہیں۔

یہ عمل کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے کہیں زیادہ سود مند ہوتا ہے کیونکہ اس میں آپ کی ساری توجہ صرف متن کوپڑھنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ جب آپ معلومات کو اپنے الفاظ میں لکھتے ہیں تو یہ عمل آپ کے لیے اسباق کو یاد کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ متن کی نقل نہ کریں بلکہ کتاب بند کرکے اس میں دی گئی معلومات کو مکمل طور پر اپنے انداز میں دوبارہ لکھنے کی کوشش کریں۔ آئیے اس کےگُر اور اہم نکات جانتے ہیں۔

متن اپنے الفاظ میں لکھنا

٭ سب سے پہلے متن کو دھیان سے پڑھیں۔ جب تک آپ اس کو مکمل طور پر سمجھ نہ لیں، یہ عمل دہراتے رہیں۔ مطالعہ کرتے وقت اہم نکات لکھتے جائیں۔ ہر پیراگراف پڑھ کر ذرا رک جائیں اور سوچیں کہ اس میں کیا کہا گیا ہے، ایسے جیسے آپ نے کسی اور کو بتانا ہے۔

٭ اصل مضمون سے الفاظ مت لیجیے۔ اگر آپ کسی مفکر کی بات کومن وعن نہیں لیتے تو پھر مضمون سے الفاظ لینے سے گریز کریں، تحریر میں آپ کا اپنا اسلوب جھلکنا چاہیے۔ سائنسی اصطلاحات تو ناگزیر ہیں، باقی کی معلومات اپنے الفاظ میں لکھیے۔ کچھ طالب علم مضمون میں استعمال کردہ الفاظ کے ’ہم معنی الفاظ‘ نکال لیتے ہیں مگر ایسا کرنا ’سرقہ بندی‘(Plagiarism) میں شمار ہوسکتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ جملے کی بنیادی ساخت کو تبدیل کیا جائے۔

٭ مضمون کے متن میں اضافہ کرنا بھی ایک گُر ہے۔ آپ کا بنیادی مقصد نقل کے بجائے اس معلومات کا استعمال ہونا چاہیے جو آپ کےامتحانی پرچے یا دلیل کی حمایت کرتی ہو۔ اس لیے موجود متن کے علاوہ بھی اپنے مضمون یا پرچے میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

٭ ماخذ یعنی sourceکا حوالہ دینا مت بھولیے۔ جب آپ کام مکمل کرچکیں تو ماخذ کا حوالہ دیں کہ یہ معلومات آپ نے کہاں سے حاصل کی ہیں۔ حوالہ کبھی حاشیوں میں متن کے اندر آتا ہے، کبھی مضمون کے آخر میں، تو کبھی مذکورہ معلومات کے صفحے کے آخر میں۔ ایسا کرنا مضمون سے باہرحاصل کردہ معلومات کے لیے اشد ضروری ہے جس کی اہمیت تحقیقی مقالے کے دوران سِوا ہوجاتی ہے۔

ابہام سے بچنے اور وضاحت کیلئے دوبارہ لکھنا

٭ پیراگراف یا جملہ لکھنے کے بعد اپنے مرکزی نکات کاجائزہ لینے کے لیےاصل مضمون کو دیکھیے کہ آیا کہیں اہم نکات چھوٹ تو نہیں گئے۔ کوشش کریں کہ یہ اہم نکات ایک دوجملوں میں مکمل ہوجائیں، پھر اسے پڑھ کر یقین کرلیں کہ کوئی اور اہم نکتہ تو نہیں رہ گیا۔

٭ کسی بھی الجھادینے والے جملے کو دوبارہ لکھیے۔ جب آپ کوئی بڑا جملہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں ابہام رہ جاتا ہے۔ اس لیے چھوٹے چھوٹے جملے بنائیے تاکہ بات واضح ہو اور آپ کو خود پڑھ کر مزہ آئے۔ آجکل چھوٹے جملے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اخبارات اور رسائل میں بھی طویل جملوں سے اجتناب برتا جاتا ہے۔

٭ تمام ضروری تفصیلات مہیا کریں اور جب دوبارہ لکھیں توتمام ضروری معلومات پر دھیان دیتے ہوئے غیر ضروری تفصیلات نکال دیں۔

نقل سے بچیں

٭ الفاظ بڑھا کر جملے کی ساخت تبدیل کیجیے۔ جب آپ اپنے طور پر دوبارہ لکھیں تو جملوں کی ملتی جلتی ساخت کو تبدیل کرکے نقل سے بچیں۔ اگر ادبی تجزیے میں موضوع کے بجائے کرداروں کے تعلقات پر نقد و نظر پیش کی گئی ہے تو آپ مضمون کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کرداروں کے تعلقات کو ناقدانہ نظر سے تحریر کرسکتے ہیں۔

٭ اپنی تحریر کی فطری آواز، لہجے اور اسلوب کے بارے میں سوچیے۔ اپنا تحریری اسلوب شامل کرتے ہوئے منفرد لب ولہجے میں لکھنے کی کوشش کیجیے۔ اس طرح آپ آزادانہ انداز میں سوچ اور لکھ سکیں گے اور بار بار سبق کی طرف رجوع نہیں کرنا پڑے گا۔

٭ بوقت ضرورت حوالہ جات کا استعمال کریں۔ ضروری معلومات کی صداقت کے لیے حوالہ جات لازمی ہوجاتے ہیں لیکن غیرضروری بھرمار نہ صرف آپ کی تحریر کو بدنما کردے گی بلکہ پڑھنے والے پر بھی اچھا تاثر قائم نہیںہوگا۔ طالب علموں کو چاہیے کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ اب ہم تخلیقی اور انفرادیت کے دور میں جی رہے ہیں اور اسی کے مطابق ہمیں اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔