برطانوی حکومت نے رواں سال کے آخر تک پناہ گزینوں کے لیے نئے، محدود اور محفوظ قانونی راستے متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے، جن کے تحت جامعات، کاروباری ادارے اور کمیونٹی تنظیمیں پناہ گزینوں کی اسپانسر شپ کر سکیں گی۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ نیا نظام کینیڈا کے اسپانسر شپ ماڈل سے متاثر ہے، جس کے تحت مستند ادارے برطانیہ آنے کے خواہشمند پناہ گزینوں کی درخواستوں کی حمایت کر سکیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم مستقبل میں برطانیہ کے پناہ گزینوں کے نظام کا بنیادی حصہ بن جائے گی اور موجودہ یو کے ری سیٹلمنٹ اسکیم کے مقابلے میں زیادہ گنجائش رکھے گی۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد حقیقی پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنا اور نظام میں موجود ان خامیوں کو بند کرنا ہے جن کا ماضی میں ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔
ان کے مطابق برطانیہ ہمیشہ جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والوں کو پناہ دیتا رہا ہے تاہم عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نظام منصفانہ، منظم اور بدعنوانی سے پاک ہو۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انسانی حقوق اور جدید غلامی سے متعلق قوانین کے اطلاق میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ بے بنیاد یا غیر سنجیدہ پناہ کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے، مجوزہ تبدیلیوں کے تحت بعض مجرمان یا جعلی دستاویزات استعمال کرنے والے غیر ملکی شہری جدید غلامی کے قانون کے تحت تحفظ کے حق دار نہیں ہوں گے۔
حکومت کے مطابق یونیورسٹی اسپانسر شپ پروگرام کے لیے درخواستیں رواں سال کے آخر میں کھولی جائیں گی جبکہ پہلی آمد 2027ء میں متوقع ہے، اسی طرح پناہ گزینوں کے لیے روزگار پر مبنی اسپانسر شپ پروگرام آئندہ سال شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے قانونی راستوں کے تحت آنے والوں کی تعداد محدود ہو گی اور تمام درخواست گزار سخت جانچ پڑتال سے گزریں گے۔