آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان کے 40فیصد بچے ضروری مقدار میں غذائیت کی عدم دستیابی یا پھر غیرمتوازن غذا کی وجہ سے جسمانی طور پر غیرکامل نمو (Stunted Growth)کے حامل ہیں۔ سادہ الفاظ میں یہ کہ پاکستان کے ہر 100بچوں میں سے 40 بچے وہ قد اور جسامت حاصل نہیں کرپاتے، جس کی وہ صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو ان کے والدین ان کے لیے مطلوبہ مقدار میں غذائیت سے بھرپور کھانے کا بندوبست نہیں کرپاتے یا پھر ان بچوں کو اکثر ایسی غذا میسر ہوتی ہے جو جسمانی نمو کے لیے ضروری غذائیت سے عاری ہوتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں معاشی خوشحالی ہے، وہاں کے بچوں کی جسامت ان ممالک کے بچوں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے، جہاں غربت زیادہ ہوتی ہے۔

بین الاقوامی شہرت کے حامل طبی جریدے ’’دا لینسٹ‘‘ کی حالیہ تحقیقی رپورٹ میں بھی اسی مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ ’’دا لینسٹ‘‘ کی تحقیق کے مطابق، اسکول جانے کی عمر کے بچوں کو ناکافی خوراک دستیاب ہونے کا اثر ان کے قد پر پڑتا ہے، جس سے قد آور اور چھوٹے قد والی قوموں کے بچوں کے قد میں اوسطاً 20 سینٹی میٹر یا 7 عشاریہ 9 انچ کا فرق آ جاتا ہے۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ2019ء میں دنیا کے سب سے طویل قامت 19 برس کے لڑکوں کا تعلق ہالینڈ سے تھا، جن کا قد 6 فٹ تھا اور دنیا کا سب سے پست قامت 19 برس کے لڑکے کا تعلق ملک تمور لیستے سے تھا، اس کا قد صرف پانچ فٹ تین انچ تھا۔تحقیق میں ایسے غیرمعمولی پست قامت افراد کو شامل نہیں کیا گیا، جن کی جسمانی نمو کسی بیماری، جسمانی نقص یا خاندانی تاریخ کی وجہ سے متاثر ہوئی۔

اگر برطانیہ کی بات کی جائے تو2019ء میں وہاں کے 19برس کے لڑکے اپنے قد کے اعتبار سے دنیا بھر کے ملکوں میں 39ویں نمبر پر تھے، ان کے قد اوسطاً 5 فٹ 10 انچ ریکارڈ کیے گئے جبکہ 1985ء میں برطانیہ اس حوالے سے دنیا بھر میں 28ویں نمبر پر تھا۔ 

طبی نقطہ نظر سے، دنیا بھر کے ملکوں کے بچوں کے قد اور وزن کا ریکارڈ رکھنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان اعداد و شمار سے ان ملکوں میں بچوں کو دستیاب خوراک، صحت کی سہولیات، صحت مند ماحول اور فضا میسر ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

زیرِ تبصرہ ایک وسیع تحقیق ہے، جس میں لینسٹ کی ٹیم نے ساڑھے 6 کروڑ بچوں، جن کی عمریں 5 سے 19 برس کے درمیان تھیں، کا1985ء سے لے کر 2019ء تک دو ہزار سے زیادہ مرتبہ مشاہدہ کیا۔ ان مشاہدوں کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوئی کہ 2019ء میں دنیا بھر میں شمالی، مغربی اور وسطی یورپ میں پرورش پانے والے بچوں اور نوجوانوں کے قد سب سے زیادہ تھے۔ 

اسی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں سب سے کم قد جنوب اور جنوبی مشرقی ایشیا، لاطینی امریکا اور مشرقی افریقا کے خطے کے ملکوں میں بسنے والے نوجوانوں کا ہے۔

چیدہ چیدہ حقائق

٭ اوسطاً لاؤس کے 19 سال کے نوجوانوں کا قد ہالینڈ کے13 سال کے بچوں کے برابر ہے۔

٭ گوئٹے مالا، بنگلا دیش، نیپال اور تمور لیستے میں 19 سال کی عمر کی لڑکیوں کا اوسطاً قد ہالینڈ کی 11 سال کی لڑکیوں کے اوسط قد کے برابر ہے۔

٭ گذشتہ 35برس میں جن قوموں کے نوجوانوں کے قد میں واضح فرق دیکھنے میں آیا ہے، ان میں چین اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

بی ایم آئی کی افادیت

رپورٹ میں بچوں کے بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) کا بھی مشاہدہ کیا گیاہے۔ بی ایم آئی ایک ایسا طریقہ کار یا معیار ہے جس میں بچوں کے وزن اور قد، دونوں کو دیکھا جاتا ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بحرالکاہل کے جزائر، مشرق وسطیٰ، امریکا اور نیوزی لینڈ میں بسنے والے نوجوانوں کا بی ایم آئی سب سے زیادہ ہے۔ 19سال کے نوجوانوں میں سب سے کم بی ایم آئی، جنوبی ایشیا کے ملکوں بنگلادیش اور بھارت کے نوجوانوں کا ہے۔ اس طرح، جن ملکوں کے نوجوانوں کا بی آئی ایم سب سے زیادہ ہے اور جن ملکوں کے نوجوانوں کا بی ایم آئی سب سے کم ہے، ان کے وزن کا اوسط فرق 25 کلو گرام ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ لوگوں کے قد اور وزن کا تعلق ان کی جینیات سے بھی ہوتا ہے لیکن جب معاملہ پوری قوم کی صحت کا آتا ہے تو اس میں خوراک اور ماحول بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ’’دالینسٹ‘‘ کی رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ عالمی سطح پر جب خوراک کی دستیابی کے بارے میں پالیسی سازی کا مرحلہ آتا ہے تو پوری توجہ 5سال سے کم عمر بچوں کو دستیاب خوراک پر دی جاتی ہے، تاہم اس سے بڑی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی نشوونما پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔