آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چند روز قبل ایک اخبار میں سرخی دیکھی :ــ’’ فلاں سیاست داں کے اثاثوں میں خاطر خواہ کمی ‘‘۔بہت تعجب ہوا کہ یہ کون سا سیاست داں ہے جو اپنے اثاثوں میں کمی چاہتا تھا کیونکہ خاطر خواہ کے معنی ہیں مطلوبہ، خواہش کے مطابق۔ 

تفصیل پڑھی تو معلوم ہوا کہ ان صاحب کے اثاثوں میں اچھی خاصی کمی ہوگئی ہے لیکن اثاثوں میں کمی کی کسی خواہش کا ذکر نہیں تھا۔گویا خبر نویس نے خاطر خواہ کی ترکیب کو ــ’’کافی، بہت یا اچھی خاصی ‘‘ کے معنوں میں استعمال کیا تھا ۔ اب جبکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے خطرہ یہ ہے کہ کوئی اخبار یہ خبر نہ چھاپ دے کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں ’’خاطر خواہ ‘‘ اضافہ۔

اور یہ خطرہ کوئی خیالی بات نہیں ہے کیونکہ اب تو چشم ِبد دور بعض اخبار نویس ’’سِکھا ‘‘ کو ’’سیکھا ‘‘ اور ’’دِ کھا‘‘ کو’’ دیکھا ‘‘لکھنے لگے ہیں۔ گویا جن لوگوں کا املا چوتھی پانچویں جماعت کے بچوں سے بھی گیا گزرا ہے وہ ماشا ء اللہ اخبارات میں خبریں لکھنے کے کام پر مامور ہیں۔ کمال افسوس تجھ پر اے کمال افسوس۔

کچھ وضاحت’’ خاطر خواہ ‘‘کی کردی جائے۔ خاطر عربی کا لفظ ہے جس کے متعدد معنی اسٹین گاس نے اپنی فارسی و عربی بہ انگریزی لغت میں درج کیے ہیں، مثلاًجو بات دل میں آئے، وہ خیال جو ذہن میں گزرے، دھیان، ارادہ، طبیعت ، مزاج، ذہن ، دل ۔اب لفظ خواہ کو دیکھیے۔ فارسی میں ایک مصدر ہے خواستن، جس کے معنی ہیں چاہنا، آرزو کرنا، خواہش رکھنا۔ 

گویا خاطر خواہ کے معنی ہیں جس کو دل چاہے ، طبیعت کو جس کی خواہش ہو ، جو مطلوب ہو۔ لفظ’’ خواہ‘‘ اردو میں لاحقے کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، مثلاً دل خواہ (جس چیز کو دل چاہے )،خیر خواہ (جو خیر چاہے)، خاطر خواہ (جس کو طبیعت چاہے)، قرض خواہ (جو قرض واپس لینا چاہے)، عذر خواہ (جوعذر چاہے یعنی عذر پیش کرے)، بد خواہ (جو برا چاہے) وغیرہ۔

گویا یہاں خبر میں’’ خاطر خواہ کمی ‘‘ کی بجاے واضح کمی یانمایاںکمی لکھنا چاہیے تھا۔ ہاں اگر کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد اچھی خاصی کم ہوجائے تو یہ خبر یوں دی جاسکتی ہے کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ۔ یعنی اضافہ یا کمی خواہش کے مطابق ہو تو اس کو خاطر خواہ لکھ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ 

اگر کسی بری چیز مثلاً بیماری یا آفت میں اضافہ ہوتو اسے خاطر خواہ کہنا غلط ہے۔اگر کسی اچھی چیز مثلاً دولت یا اثاثوں میں کمی ہوجائے تو اسے خاطر خواہ کہنا عجیب ہی سمجھاجائے گا۔ ہاں البتہ اگر کسی کا دل چاہ رہا ہو کہ اس کی دولت اِتنی حد تک کم ہوجائے اور وہ اُتنی ہی کم ہو تب کہا جائے گا کہ ان کی دولت میں خاطر خواہ کمی ہوگئی۔ لاحو ل ولا قوۃ۔